
ایک عورت کا انتقال ہو گیا۔ اس کے ورثاء میں دو بیٹے، ایک بیٹی اور شوہر موجود ہیں۔ مرحومہ کے والدین پہلے ہی انتقال کر چکے تھے، اس لیے اب ورثاء صرف دو بیٹے، ایک بیٹی اور شوہر ہیں۔مرحومہ کے ترکہ میں ایک لاکھ روپے نقد اور چھ ماشہ سونا شامل ہے۔
اس ترکہ کی شرعی تقسیم کا طریقہ کیا ہوگا؟
کیا دونوں بیٹوں کی بیویوں کو بھی کوئی حصہ ملے گا، حالانکہ ان کے شوہر ابھی زندہ ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر مرحومہ کے ذمے کوئی قرض ہو تو سب سے پہلے وہ قرض کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحومہ نے کوئی وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی نافذ کرنے کے بعد،بقیہ کل ترکہ (منقولہ اور غیر منقولہ )کو 20 حصوں میں تقسیم کرکے 5 حصے مرحومہ کے شوہر کو ،6 حصے ہر ایک بیٹے کو اور 3حصے مرحومہ کی بیٹی کو ملیں گے
صورت تقسیم یہ ہے :
میت:(مرحومہ )4/ 20
| شوہر | بیٹا | بیٹا | بیٹی |
| 1 | 3 | ||
| 5 | 6 | 6 | 3 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے 25 فیصد شوہر کو ،30 فیصد ہر ایک بیٹے کو ،اور 15 فیصد مرحومہ کی بیٹی کو ملے گا۔
جب کہ بیٹوں کی بیویاں ،مرحومہ کے ترکہ میں وارث نہیں ہیں ۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101247
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن