بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

شرکت سے متعلق متفرق احکام


سوال

ایک خاندان کے آٹھ بھائیوں کا مشترکہ کاروبار تھا، کاروبار کے دوران ایک بھائی کا انتقال ہوا، اس کے بعد بھی دیگر بھائی وہ مشترکہ کاروبار کرتے رہے، پھر جائیداد اور کاروبار کی تقسیم کا وقت آیا، اس سلسلے میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں :

1۔ کیا مرحوم بھائی کا حصہ ان کی وفات کے وقت کے حساب سے نکالا جائے گا یا تقسیم کے وقت کے حساب سے؟

2۔ کیا مرحوم بھائی کا حصہ ان کے شرعی ورثاء(بیوہ، بیٹے اور بیٹیوں وغیرہ) کو دیا جائے گا؟

3۔ ہمارے علاقے کا عرف یہ ہے کہ اگر کسی شریک بھائی کا انتقال ہو جائے، تو اس کے بیٹوں کو والد کی جگہ حصہ دیا جاتا ہے، شرعاً اس عرف کی کیا حیثیت ہے؟

4۔ اگر مرحوم کا والد یا دیگر بھائی اپنی خوشی سے مرحوم کے بچوں کو اپنے حصوں میں سے کچھ دینا چاہے، تو کیا شرعاً اس کی اجازت ہے؟

جواب

 1۔واضح رہے کہ شریعت   کی رو سے کسی شریک کی وفات پر شراکت کا عقد ختم ہو جاتا ہے اور اس کا حصہ (سرمایہ اور اس وقت تک کا نفع) جبری طور پر اس کے شرعی ورثاء کی ملکیت میں منتقل ہو جاتا ہے، لیکن صورتِ مسئولہ میں  جب دیگر بھائیوں نے کاروبار جاری رکھا، تو مرحوم کا سرمایہ  بھی نفع سمیت اس  کاروبار میں شامل رہا، اس لیے اب تقسیم کے وقت کاروبار کی جو موجودہ مالیت ہوگی، اس میں سے مرحوم کے حصے کا تناسب نکالا جائے گا۔
2۔ مرحوم کا حصہ  مرحوم کے تمام شرعی ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم ہوگا۔
3۔ یہ حصہ صرف بیٹوں کا نہیں بلکہ تمام شرعی ورثاء (بیوہ، بیٹوں، بیٹیوں اور والدین اگر حیات ہوں ) کا ہے ،  ایسا عرف جو بیٹیوں یا بیوہ وغیرہ کسی بھی شرعی وارث  کو محروم کرے، شرعاً باطل ہے ۔
4۔ اگر  شریک بھائیوں میں سے کوئی اپنی خوشی سے اپنے حصے میں سے مرحوم کے بچوں کو کچھ دینا چاہے تو  دے سکتا ہے، ثواب ملے گا۔

 مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»."

ترجمہ:”حضرت سعید  بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ  : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین  بھی  از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی  زمین اس کے گلے میں   طوق  کے طور پرڈالی  جائے گی۔“

(باب الغصب والعاریة، ‌‌الفصل الأول، ج:1، ص:254، ط: قدیمي)

وفیه أیضًا:

"وعن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة». رواه ابن ماجه."

ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی  میراث کاٹے گا،(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔“

 (باب الوصایا، الفصل الثالث، ج:1، ص:266، ط: قدیمي)

البحر الرائق میں ہے :

"(قوله وتبطل الشركة بموت أحدهما، ولو حكما) لأنها تتضمن الوكالة ولا بد منها لتحقق الشركة على ما مر والوكالة تبطل بالموت."

(كتاب الشركة، فصل في الشركة الفاسدة، ج :5، ص :199، ط :دار الكتاب الإسلامي)

السراجی فی المیراث میں ہے :

"قال علماؤنا تتعلق بترکۃ الميت حقوق اربعه مرتبه  :الاول  :يبدا بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولا تقتير ، ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله،  ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين ، ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنه واجماع الامه."

(ص :14، ط :بشرٰی)

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے :

"(ثم) رابعا بل خامسا (يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته) أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب أو السنة كقوله - عليه الصلاة والسلام - «أطعموا الجدات بالسدس» أو الإجماع فجعل الجد كالأب وابن الابن كالابن."

(کتاب الفرائض، ج :6، ص :62، ط :سعید)

رد المحتار میں ہے:

"والثالث إما اختياري وهو الوصية أو اضطراري وهو الميراث."

(کتاب الفرائض، ج:6، ص:758، ط:سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"لا ‌يجوز ‌لأحد ‌من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."

(کتاب الحدود، ج:5، ص:44، ط: دار الکتاب الإسلامي)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے :

"(وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) فله الرجوع والفسخ (وعدم صحة خيار الشرط فيها) فلو شرطه صحت إن اختارها قبل تفرقهما."

(کتاب الهبة، ج :5، ص :688، ط :سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101485

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں