
زید اور بکر نے پیاز کی کاشت کے متعلق یہ معاہدہ کیا کہ: زید بیج خریدے گا، اپنی زمین میں پنیری تیار کرے گا، اور اس کا تمام خرچ و محنت خود برداشت کرے گا۔ بکر اپنی زمین میں پنیری منتقل کر کے فصل تیار کرے گا، اور کھاد، دوائی، آبپاشی وغیرہ تمام اخراجات خود برداشت کرے گا۔
فصل فروخت ہونے کے بعد حاصل شدہ آمدنی کو طے شدہ فیصد (مثلاً 50/50 یا 60/40) کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
نقصان کی صورت میں ہر فریق اپنا اپنا خرچ برداشت کرے گا اور ایک دوسرے سے مطالبہ نہیں کرے گا۔
آمدنی تقسیم کرتے وقت اخراجات کو باہم منہا کر کے حساب نہیں کیا جائے گا، بلکہ جو رقم حاصل ہوگی اسے فیصد کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ شرعاً اس معاہدہ کا کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ معاہدہ کہ جس میں اولاً زید اپنی زمین میں اپنے خرچ سے بیج خرید کر پنیری تیار کرے گا اور پھر اسے بکر کی زمین میں منتقل کردے گااور بکر اپنے خرچ پر کھاد، دوائی اور آبپاشی کا انتظام کرےگا، نقصان کی صورت میں ہر فریق اپنا خرچ و محنت خود برداشت کرے گا، مذکورہ معاہدہ شرعاً مزارعت یا شراکت کی کسی قسم میں داخل نہیں ہے ، لہذا اس طرح کا معاملہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے ۔
البحرالرائق میں ہے:
"قال : (ولاتصح إلا أن یکون الربح بینهما مشاعاً، فإن شرط لأحدهما دراهم مسماةً فسدت )؛ لما مر في الشرکة، وکذا کل شرط یوجب الجهالة في الربح یفسدها لاختلال المقصود".
(كتاب الشركة ،ما تبطل به شركة العنان،ج:5،ص:191،ط: دارالکتب العلمیة)
اللباب في شرح الکتاب میں ہے:
"(الشركة) لغةً: الخلطة، وشرعًا- كما في القهستاني عن المضمرات -: اختصاص اثنين أو أكثر بمحل واحد."
(ج: 2 ص:121 ط: المكتبة العلمية بيروت لبنان)
مبسوط سرخسی میں ہے:
"(ثُمَّ) الشَّرِكَةُ نَوْعَانِ: شَرِكَةُ الْمِلْكِ وَشَرِكَةُ الْعَقْدِ. (فَشَرِكَةُ الْمِلْكِ) أَنْ يَشْتَرِكَ رَجُلَانِ فِي مِلْكِ مَالٍ، وَذَلِكَ نَوْعَانِ: ثَابِتٌ بِغَيْرِ فِعْلِهِمَا كَالْمِيرَاثِ، وَثَابِتٌ بِفِعْلِهِمَا، وَذَلِكَ بِقَبُولِ الشِّرَاءِ، أَوْ الصَّدَقَةِ أَوْ الْوَصِيَّةِ. وَالْحُكْمُ وَاحِدٌ، وَهُوَ أَنَّ مَا يَتَوَلَّدُ مِنْ الزِّيَادَةِ يَكُونُ مُشْتَرَكًا بَيْنَهُمَا بِقَدْرِ الْمِلْكِ، وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِمَنْزِلَةِ الْأَجْنَبِيِّ فِي التَّصَرُّفِ فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ."
(ج:11 ص:151 ط:دار المعرفہ بیروت لبنان)
دررالحکام شرح غرر الأحکام میں ہے:
"(وَهِيَ) أَيْ شَرِكَةُ الْعَقْدِ (ثَلَاثَةٌ) الْأَوَّلُ (شَرِكَةٌ بِالْأَمْوَالِ وَ) الثَّانِي (شَرِكَةٌ بِالْأَعْمَالِ وَتُسَمَّى) هَذِهِ الشَّرِكَةُ اصْطِلَاحًا (شَرِكَةُ الصَّنَائِعِ، وَ) شَرِكَةُ (التَّقَبُّلِ، وَ) شَرِكَةُ (الْأَبْدَانِ) وَوَجْهُ التَّسْمِيَةِ ظَاهِرٌ.(وَ) الثَّالِثُ (شَرِكَةُ الْوُجُوهِ)."
(ج:2 ص:318 ط:دار إحياء الكتب العربية)
شرح المجلّة لرستم باز میں ہے:
"یشترط بیان الوجه الّذي سیستقیم فیه الربح بین الشراء، و إذا بقي مبهمًا و مجهولاً تکون الشرکة فاسدةً."
(المادۃ: 1336، الکتاب العاشر في أنواع الشرکات، الباب السادس، الفصل الثاني: 2/ 561، ط: مکتبه فاروقیه)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101521
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن