
میری شادی کو چار سال اور سترہ دن ہو چکے ہیں شادی کے بعد میں تقریباً نو سے دس ماہ تک اپنے شوہر کے گھر رہی، لیکن شوہر نے میری کوئی پرواہ نہیں کی، بیماری میں میرا خیال نہیں رکھا اور گھر کا پورا خرچ بھی نہیں دیا،”گھر کو چلانےکےلیے تقریباً40 فیصد خرچہ مجھے اپنے والدین کے گھر سے لینا پڑتا تھا۔“
شوہر ہمیشہ یہی کہتا تھا کہ تم مجھے پسند نہیں ہو، میری والدہ نے یہ رشتہ کروایا ہے،اس لیےدس ماہ بعد میں اپنے والدین کے گھر آگئی، اور وہیں میری بیٹی کی پیدائش ہوئی،بیٹی پانچ ماہ کی ہوگئی، تب تک شوہر نے نہ خرچہ دیا اور نہ کوئی رابطہ کیا۔
خاندان کے بڑوں کے کہنے پرکچھ صلح صفائی کرکےمیں ڈیڑھ مہینے کے لیے دوبارہ شوہر کے گھر چلی گئی، لیکن وہاں بھی بیٹی کے بیمار ہونے پر شوہر نے نہ خود علاج کروایا اور نہ مجھے ڈاکٹر کے پاس جانے دیا،میرے والدین علاج کرواتے رہے، لیکن بچی کا انتقال ہوگیا، بچی کی پیدائش اور علاج کا سارا خرچہ بھی میرے والدین نے برداشت کیا۔
بچی کے انتقال کو دو سال آٹھ ماہ ہو چکے ہیں اور میں والدین کے گھر رہ رہی ہوں، اس مدت میں شوہر نے نہ خرچہ دیا، نہ کوئی رابطہ کیا، اب شوہر نے دوسری شادی بھی کر لی ہے، اور اس کی والدہ کہتی ہیں کہ ہم نہ اسے طلاق دیں گے اور نہ ہی اسے اپنے پاس رکھیں گے۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ میں اس صورتِ حال میں شرعاً کس طرح شوہر سے علیحدگی حاصل کر سکتی ہوں؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعہ کے مطابق اور درست ہے تو سائلہ کے شوہر کا رویہ انتہائی نامناسب اور غیر معقول ہے، اگر کسی وجہ سے شوہر کے لیے نباہ ممکن نہ ہو اور مسئلہ کی حل کی کوئی صورت بھی نظر نہ آتی ہو اور شوہر اور بیوی کے درمیان ذہنی ہم آہنگی نہیں ہے تو بیوی کے معاملہ کو لٹکانے کے بجائے شوہر کو ایک طلاق دے کر یا خلع پر رضامندی ظاہر کے نکاح کو ختم کردینا چاہیے، بیوی کی حق تلفی کرنا اور اس سے نہ رابطہ کرنا، نہ خرچہ دینا اور نہ ہی طلاق پر رضامند ہونا یہ مسلسل اور مستقل گناہ شوہر کے کاندھے پر ہے، اس لیے اس میں اسے مثبت فیصلہ کرنا چاہیے؛ تاکہ آخرت میں اس کا معاملہ بھی کہیں یوں لٹک نہ جائے۔
لیکن اگرشوہر آئندہ کےلیے بھی نہ طلاق دینے پر راضی ہو اور نہ اپنے پاس رکھنے اورنہ نفقہ دینے پر راضی ہو اور نہ خلع پر راضی ہو توبیوی (سائلہ)عدالت میں تنسیخ نکاح کی درخواست دائر کرکے شوہر سے خلاصی لے لے، جس کا طریقۂ کار یہ ہے کہ عورت مسلمان قاضی/ جج کی عدالت میں حاضر ہوکر اس کے سامنے اپنے نکاح اور اس کے بعد شوہر کے اس تعنت ( خرچہ نہ دینے) کے دعویٰ کو دو شرعی گواہوں کی گواہی سے ثابت کرے، اور تنسیخِ نکاح کا مطالبہ کرے،اس کے بعد قاضی/ جج شوہر کو بلا کر اسے حکم دے کہ اپنی بیوی کے حقوق نان نفقہ ادا کرو، یا طلا ق دے دو، ورنہ ہم تفریق کردیں گے، اس کے بعد بھی اگر وہ انکار کرے، یا عدالت میں حاضر ہی نہ ہو تو جج/ قاضی کو اختیار حاصل ہوگا کہ نکاح کو فسخ کردے، فسخِ نکاح کے بعد عورت کسی اور شخص سے نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ} [البقرة: 229]
ترجمہ: سو اگر تم لوگوں کو یہ احتمال ہو کہ وہ دونوں ضوابطِ خداوندی کو قا ئم نہ کرسکیں گے تو دونوں پر کوئی گناہ نہ ہوگا اس (مال کے لینے دینے) میں جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑالے۔ (از بیان القرآن)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول."
(کتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة، ج:3، ص:145، ط:دار الكتب العلمية)
حیلہ ناجزہ میں ہے:
"وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير ما نصه: إن منعها نفقة الحال فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه. قال محشيه: قوله: وإلا طلق، أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم، إلى أن قال: وإن تطوع بالنفقة قريب أو أجنبي، فقال ابن القاسم: لها أن تفارق؛ لأن الفراق قد وجب لها، وقال ابن عبد الرحمن: لا مقال لها؛ لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتفى وهو الذي تقضيه المدونة كما قال ابن المناصف.أنظر الحطاب. انتهى."
(ص: 150، ط:دار الإشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100154
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن