بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا بیوی کو ہم میاں بیوی نہیں ہیں، بلکہ ہم محبوب اور محبوبہ ہیں یا یہ کہ ہم عاشق معشوق ہیں کہنے کا حکم


سوال

خاوند کی نیت اگر طلاق کی نہ ہو، اور اپنی بیوی کو پیار میں کہے: ”ہم میاں بیوی نہیں ہیں، بلکہ ہم محبوب اور محبوبہ ہیں“ یا یہ کہا ہو کہ ”ہم عاشق معشوق ہیں“ اور تین چار مرتبہ اس طرح کے الفاظ کہے ہوں،توکیا ایسا کہنے سے طلاق واقع ہو جائے گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں شوہر کے یہ الفاظ ”ہم میاں بیوی نہیں ہیں،بلکہ ہم محبوب اور محبوبہ ہیں یا یہ کہ ہم عاشق معشوق ہیں“ کہنے سے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے؛کیوں کہ اس جملے کا پہلا حصہ”ہم میاں بیوی نہیں ہیں“ کنائی الفاظ میں سے ہے،اور اس سے طلاق واقع ہونے کے لئے نیت کی شرط ہے،جب کہ یہاں شوہر طلاق کی نیت کا انکار کررہا ہے۔نیز اس جملے کا دوسرا حصہ”بلکہ ہم محبوب اور محبوبہ ہیں یا یہ کہ ہم عاشق معشوق ہیں“ بھی طلاق کی نیت نہ ہونے پر دلالت کررہا ہے،تاہم ایسا جملہ محبت میں استعمال کرناکہ ہم میاں بیوی نہیں ہیں، بلکہ ہم محبوب ومحبوبہ ہیں،میاں بیوی کے حقیقی مقام سے ناواقفیت اور نادانی ہے؛کیوں کہ اسلام میں حقیقی اور دائمی محبت تو میاں بیوی میں ہونی چاہیے،عاشق معشوق والی محبت وقتی ہے اور اس میں جائز اور ناجائز دونوں صورتیں شامل ہیں،لہٰذا ایسا جملہ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ولو قال لامرأته لست لي بامرأة أو قال لها ما أنا بزوجك أو سئل فقيل له هل لك امرأة فقال لا فإن قال أردت به الكذب يصدق في الرضا والغضب جميعا ولا يقع الطلاق وإن قال نويت الطلاق يقع في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وإن قال لم أتزوجك ونوى الطلاق لا يقع الطلاق بالإجماع كذا في البدائع."

(كتاب الطلاق،الباب الثاني في إيقاع الطلاق ،الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق،ج: 1،ص: 354،ط: رشيديه)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711100601

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں