
ایک عورت کا انتقال ہوا، ان کے ورثاء میں شوہر، چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی؟
مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کاشرعی طریقہ یہ ہے:کہ سب سے پہلے ترکہ سےمرحومہ کے حقوق متقدمہ یعنی اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو ترکہ سے ادا کرنے کے بعد،اور مرحومہ نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تومابقیہترکہ کے ایک تہائی حصہ میں اسے نا فذ کرنے کے بعد باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 40 حصوں میں تقسیم کر کے دس حصے مرحومہ کے شوہر کو،چھے چھےحصے ہر ایک بیٹے کو، اور تین تین حصے ہرایک بیٹی کو ملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہے:
میت:40/4
| شوہر | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 3 | |||||
| 10 | 6 | 6 | 6 | 6 | 3 | 3 |
یعنی فیصد کے اعتبار سےمرحومہ کے شوہر کو25 فیصد ،ہر ایک بیٹے کو 15فیصد اورہر ایک بیٹی 7.5کو فیصد ملےگا۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100547
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن