بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہربیوی کی اجازت کے بغیر چار ماہ سے زیادہ عرصہ ملک سے باہر رہے تو بیوی طلاق یا خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے؟


سوال

میرے شوہر بیرون ملک میں رہتے ہیں۔ نکاح سے پہلے بھی میری والدہ نے ان سے کہا تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ رکھیں، اور انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے،منگنی کے بعد بھی انہوں نے خود کہا تھا کہ وہ جلد یہاں آ جائیں گے۔ شادی کے بعد وہ دو سال کے لیے بیرون ملک چلے گئے اور بار بار وعدہ کیا کہ جلد مجھے وہاں لے جائیں گے۔

شادی کو اب دو سال ہونے والے ہیں، لیکن نہ تو انہوں نے مجھے اپنے پاس بلایا، اور نہ ہی خود مستقل یہاں آئے۔ اس سال جنوری میں صرف 10 دن کے لیے آئے اور ستمبر میں دوبارہ ایک مہینے کے لیے آئے۔

میرا ان سے یہ مطالبہ ہے کہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں،خاندان کے بڑوں نے بھی ان سے بات کی، لیکن وہ بات کو ٹالتے رہتے ہیں اور تاخیر کرتے ہیں۔ اب یہ معاملہ ان کے لیے انا کا مسئلہ بن گیا ہے، پہلے وہ چھوڑنے کی بات کرتے تھے، لیکن اب وہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں،میں عدالت سے خلع لینا چاہتی ہوں۔

ان حالات میں کیا میں خلع لے سکتی ہوں؟ اگر میں خلع لے لوں، تو کیا وہ معتبر ہوگا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کا شوہر باہر ملک رہتا ہے، اور پانچ، چھ ماہ تک گھر نہیں آتا اور اس میں بیوی کی رضامندی نہیں ہے تو شوہر کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے،  اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگا۔لیکن اگر وہ بیوی کا نان نفقہ پابندی سے دے رہاہے، تو  محض اس وجہ سے خلع یا طلاق کا مطالبہ کرنادرست نہیں ہے،بلکہ دونوں خاندانوں کے بڑے حضرات  مل کر مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کریں، اور شوہر کو پابند کریں کہ وہ آپ کو ساتھ لے کر جائے، یا پھر ہر چار ماہ بعد چھٹی کر کے گھر آئے۔

نیز  شوہر کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ طور پر حاصل کیا گیا شرعی اعتبار سے خلع معتبر نہیں ہوتا۔

ارشادِ باری تعالی ہے:

"وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُواْ حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلاَحًا يُوَفِّقِ اللّهُ بَيْنَهُمَا . "(النساء،35)

ترجمہ:” اگر تم اوپر والوں کو ان دونوں میاں بیوی میں کشاکش کااندیشہ ہو تو تم لوگ ایک آدمی جوتصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتاہو مرد کے خاندان سے اورایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتاہوعورت کے خاندان سے بھیجو، اگر ان دونوں آدمیوں کو اصلاح منظور ہوگی تو اللہ تعالیٰ ان میاں بی بی کے درمیان اتفاق پیدا فرمادیں گے۔“(بیان القرآن،ج:1،ص:335،ط:رحمانیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

"ويؤيد ذلك أن عمر - رضي الله تعالى عنه - لما سمع في الليل امرأة تقول: فوالله لولا الله تخشى عواقبه لزحزح من هذا السرير جوانبه فسأل عنها فإذا زوجها في الجهاد، فسأل بنته حفصة: كم تصبر المرأة عن الرجل: فقالت أربعة أشهر، فأمر أمراء الأجناد أن لا يتخلف المتزوج عن أهله أكثر منها، ولو لم يكن في هذه المدة زيادة مضارة بها لما شرع الله تعالى الفراق بالإيلاء فيها."

(كتاب الطلاق، باب القسم بين الزوجات، ج:3، ص:203، ط:سعيد)

وفیه أیضاً:

"(وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب. ويسقط حقها بمرة ويجب ديانة أحيانا ولا يبلغ الإيلاء إلا برضاها.

(قوله بل يستحب) أي ما ذكر من المجامعة ح (قوله ويسقط حقها بمرة) قال في الفتح: واعلم أن ترك جماعها مطلقا لا يحل له، صرح أصحابنا بأن جماعها أحيانا واجب ديانة، لكن لا يدخل تحت القضاء والإلزام إلا الوطأة الأولى ولم يقدروا فيه مدة.ويجب أن لا يبلغ به مدة الإيلاء إلا برضاها وطيب نفسها به."

(كتاب الطلاق، باب القسم بين الزوجات، ج:3، ص:203، ط:سعيد)

مجمع الانہر فی شرح ملتقی الابحر میں ہے:

"ولا بأس به) أي بالخلع (عند الحاجة) بل هو مشروع بالكتاب والسنة وإجماع الأمة عند ضرورة عدم قبول الصلح وفي شرح الطحاوي إذا وقع بينهما اختلاف فالسنة أن يجتمع أهل الرجل والمرأة ليصلحا بينهما فإن لم يصلحا جاز له الطلاق والخلع وفيه إشارة إلى أن عدم الخلع أولى."

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:1، ص:759، ط:دار إحياء التراث)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100945

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں