بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا کہنا کہ کورٹ سے یک طرفہ خلع لے لو،لیکن میں کورٹ میں نہیں آوں گا کا حکم


سوال

میری شادی 2010 میں ہوئی تھی اور میں اپنے شوہر کے ساتھ ایک سال رہی اور ایک سال بعد میں اپنے والد کے گھر واپس آگئی تھی کیونکہ میرے شوہر کسی قسم  کاخرچہ اٹھاتےتھے، نہ ہی کوئی ضرورت پوری کرتے  تھے۔
2011 سے میں اپنے والد کے گھر پر   ہوں۔میرے شوہر مجھے نان نفقہ بھی نہیں دیتے،نہ اپنے گھر میں رکھنے پر راضی ہیں اور نہ ہی  مجھے طلاق دیتے ہیں۔جب ان سے مطالبہ کرتی ہوں تو کہتے ہیں کہ کورٹ سے یک طرفہ خلع لے لو،لیکن میں کورٹ میں نہیں آوں گا۔جب ان سے نان نفقہ کا مطالبہ کیا تو کہتے ہیں کہ غیر اخلاقی کام کرکے اپنا خرچہ پورا کرو۔
اب میں اپنا رشتہ ِ نکاح ان سے کیسے ختم کروں؟میں کب تک اپنے والد کے گھر پر رہوں گی ۔میں اپنا گھر بسانا چاہتی ہوں ۔میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً  سائلہ کے شوہرنے یہ کہا ہے کہ"کورٹ سے یک طرفہ خلع لے لو،لیکن میں کورٹ میں نہیں آوں گا"  تو سائلہ کے شوہر کے ان  الفاظ سے خلع  پر رضامندی اور اس کی اجازت سمجھی جائے گی۔لہٰذا شوہر کی مذکورہ رضامندی کےبعد سائلہ اگر کورٹ سے خلع کی ڈگری حاصل کرلےتو سائلہ پر ایک طلاق ِ بائن واقع ہو جائے گی اور عدت (پوری تین ماہواریاں اگرحمل  نہ ہو،اگر حمل  ہو تو بچہ کی  پیدائش تک) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا مات رب الوديعة فالوارث خصم في طلب الوديعة، كذا في المبسوط."

(کتاب الودیعة،الباب السابع في رد الوديعة،ج:4،ص:354،دار الفكر)

بدائع الصنائع ميں  ہے:

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول ؛ لأنه عقد علي الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول".

(کتاب الطلاق،فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة، ج:3، ص:145، ط:دار الكتب العلمية)

 الانصاف فی معرفۃ الراجح من الخلاف  ميں ہے:

"قوله (فإن ‌امتنع ‌من ‌الحضور: سمعت البينة، وحكم بها في إحدى الروايتين) . وهو المذهب. اختاره أبو الخطاب، والشريف أبو جعفر. وقدمه في الفروع. وهو ظاهر ما جزم به في الرعاية الصغرى، والحاوي الصغير".

(باب طريق الحكم وصفته، ج:11، ص:302، ط:دار إحياء التراث العربي)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض."

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:6، ص:173، ط:دارالمعرفة بیروت)

وفیہ ایضاً:

"وإذا اختلعت المرأة من زوجها فالخلع جائز، والخلع تطليقة بائنة عندنا."

(باب الخلع، ج: 6، ص 308 ط: دار المعرفة)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801100583

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں