بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے درمیان ترکہ تقسیم کرنے کا طریقہ


سوال

ایک عورت کا انتقال ہو گیا۔ اس کے ورثاء میں دو بیٹے، ایک بیٹی اور شوہر موجود ہیں۔ مرحومہ کے والدین پہلے ہی انتقال کر چکے تھے، اس لیے اب ورثاء صرف دو بیٹے، ایک بیٹی اور شوہر ہیں۔مرحومہ کے ترکہ میں ایک لاکھ روپے نقد اور چھ ماشہ سونا شامل ہے۔

اس ترکہ کی شرعی تقسیم کا طریقہ کیا ہوگا؟

کیا دونوں بیٹوں کی بیویوں کو بھی کوئی حصہ ملے گا، حالانکہ ان کے شوہر ابھی زندہ ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مرحومہ کے ذمے کوئی قرض ہو تو سب سے پہلے وہ قرض کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحومہ نے کوئی وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی نافذ کرنے کے بعد،بقیہ کل ترکہ (منقولہ اور غیر منقولہ  )کو 20  حصوں میں تقسیم کرکے  5 حصے مرحومہ کے شوہر  کو ،6 حصے ہر ایک بیٹے  کو اور 3حصے مرحومہ کی  بیٹی کو ملیں گے 

صورت تقسیم یہ ہے :

میت:(مرحومہ )4/ 20

شوہربیٹابیٹابیٹی
13
5663

یعنی فیصد کے اعتبار سے 25 فیصد شوہر کو ،30 فیصد ہر ایک بیٹے کو ،اور 15 فیصد مرحومہ کی  بیٹی کو ملے گا۔

جب کہ بیٹوں کی بیویاں ،مرحومہ کے ترکہ میں وارث نہیں ہیں ۔ 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101247

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں