
میرا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا، اس جھگڑے کے دوران میں نے اپنی بیوی سے کہا: "طلاق، طلاق، طلاق"۔ میں ڈپریشن کی گولیاں بھی لیتا ہوں، اور بقول ایک عالم کے، مجھ پر اور میری بیوی پر جادو کیا گیا ہے۔
کیا دوبارہ رجوع کی گنجائش ہے؟ یا دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے؟ میری بیوی بھی واپس آنے کے لیے تیار ہے۔
وضاحت: میری دو بیٹیاں ہیں۔ ایک کی عمر پانچ سال ہے، اور دوسری کی عمر ڈھائی سال ہے۔ ان کی پرورش کے لیے ہم دونوں دوبارہ رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ پھر بچوں کا نان و نفقہ کتنا ہوگا اور کس کے ذمہ ہوگا؟
صورت مسئولہ میں سائل کا اپنی بیوی کو جھگڑے کے دوران تین مرتبہ "طلاق، طلاق، طلاق" کہنے سے سائل کی بیوی پر اسی وقت تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،نکاح ختم ہوچکاہے،بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ،لہذا سائل کےلیے مطلقہ بیوی سے اب رجوع کرنا یادوبارہ نکاح کرنا حرام ہوگا،پس مذکورہ خاتون اپنی کاعدت (مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور ماہواری آتی ہو،اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
صورت مسئولہ میں سائل کی دونوں بیٹیوں کا نفقہ ودیگر تمام اخراجات بیٹیوں کی شادی ہونے تک سائل پرلازم ہوں گے،جب کہ بچیوں کی عمر نو سال مکمل ہونےتک ان کی ماں انہیں اپنی پرورش میں رکھنے کی حق دار ہوگی،اور نو سال عمر مکمل ہوجانے کےبعد والد بیٹیوں کی تعلیم وتربیت اپنے زیر نگرانی کرنے کا حق دار ہوگا،البتہ اگر سائل بچیوں کو ماں کےپاس رہنے دینے کو تیار ہو تو اس کی اجازت ہوگی،نیز بچیوں کی عمر نوسال مکمل ہونے سے قبل ان کی ماں اگر بچیوں کے کسی غیر محرم سے شادی کرلیتی ہے تو پھر ان کی پرورش کی ذمہ داری بچیوں کی نانی کی ہوگی،نانی حیات نہ ہوں تو دادی ذمہ دار ہوں گی۔
امداد الفتاویٰ میں ہے:
"سوال:میں نے حالتِ غصہ میں یہ کلمے کہے ہیں، (طلاق دیتا ہوں، طلاق، طلاق) اور میں نے کوئی کلمہ فقرہ بالا سے زیادہ نہیں کہا، اور نہ میں نے اپنی منکوحہ کا نام لیا، اور نہ اس کی طرف اشارہ کیا، اور نہ وہ اس جگہ موجود تھی، اور نہ اس کی کوئی خطا ہے، یہ کلمہ صرف بوجہ تکرار کے نکلے، جس وقت میرا غصہ فرو ہوا تو وہ اپنی زوجہ کو لے آیا، ان دو اشخاص میں ایک میرے ماموں اور ایک غیر شخص ہے، اور مستوراتیں ہیں۔
جواب: چونکہ دل میں اپنی ہی منکوحہ کو طلاق دینے کا قصد تھا، لہذا تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں۔"
(کتاب الطلاق، جلد:2، صفحہ:427، طبع: مکتبہ دار العلوم کراچی)
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند میں ہے:
’’سوال: زید نے اپنے والدین سے غصہ کی حالت میں بوجہ خفگی والدین اس کی زوجہ پر اور اس پر یہ الفاظ کہے: طلاق، طلاق، طلاق، تین مرتبہ یعنی اس لفظ طلاق کو کسی طرف منسوب نہیں کیا اور یہ کہا کہ میں کہیں چلا جاؤں گا یا بھیک مانگ کر کھاؤں گا، آیا یہ طلاق ہوگئی یا نہیں؟
جواب: موافق تصریح علامہ شامی کے اس صورت میں زید کی زوجہ مطلقہ ثلاثہ ہوگئی۔‘‘
(کتاب الطلاق،ج:9،ص:196،ط:: دارالاشاعت)
فتاوی شامی میں ہے:
"و لايلزم كون الإضافة صريحةً في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له: من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. اهـ"
(کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، ص:248، ج:3، ط:سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] "
(کتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق البائن،ج:3،ص:187،ط:دارالکتب العلمیة)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."
(کتاب الطلاق باب الرجعة، ج :1، ص:473، ط: دار الفکر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة"
(کتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الاولاد، ج:1، ص:560، ط:رشيدية)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين ... وبعدما استغنى الغلام وبلغت الجارية فالعصبة أولى يقدم الأقرب فالأقرب كذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة،ج:1،ص:542، ط: رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100056
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن