
زید نے اپنی بیوی کو کہا کہ "ایک، دو، تین، تجھے طلاق ہے" ان الفاظ سے طلاقِ رجعی واقع ہوگی یا طلاقِ مغلظہ؟اگر مذکورہ صورت میں آدمی نے تین طلاق کی نیت کی ہو تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی یا نہیں؟ اور اگر تین کی نیت نہ کی ہو تو عرف کے اعتبار سے تین طلاقیں واقع ہوں گی یا نہیں؟ کیوں کہ عرفِ عام میں لوگ اس کو تین طلاقیں سمجھتے ہیں، اس لیے آپ یہ وضاحت کردیں کہ اس میں عرف کا اعتبار ہوگا یا نہیں؟
واضح رہے کہ طلاق واقع ہونے کی بنیادی شرط طلاق کے صریح یا کنائی الفاظ کا تلفظ کرنا ہے ، جب تک طلاق کے الفاظ کا تلفظ نہیں کیا جائے اس وقت تک طلاق واقع نہیں ہوسکتی ہے، چناں چہ "ایک، دو، تین" میں طلاق کا کوئی صریح یا کنائی لفظ نہیں ہے، اس لیے ان الفاظ سے کسی قسم کی طلاق واقع نہیں ہوتی، خواہ طلاق کی نیت ہو یا نہ ہو، اسی طرح چوں کہ "ایک، دو، تین" میں طلاق کا کوئی صریح یا کنائی لفظ نہیں ہے ؛ اس لیے لوگوں کا اسے طلاق کے الفاظ سمجھنے کے باوجود ان الفاظ سے کسی قسم کی طلاق واقع نہیں ہوتی، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں زید نے اپنی بیوی کو جو جملہ کہا کہ" ایک، دو، تین، تجھے طلاق ہے" اس جملے کے ابتدائی الفاظ یعنی "ایک، دو، تین" سے کسی قسم کی طلاق واقع نہیں ہوئی، خواہ زید کی نیت طلاق کی ہو یا طلاق کی نیت نہ ہو۔اور خواہ زید کے عرف میں اسے طلاق کے الفاظ سمجھا جاتا ہو یا نہ سمجھا جاتا ہو۔
البتہ جملے کے آخری حصے یعنی "تجھے طلاق ہے" سے ایک رجعی طلاق واقع ہوچکی ہے، طلاقِ رجعی ہونے کی وجہ سے مذکورہ شخص کوبیوی کی عدت گزرنے سے پہلے رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے، اگر بیوی حاملہ نہ ہو تو طلاق کے بعد تین مکمل ماہواریاں گزرنے تک عدت باقی رہے گی، تین مکمل ماہواریاں گزرتے ہی عدت ختم ہوجائے گی، لیکن اگر طلاق کے وقت بیوی حاملہ ہو تو بچے کی پیدائش تک عدت باقی رہے گی، بچہ پیدا ہوتے ہی عدت ختم ہوجائے گی، بہرحال عدت کے اندر رجوع کرنے کی صورت میں دونوں کا نکاح باقی رہے گا اور دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، البتہ عدت کے اندر رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت ختم ہوتے ہی نکاح ٹوٹ جائے گا اور پھر دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نئے سرے سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کرنا پڑے گا ۔ بہرحال خواہ عدت کے اندر رجوع کیا جائے یا عدت کے بعد تجدیدِ نکاح کیا جائے آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا، بشرطیکہ اس سے پہلے اس بیوی کو کوئی طلاق نہ دی ہو۔
رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر بیوی سے کہے کہ میں آپ سے رجوع کرتا ہوں، یہ قولی رجوع کہلاتا ہے، یا شوہر بیوی کے ساتھ زوجین والے تعلقات قائم کرلے ، یہ فعلی رجوع کہلاتا ہے، بہتر یہ ہے کہ قولی رجوع کرکے اس پر گواہ مقرر کرلیے جائیں۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وركنه لفظ مخصوص.
(قوله: وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية ... الخ."
(کتاب الطلاق،رکن الطلاق،ج:3،ص:230،ط:سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"(و الطلاق يقع بعدد قرن به لا به) نفسه عند ذكر العدد، و عند عدمه الوقوع بالصيغة"
"(قوله: و الطلاق يقع بعدد قرن به لا به) أي متى قرن الطلاق بالعدد كان الوقوع بالعدد بدليل ما أجمعوا عليه من أنه لو قال لغير المدخول بها: أنت طالق ثلاثًا طلقت ثلاثًا، و لو كان الوقوع بطالق لبانت لا إلى عدة فلغا العدد، و من أنه لو قال: أنت طالق واحدة إن شاء الله لم يقع شيء و لو كان الوقوع بطالق لكان العدد فاصلًا فوقع."
(کتاب الطلاق، باب طلاق غیر المدخول بھا، مطلب الطلاق يقع بعدد قرن به لا به، ج:3،ص:287، ط: سعيد)
فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:
"(سوال)شخصے در حالت غضب زوجہ خود را گفت یکے ۔دو ۔سہ برو مادر و خواہر من ہستی بلا ذکر لفظ طلاق و بلا مذاکرہ طلاق ۔پس دریں صورت کدام طلاق واقع شود؟
(جواب)بدون لفط طلاق و بدون مذاکرہ طلاق از لفظ یکے ،دو ،سہہ مادر و خواہر من ہستی طلاق واقع نشود ۔واز لفط مادر و خواہر من ہستی بلا حرف تشبیہ طلاق واقع نہ شود ...الخ."
(کتاب الطلاق،ج:9،ص:284،ط:دار الاشاعت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"و إذا طلق الرجل امرأته تطلييقةً رجعية أو رجعيتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض، كذا في الهداية."
(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة، ج:1، ص:470، ط:رشيدية)
بدائع الصنائع میں ہے:
"أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت، وهذا عندنا."
(کتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق، ج:4، ص:491، ط :رشیدیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس.
(قوله: بنحو راجعتك) الأولى أن يقول بالقول نحو راجعتك ليعطف عليه قوله الآتي وبالفعل ط، وهذا بيان لركنها وهو قول، أو فعل... (قوله: مع الكراهة) الظاهر أنها تنزيه كما يشير إليه كلام البحر في شرح قوله والطلاق الرجعي لا يحرم الوطء رملي، ويؤيده قوله في الفتح - عند الكلام على قول الشافعي بحرمة الوطء -: إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائماً قبل انقضائها. اهـ ... (قوله: كمس) أي بشهوة، كما في المنح."
(كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:3، ص:397، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712101153
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن