بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا اپنی بیوی کو کہنا کہ میں تمہیں چھوڑدوں گا کا حکم


سوال

میری شادی کو دو ماہ ہوئے ہیں، میں نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ اگر میں خراب تھا تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا، یہ بات بچوں کے حوالے سے ہو رہی تھی، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل کا  اپنی بیوی کو  یہ الفاظ کہنا کہ" اگر   میں خراب تھا تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا" ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے، اس لیے مذکورہ الفاظ آئندہ مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی کے ہیں ،اور شرعاًدھمکی کے ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے،لہذا نکاح بدستور قائم اور برقرار ہے۔

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:

"صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام۔"

(كتاب الطلاق ج:1 ،ص:38،ط:دار المعرفة)

البحرالرائق میں ہے:

" وليس منه أطلقك بصيغة المضارع۔"

(کتاب الطلاق ، باب الفاظ الطلاق،ج:3،ص:271،ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101385

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں