بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر، چار بیٹے اور دو بیٹیاں کے درمیان ترکہ کے تقسیم


سوال

ایک عورت کا انتقال ہوا، ان کے ورثاء میں شوہر، چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی؟

جواب

مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کاشرعی طریقہ یہ ہے:کہ    سب سے پہلے ترکہ سےمرحومہ کے حقوق متقدمہ  یعنی اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو ترکہ سے ادا کرنے کے  بعد،اور مرحومہ  نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تومابقیہترکہ کے ایک تہائی  حصہ میں  اسے  نا فذ کرنے کے بعد  باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو    40 حصوں میں تقسیم کر کے دس حصے مرحومہ کے شوہر کو،چھے  چھےحصے ہر ایک بیٹے کو،  اور تین تین  حصے ہرایک بیٹی کو  ملیں گے۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت:40/4

شوہربیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹی
13
10666633

یعنی فیصد کے اعتبار سےمرحومہ کے  شوہر کو25 فیصد ،ہر ایک  بیٹے کو 15فیصد   اورہر ایک بیٹی 7.5کو فیصد ملےگا۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100547

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں