بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شیشہ اور الیکٹرانک سگریٹ فروخت کا اندیشہ میں دکان کرایہ پر دینے کا حکم


سوال

میرے پاس ایک دکان ہے جسے میں کرائے پر دینا چاہتا ہوں۔ ایک شخص وہاں پان کی دکان کھولنا چاہ رہا ہے، لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ وہ شیشہ اور الیکٹرانک سگریٹ (جسے ویپ بھی کہتے ہیں) بھی اس دکان میں فروخت کرے گا۔ تو کیا ایسی صورت میں میں دکان کرائے پر دے سکتا ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں دکان کرائے پر دینا جائز ہے۔ اگرچہ یہ اندیشہ ہو کہ وہ اس میں شیشہ اور الیکٹرانک سگریٹ بھی فروخت کرے گاکیونکہ وہ صرف پان کے کاروبار کے لیے آپ سے دکان کرائے پر لینا چاہ رہا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر شیشہ اور الیکٹرانک سگریٹ میں کوئی نشہ آور چیز یا کوئی ناپاک چیز شامل نہ ہو، تو اس کا استعمال جائز ہے، البتہ مکروہِ تنزیہی ہے۔ لیکن حرام نہیں ہے۔ لہٰذا ان اشیاء کا کاروبار کرنا بھی حرام نہیں ہے۔ تاہم بچنا چاہیے، اور اگر حکومت کی طرف سے پابندی ہو تو اجتناب ضروری ہوگا۔

کفایت المفتی میں ہے:

’’(سوال) میں نے ایک دکان فی الحال کھولی ہے جس میں متفرق اشیاء ہیں، ارادہ ہے کہ سگریٹ اور پینے کا تمباکو بھی رکھ لوں یہ ناجائز تو نہیں ہوگا ؟

( جواب ۱۶۳) سگریٹ اور تمباکو کی تجارت جائز ہے او ر اس کا نفع استعمال میں لانا حلال ہے ۔محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ۔‘‘

(کتاب الحظر و الاباحۃ ، ج: 9 ، ص:   148، ط:دارالاشاعت)

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية  میں ہے:

"والحق في إفتاء التحليل، والتحريم في هذا الزمان التمسك بالأصلين اللذين ذكرهما البيضاوي في الأصول، ووصفهما بأنهما نافعان في الشرع،

الأول: أن الأصل في المنافع الإباحة، والمأخذ الشرعي آيات ثلاث الأولى قوله تعالى {خلق لكم ما في الأرض جميعا}، واللام للنفع فتدل على أن الانتفاع بالمنتفع به مأذون شرعا وهو المطلوب، الثانية قوله تعالى {قل من حرم زينة الله التي أخرج لعباده}، والزينة تدل على الانتفاع الثالثة قوله تعالى {أحل لكم الطيبات} [المائدة: ٤]، والمراد بالطيبات المستطابات طبعا وذلك يقتضي حل المنافع بأسرها،والثاني: أن الأصل في المضار التحريم، والمنع لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا ضرر ولا ضرار في الإسلام» وأيضا ضبط أهل الفقه حرمة التناول إما بالإسكار كالبنج وإما بالإضرار بالبدن كالتراب، والترياق أو بالاستقذار كالمخاط، والبزاق وهذا كله فيما كان طاهرا وبالجملة إن ثبت في هذا الدخان إضرار صرف خال عن المنافع فيجوز الإفتاء بتحريمه وإن لم يثبت انتفاعه فالأصل حله مع أن في الإفتاء بحله دفع الحرج عن المسلمين فإن أكثرهم مبتلون بتناوله مع أن تحليله أيسر من تحريمه وما خير رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بين أمرين إلا اختار أيسرهما وأما كونه بدعة فلا ضرر فإنه بدعة في التناول لا في الدين فإثبات حرمته أمر عسير لا يكاد يوجد له نصير نعم لو أضر ببعض الطبائع فهو عليه حرام ولو نفع ببعض وقصد به التداوي فهو مرغوب ولو لم ينفع ولم يضر هذا ما سنح في الخاطر إظهارا للصواب من غير تعنت ولا عناد في الجواب، والله أعلم بالصواب."

(مسائل وفوائد شتى من الحظر والإباحة وغير ذلك، مسألة أفتى أئمة أعلام بتحريم شرب الدخان، ج: 2 ، ص: 332 ، ط: دار المعرفة )

فتاوی رشیدیہ میں ہے:

’سوال: حقہ پینا، تمباکو کا کھانا یا سونگھنا کیسا ہے؟ حرام ہے یا مکروہ تحریمہ یا مکروہ تنزیہہ ہے؟ اور تمباکو فروش اور نیچے بند کے گھر کا کھانا کیسا ہے؟

جواب: حقہ پینا، تمباکو کھانا مکروہِ تنزیہی ہے اگر بو آوے، ورنہ کچھ حرج نہیں اور تمباکو فروش کا مال حلال ہے، ضیافت بھی اس کے گھر کھانا درست ہے‘‘۔

( کتاب جواز اور حرمت کے مسائل، ص: 552، ط: ادراہ صدائے دیوبند) 

احسن الفتاوی میں ہے:

"سوال:سگریٹ کی تجارت جائز ہے یا ناجائز؟

جواب:جائز ہے۔"

(کتاب البیوع ،ج:6،ص:495، ط:سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"افیون کی آمدنی سے جو زمین خرید کر اس میں کاشت کرتے ہیں، اس کاشت کی آمدنی کو حرام نہیں کہاجائے گا، ایسی آمدنی سے چندہ لینا بھی درست ہے اور ان کےیہاں کھانا پینا بھی درست ہے فقط  واللہ سبحانہ تعالی اعلم۔"

(باب البیع الباطل والفاسد والمکروہ،ج:16، ص:124، ط:ادارہ الفاروق)

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: وألف في حله أيضاً سيدنا العارف عبد الغني النابلسي رسالة سماها الصلح بين الإخوان في إباحة شرب الدخان وتعرض له في كثير من تآليفه الحسان وأقام الطامة الكبرى على القائل بالحرمة أو بالكراهة فإنهما حكمان شرعيان لا بد لهما من دليل ولا دليل على ذلك فإنه لم يثبت إسكاره ولا تفتيره ولا إضراره بل ثبت له منافع فهو داخل تحت قاعدة الأصل في الأشياء الإباحة وأن فرض إضراره للبعض لايلزم منه تحريمه على كل أحد فإن العسل يضر بأصحاب الصفراء الغالبة وربما أمرضهم مع أنه شفاء بالنص القطعي".

( کتاب الأشربة،ج:6 ، ص:459 ، ط: ایچ ایم سعید) 

الدر المختار  میں ہے:

"وفي الأشباه في قاعدة: الأصل الإباحة أو التوقف، ويظهر أثره فيما أشكل حاله كالحيوان المشكل أمره والنبات المجهول سمته اهـ.

قلت: فيفهم منه حكم النبات الذي شاع في زماننا المسمى بالتتن فتنبه، وقد كرهه شيخنا العمادي في هديته إلحاقا له بالثوم والبصل بالأولى فتدبر.

(قوله فيفهم منه حكم النبات) وهو الإباحة على المختار أو التوقف. وفيه إشارة إلى عدم تسليم إسكاره وتفتيره وإضراره، وإلا لم يصح إدخاله تحت القاعدة المذكورة ولذا أمر بالتنبه.

(قوله وقد كرهه شيخنا العمادي في هديته) أقول: ظاهر كلام العمادي أنه مكروه تحريما ويفسق متعاطيه.........فقول الشارح إلحاقا له بالثوم والبصل فيه نظر، إذ لا يناسب كلام العمادي، نعم إلحاقه بما ذكر هو الإنصاف. قال أبو السعود: فتكون الكراهة تنزيهية، والمكروه تنزيها يجامع الإباحة اهـ. وقال ط: ويؤخذ منه كراهة التحريم في المسجد للنهي الوارد في الثوم والبصل وهو ملحق بهما، والظاهر كراهة تعاطيه حال القراءة لما فيه من الإخلال بتعظيم كتاب الله تعالى اهـ.."

(كتاب الأشربة، ج:6، ص:459، ط: سعيد)

وفیہ ایضا:

" وصح بیع غیر الخمر ومفادہ صحۃ بیع الحشیشۃ ۔۔۔ الخ"

(کتاب الاشربۃ ، ج: 6، ص: 454، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709102161

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں