
میری بیوی کا انتقال ہوگیا ،ان کا کچھ زیور تھا جو میکہ سے ملا تھا اور کچھ زیور میرے بیٹوں نے تحفتاً دیا تھا، اب اس کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ میرے دو شادی شدہ بیٹے ہیں، بیٹی اور کوئی اور اولاد نہیں ہے، بس میں اور میرے دو بیٹے ہیں، مرحومہ کے والدین کا بھی مرحومہ سے پہلے انتقال ہوگیا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم بشمول مذكوره زيور کا شرعی طریقہ یہ ہے مرحومہ پر اگر كوئي قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو ،تو اسے ایک تہائی ترکہ سے نافذ کرنے کے بعد، بقیہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کے 8 حصوں میں تقسیم کرکے 2 حصے مرحومہ کے شوہر کو، 3، 3 حصے مرحومہ کے ہر بیٹے کوملیں گے، جب کہ کفن دفن کے اخراجات شوہر کے ذمے لازم ہیں۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
4/ 8
| شوہر | بیٹا | بیٹا |
| 1 | 3 | |
| 2 | 3 | 3 |
فیصد کے اعتبار سے مرحومہ کے شوہر کو 25 فیصد، جب کہ ہر ایک بیٹے کو37.50 فیصد ملے گا۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712101294
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن