
میری بیوی کے ساتھ لڑائی ہوئی، لڑائی کے دوران میں نے دو بار اس کو کہا کہ میں طلاق دیتا ہوں، یہ 9جون کو میں نے کہا تھا،پھر وہ گھر چلی گئی، پھر 26 جون کو میں نے طلاق نامہ بنوایااورپڑھا اور دستخط کیےپھر بیوی کو بھیج دیا،سوال یہ ہے کہ طلاق واقع ہوگئی؟
وضاحت:سائل نے دو طلاق دینے کےکچھ نوں بعد بیوی سےقولی رجوع کرلیا تھا،پھر غصہ میں آکر اسی مہینے میں تین طلاق کا طلاق نامہ بنا کر بھیج دیا۔
صورت مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہےکہ"میں طلاق دیتا ہوں، میں طلاق دیتا ہوں " تو ان الفاظ سے اس کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوگئی ہیں، عدت کے دوران شوہر نے رجوع کرلیا تھا،اس کے بعد شوہر کو صرف ایک طلاق دینے کا اختیار باقی تھا ،لیکن سائل نے اپنی بیوی کو اسی مہینے طلاق نامہ بھیجوایا جس میں تین طلاقیں درج تھیں،تو اس صورت میں سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں، نکاح ختم ہو گیا، بیوی اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی،بیوی اپنی عدت (تین ماہ واریاں اگر حمل نہ ہو، اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک عدت ) گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن کان الطلاق ثلاثاً في الحرة وثنتین في الأمة لم تحل ل حتی تنکح زوجًا غیره نکاحًا صحیحًا ویدخل بها، ثم یطلقها أو یموت عنها".
(کتاب الطلاق، الباب السادس، ج:1، ص:535، ط:رشیدیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101329
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن