بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 محرم 1448ھ 27 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر دو بیٹوں میں میراث کی تقسیم کا طریقہ


سوال

میری بیوی کا انتقال ہوگیا ،ان کا کچھ زیور تھا جو میکہ سے ملا تھا اور کچھ زیور میرے بیٹوں نے تحفتاً دیا تھا، اب اس کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ میرے دو شادی شدہ بیٹے ہیں، بیٹی اور  کوئی اور اولاد نہیں ہے، بس میں اور میرے دو بیٹے ہیں، مرحومہ کے والدین کا بھی مرحومہ سے پہلے انتقال ہوگیا ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم بشمول مذكوره زيور کا شرعی طریقہ یہ ہے مرحومہ پر اگر كوئي قرض ہو تو  اسے ادا کرنے کے بعد، اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو ،تو  اسے ایک تہائی ترکہ سے نافذ کرنے کے بعد، بقیہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کے 8 حصوں میں تقسیم  کرکے 2 حصے مرحومہ کے شوہر کو، 3، 3 حصے مرحومہ کے ہر بیٹے کوملیں گے، جب کہ کفن دفن کے اخراجات شوہر کے ذمے لازم ہیں۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

4/ 8

شوہربیٹابیٹا
13
233

فیصد کے اعتبار سے مرحومہ کے شوہر کو 25 فیصد، جب کہ ہر ایک بیٹے کو37.50 فیصد ملے گا۔ 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101294

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں