
ہمارے گاؤں میں کچھ لوگ ان الفاظ کے ساتھ مریضوں کو دم کرتے ہیں ،"درخہ دہ خدے،درخہ دہ خدے،درخہ دہ رسول،درخہ دہ جمع قرآن مجید،درخہ دہ سلوروں یارانوں،درخہ دہ پنزوں پیرانوں،دہ ھغہ پیرانوں چہ ذمہ داری دہ توری دانی،دہ باری دانی،دہ خوراکی دانی،دہ غونڈاری،دہ لمبی،دہ دی نہ دا سڑے ضائع شو نو ذمہ دار ئی توربابا،تور ڈیری بابا،یااللہ خیر،یااللہ خیر،یااللہ خیر"،اس کے بعد گیارہ مرتبہ :سلام قولا من رب الرحیم پڑھتے ہیں۔"
ترجمہ:"میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں(اللہ کی اجازت سے)، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، میں رسولِ اکرم ﷺ کی پناہ مانگتا ہوں، میں تمام قرآنِ مجید کی پناہ مانگتا ہوں، میں چار یاروں (خلفائے راشدین) کی پناہ مانگتا ہوں، میں پانچ بزرگوں (اولیاء) کی پناہ مانگتا ہوں، ان بزرگوں کی جن کی ذمہ داری ہے کالے دانے کو ختم کرنے کی، بڑے دانے کو، جسم کو کھانے والے دانے کو، اسہال کو، اور وہ دانہ جس سے جسم جل جھلس جائے۔اگر اس سے یہ شخص برباد اور ضائع ہو گیا، تو اس کا ذمہ دار "تور بابا"تور ڈھیری بابا" ہوگا۔
یا اللہ خیر، یا اللہ خیر، یا اللہ خیر۔"
پھر اس کے بعد گیارہ (11) مرتبہ یہ آیت پڑھی جاتی ہے:
"سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ"
تو کیا ان الفاظ سے مریضوں کو دم کرنا ازروئے شریعت جائز ہے؟
واضح رہے کہ "دم" (رُقیہ) کرنا اور کروانابعض شرائط کے ساتھ شرعاً جائز ہے، جیسا کہ جمہور علماء امت کا اس پر اتفاق ہے، بشرطیکہ ان شرائط کی مکمل رعایت کی جائے:
دم صرف اللہ تعالیٰ کے کلام (قرآن کریم)، اسماءِ حسنیٰ، صفاتِ باری تعالیٰ، یا نبی اکرم ﷺ سے منقول و ماثور دعاؤں پر مشتمل ہو۔
دم عربی زبان میں ہو، اگر کسی غیر عربی زبان میں ہو تو اس کا معنی و مفہوم معلوم ہونا ضروری ہے۔
دم کو مؤثر بالذات نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ حقیقی شفاء دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، دم صرف ایک جائز سبب کی حیثیت رکھتا ہے۔
دم میں کسی بھی قسم کی حرام چیز، جیسے جادو، شرکیہ یا کفریہ الفاظ کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔
مندرجہ بالا اصولوں کی روشنی میں، اگر کسی دم میں ایسے الفاظ شامل ہوں جن کا مطلب واضح نہ ہو، یا جن میں شرکیہ کلمات پائے جائیں، یا وہ کسی غیر معروف و مشتبہ زبان میں ہوں، تو ایسے کلمات کے ذریعہ دم کرنا شرعاً ناجائز ہے۔
مذکورہ تفصیل کی رو سے صورتِ مسئولہ میں مذکورہ دم کے الفاظ کا ترجمہ اگر واقعۃ یہی ہے جو تحریر کیا گیا ہے،تو ان کلمات کے ذریعہ مریضوں کو دم کرنا شرعا جائز نہیں ہے،البتہ فقط آیت کریمہ"سلام قولا من رب الرحیم"کے ذریعہ دم کرنا شرعا درست ہے۔
جیسا کہ مسلم شریف میں ہے:
"عن عوف بن مالك الأشجعي، قال: كنا نرقي في الجاهلية فقلنا يا رسول الله كيف ترى في ذلك فقال: «اعرضوا علي رقاكم، لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك»"
(کتاب السلام،باب استحباب الرقیة ،ج: 2،ص: 224،ط: قدیمی)
فتح الباری لابن حجر میں ہے:
"وقد أجمع العلماء على جواز الرقى عند اجتماع ثلاثة شروط أن يكون بكلام الله تعالى أو بأسمائه وصفاته وباللسان العربي أو بما يعرف معناه من غيره وأن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالى"
(باب الرقیٰ،ج: 10،ص: 195،ط: دار المعرفة)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"وأما ما كان من الآيات القرآنية، والأسماء والصفات الربانية، والدعوات المأثورة النبوية، فلا بأس، بل يستحب سواء كان تعويذا أو رقية أو نشرة، وأما على لغة العبرانية ونحوها، فيمتنع لاحتمال الشرك فيها"
(کتاب الطب والرقیٰ،ج: 7،ص: 2880،ط: دار الفکر)
وفیه أیضاً:
"وكان النبي - صلى الله عليه وسلم - يأخذ من ريق نفسه، على إصبعه السبابة، ثم يضعها على التراب، فيعلق بها منه، فيمسح بها على الموضع الجريح والعليل، ويتلفظ بهذه الكلمات في حال المسح. قال الأشرف: هذا يدل على جواز الرقية ما لم تشتمل على شيء من المحرمات كالسحر. وكلمة الكفر اهـ.
ومن المحذور أن تشتمل على كلام غير عربي أو عربي لا يفهم معناه، ولم يرد من طريق صحيح، فإنه يحرم كما صرح به جماعة من أئمة المذاهب الأربعة ; لاحتمال اشتماله على كفر"
(کتاب الجنائز: ج: 3،ص: 1125،ط: دارالفکر)
رد المحتار میں ہے:
"(قوله التميمة المكروهة) أقول: الذي رأيته في المجتبى التميمة المكروهة ما كان بغير القرآن...ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن، أو أسماء الله تعالى...قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به اهـ"
(کتاب الحظر والإباحة، فصل فی اللبس، ج: 6،ص: 363،ط: ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100417
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن