بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1448ھ 28 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر بیٹا اور تین بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم کا طریقہ


سوال

میری بیوی کا انتقال ہوگیا ہے، جس کے ورثاء میں شوہر، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں حیات ہیں، اور ایک بیٹے کا انتقال والدہ کے انتقال سے قبل ہوچکا تھا، میری بیوی کے والدین کا انتقال بھی ان سے قبل ہوچکا تھا، ترکہ میں ایک مکان ہے جس کی مالیت تقریباً چار کروڑ ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس ترکہ میں کن کن ورثاءکا کتنا حصہ بنتا ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ (سائل کی بیوی) کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے مرحومہ پر اگر قرض ہو، اسے ادا کرنے کے بعد، اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو ،تو  اسے ایک تہائی ترکہ سے نافذ کرنے کے بعد، بقیہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 20 حصوں میں تقسیم  کرکے 5حصے مرحومہ کے شوہر (سائل) کو، 6 حصے مرحومہ کے زندہ بیٹے کو، اور ہر ایک بیٹی کو تین، تین حصے ملیں گے، جب کہ کفن دفن کے اخراجات شوہر (سائل) کے ذمے لازم ہوں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت 4/ 20

شوہربیٹابیٹیبیٹیبیٹی
13
56333

یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحومہ کے شوہر کو 25 فیصد، بیٹے کو 30 فیصد، ہر ایک بیٹی کو 15 فیصد ملے گا۔ 

یعنی چار کروڑ میں سے مرحومہ کے شوہر کو ایک کروڑ، بیٹے ایک کروڑ بیس لاکھ، جب کہ ہر ایک بیٹی کو ساٹھ لاکھ روپے ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801102558

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں