
اگر شوہر اپنی بیوی سے غصے کی حالت میں کہے کہ اگر آپ نے فلاں کام کیا تو تم میری ماں کی طرح ہو، جبکہ شوہر کی اس جملے سے کوئی نیت بھی نہیں ہے ، اس کا کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ جملہ "تم میری ماں کی طرح ہو" سے شوہر کی کوئی نیت نہ ہو ،تو اس جملہ سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ،نہ طلاق واقع ہوگی اور نہ ظہار ہوگا،نکاح بدستور قائم رہے گا۔
بحر الرائق میں ہے :
"وإن نوى بأنت علي مثل أمي برا أو ظهارا أو طلاقا فكمانوى و إلا لغا"
(كتاب الطلاق ،4 /98، ط: رشيدية)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
’’ولو قال لها: أنت علي مثل أمي أو كأمي ينوي، فإن نوى الطلاق وقع بائناً... و إن لم تكن له نية فعلی قول أبي حنيفة رحمه الله تعالي لايلزمه شيء حملاً للفظ علی معنی الكرامة، كذا في الجامع الصغير‘‘.
(كتاب الطلاق،ج:1،ص:507 ، ط: رشيدية)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100008
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن