
(1) ایک شخص نے ہوٹل کے لیے ایک دکان دو سال کے لیے کرایہ پر لی، پھر ہوٹل چلانے کے لیے ضروری سامان اور راشن خریدا۔ اس کے بعد ایک دوسرے فریق کو شریک بنا کر سامان اور راشن سمیت ہوٹل چلانے کے لیے دے دیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک فریق کی طرف سے راشن کی شکل میں سرمایہ ہے، جبکہ دوسرے فریق کی طرف سے صرف محنت ہے، اور نفع و نقصان میں دونوں برابر کے شریک ہیں یا جو تناسب فریقین باہمی رضامندی سے طے کر لیں۔ واضح رہے کہ صرف شروع ہی میں سرمایہ لگانے والے کی طرف سے راشن دیا جاتا ہے، مذکورہ راشن ختم ہونے کے بعد محنتی فریق خود حاصل شدہ رقم سے ہوٹل چلانے کے لیے راشن خریدتا رہتا ہے۔
(2) دوسری صورت پہلی سے مشابہ ہے، فرق صرف یہ ہے کہ سرمایہ لگانے والا فریق دوسرے فریق کو راشن دینے کے بجائے نقد رقم دیتا ہے، جس سے دوسرا فریق خود راشن خرید کر ہوٹل چلاتا ہے۔
(3) بعض اوقات درج بالا دونوں صورتوں میں محنت کرنے والے فریق کے لیے فیصدی حصہ کے ساتھ ساتھ ماہانہ تنخواہ بھی مقرر کی جاتی ہے، جبکہ سرمایہ لگانے والے فریق کو صرف فیصدی نفع دیا جاتا ہے۔
درج بالا تینوں صورتوں سے متعلق تین باتیں مزید یہ ہیں کہ:
(الف) مال فراہم کرنے والا جو سامان (مثلاً برتن، فرنیچر وغیرہ) استعمال کے لیے دیتا ہے، اس کی نوعیت واضح نہیں کی جاتی کہ کس حساب سے دیا گیا ہے۔ اگر استعمال کے دوران کوئی چیز ٹوٹ جائے یا گم ہو جائے، تو اس کی خریداری ہوٹل کے منافع سے کی جاتی ہے۔ خریدا گیا یہ تمام سامان سرمایہ لگانے والے کا شمار ہوتا ہے، اور اس میں محنت کرنے والے فریق کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
(ب) ہوٹل اور رہائش گاہ (جس میں ہوٹل چلانے والے رہتے ہیں)کا کرایہ ہوٹل کے منافع سے ادا کیا جاتا ہے، اور اگر منافع حاصل نہ ہو تو بقدرِ حصص نقصان پُر کیا جاتا ہے یعنی رہائش گاہ اور ہوٹل کا کرایہ ادا کیا جاتا ہے۔ دیگر اخراجات (جیسے بجلی، پانی، گیس وغیرہ)کا بھی یہی حساب ہوتا ہے۔
(ج) سرمایہ لگانے والا فریق دوسرے فریق سے کچھ رقم (ایڈوانس) رہن کے طور پر لے لیتا ہے۔ اگر دوسرا فریق کسی نقصان کا باعث بنے(یعنی تعدی کی صورت میں)، تو وہ نقصان اسی ایڈوانس رقم سے پورا کیا جاتا ہے، بصورتِ دیگر وہ رقم واپس کر دی جاتی ہے۔
(4) ایک چوتھی صورت یہ ہے کہ محنت کرنے والا فریق سرمایہ میں بھی شریک ہوتا ہے، یعنی دونوں فریق مل کر مال لگا کر راشن خریدتے ہیں۔ اس صورت میں محنت کرنے والے فریق کو سرمایہ کے بدلے فیصدی حصہ اور محنت کے بدلے تنخواہ ملتی ہے، جبکہ دوسرے فریق کو صرف فیصدی حصہ دیا جاتا ہے۔
(5) ان تمام صورتوں کی دو مزید حالتیں ہیں:
(الف) ہوٹل مالکِ مال کی ذاتی ملکیت ہو، ایسی صورت میں وہ اس کا الگ سے کرایہ بھی وصول کرتا ہے۔
(ب) ہوٹل کسی تیسرے شخص سے کرایہ پر لیا گیا ہو، تو اس کا کرایہ ہوٹل کے منافع سے ادا کیا جاتا ہے۔
(6) بعض لوگ یہ کاروبار اس طرح کرتے ہیں کہ ہوٹل کے لیے کوئی مناسب جگہ تلاش کرتے ہیں، پھر اس جگہ کو کسی دوسرے شخص کو فروخت کر دیتے ہیں، حالانکہ انہوں نے صرف جگہ کا انتخاب کیا ہوتا ہے، اس میں کوئی کام نہیں کیا ہوتا۔ کیا یہ طریقہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟
براہ کرم مذکورہ صورتوں کا شرعی حکم واضح فرمائیں۔ اگر ان میں سے بعض صورتیں ناجائز ہوں تو جو سالہا سال شرکت ہوچکی ہے، تو اس کا کیا بنے گا؟
نیز شرکت اور مضاربت کے عام اور بنیادی اصول بھی بتا دیجئے۔
واضح رہے کہ عقدِ مضاربت دو شخصوں کے درمیان ایسا معاہدہ ہوتا ہے جس میں ایک فریق کی طرف سے سرمایہ نقدی کی صورت میں اور دوسرے فریق کی طرف سے محنت ہوتی ہے، اور پھر حاصل ہونے والا نفع دونوں کے درمیان طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے۔ جبکہ عقدِ شرکت دو یا دو سے زائد اشخاص کے درمیان ایسا معاہدہ ہے جس میں دونوں طرف سے سرمایہ ہوتا ہے ، خواہ دونوں فریق سرمایہ کے ساتھ محنت بھی کریں یا محنت صرف ایک کی طرف سے ہو ، اور حاصل ہونے والا نفع دونوں کے درمیان طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کیا جائے۔
شرکت و مضاربت کے بنیادی اصول وشرائط درج ذیل ہیں:
(الف) شرکت و مضاربت میں سرمایہ کا نقدی ہونا ضروری ہے۔ اگر سرمایہ سامان، قرض یا جامد اثاثوں کی شکل میں ہو، تو شرکت و مضاربت درست نہیں ہوتی۔ البتہ اگر مضاربت میں سرمایہ کار محنت کرنے والے فریق کو نقدی کے بجائے سامان یا جامد اثاثے دے دے، اور محنت کرنے والا فریق اس سامان کو فروخت کر کے حاصل شدہ رقم سے کاروبار شروع کرے، تو اس صورت میں جب نقدی حاصل ہو جائے اور اس سے کاروبار شروع کیا جائے، تو عقدِ مضاربت شرعاً درست قرار پاتا ہے، جس کے بعد سے حاصل ہونے والا نفع دونوں کے درمیان طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کرنا درست ہوتا ہے۔
(ب) شرکت و مضاربت میں حاصل ہونے والے نفع میں ہر فریق کا حصہ فیصدی تناسب یا حصص (مثلاً کل نفع کے چار حصے کیے جائیں اور ہر فریق کو دو دو حصے ملیں) کے اعتبار سے طے کرنا ضروری ہے، کسی بھی فریق کے لئے متعین نفع(مثلاً ماہانہ 20 ہزار) طے کرنا جائز نہیں، پس اگر کسی فریق کے لئے متعین نفع طے کیا جائے ، تو شرکت و مضاربت فاسد ہوجاتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی فریق کے لیے حاصل ہونے والے نفع میں سے ماہانہ تنخواہ مقرر کی جائے ، تو بھی شرکت و مضاربت درست نہیں ہوتی۔
(ج) شرکت میں نقصان ہونے کی صورت میں ہر شریک پر اس کے سرمایہ کے تناسب سے نقصان کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، مثلاً اگر کسی شریک کا سرمایہ کل سرمایہ کا چالیس فیصد ہو، تو نقصان بھی وہی چالیس فیصد برداشت کرے گا۔اس کے برعکس مضاربت میں اگر نقصان ہو جائے، تو اس کی تلافی نفع سے کی جاتی ہے، اگر نقصان نفع سے بھی زیادہ ہو ، تو وہ سرمایہ کار کے اصل سرمایہ سے پورا کیا جاتا ہے، مضارب (ورکنگ پارٹنر) کو نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا جائز نہیں، البتہ نقصان کی صورت میں سرمایہ کار نقصان برداشت کرتا ہے، جبکہ مضارب کی محنت بغیر عوض کے رائیگاں، شمار ہوتی ہے، بشرطیکہ اس کی جانب سے تعدّی یا کوتاہی ثابت نہ ہو۔ پس اگر شرکت میں کسی شریک پر اس کے سرمایہ کے تناسب سے زیادہ نقصان برداشت کرنے کی شرط لگائی جائے، یا مضاربت میں محنت کرنے والے فریق پر نقصان برداشت کرنے کی شرط رکھی جائے، تو شرکت یا مضاربت تو درست ہوگی، مگر یہ شرط فاسد ہوگی، جس پر عمل کرنا جائز نہیں ہوگا۔
(د) شرکت و مضاربت میں کسی فریق کے لیے تنخواہ مقرر کرنا جائز نہیں، پھر اگر یہ تنخواہ اصل سرمایہ یا نفع میں سے مقرر کی گئی ہو، تو شرکت و مضاربت ہی فاسد ہو جائے گی، اور اگر تنخواہ اصل سرمایہ یا نفع سے نہ مقرر کی جائے، تو شرکت و مضاربت تو درست رہے گی، مگر یہ شرط فاسد شمار ہوگی، جس پر عمل کرنا جائز نہیں ہوگا۔ البتہ اگر کسی فریق کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جو محنت کی وجہ سے مستحقِ اجرت نہ ہوتی ہو، جیسے دکان، مکان یا اس جیسے دیگر اثاثے، تو ایسی چیز کے بدلے اجرت (کرایہ) طے کر کے لینا جائز ہے۔
(ہ) اگر کسی وجہ سے شرکت یا مضاربت فاسد ہوجائے، تو شرکت کی صورت میں حاصل ہونے والا نفع فریقین کے درمیان ان کے سرمایہ کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا، مثلاً اگر کسی شریک کا سرمایہ کل سرمایہ کا چالیس فیصد ہو، تو شرکتِ فاسدہ کی صورت میں اسے نفع کا چالیس فیصد ہی ملے گا۔ جب کہ مضاربتِ فاسدہ کی صورت میں کل نفع سرمایہ کار کو ملے گا، اور محنت کرنے والے فریق کو محنت کے بدلے اجرتِ مثل (یعنی اتنی مزدوری جتنی وہ اسی مدت میں کسی اور جگہ یہی کام کرتا تو ملتی، وہ) دی جائے گی۔
ہوٹل کے کاروبار میں شرکت و مضاربت کی رائج چند صورتیں:
(1) پہلی صورت:اگر مضاربت میں سرمایہ کار محنت کرنے والے فریق کو نقدی کے بجائے راشن (مثلاً چاول، دال، تیل وغیرہ) بطورِ سرمایہ فراہم کرے، اور محنتی فریق وہ راشن فروخت کر کے نقدی حاصل کرے، پھر اسی نقدی سے ہوٹل کا کام جاری رکھے، تو اس صورت میں راشن کی فروخت کے بعد حاصل شدہ نقدی سے ہوٹل کا کام جاری کرنے کے وقت سے عقدِ مضاربت شرعاً منعقد اور درست قرار پائے گا۔اس کے بعد سے حاصل ہونے والا نفع دونوں کے درمیان طے شدہ شرح کے مطابق تقسیم کرنا درست ہوگا۔البتہ اس صورت میں محنت کرنے والے فریق پر نقصان برداشت کرنے کی شرط لگانا فاسد (غیر معتبر)ہے، بلکہ نقصان کی ذمہ داری مکمل طور پر سرمایہ کار پر عائد ہوگی، جبکہ محنت کرنے والے فریق کی محنت بغیر عوض کے رائیگاں شمار ہوگی، بشرطیکہ اس کی جانب سے کوئی کوتاہی یا زیادتی ثابت نہ ہو۔
(2)دوسری صورت:اگر سرمایہ کار محنت کرنے والے فریق کو سرمایہ نقدی کی صورت میں دیتا ہے، تو یہ مضاربت شرعاً درست ہے، تاہم اس میں بھی محنت کرنے والے فریق پر نقصان برداشت کرنے کی شرط لگانا فاسد یعنی معتبر نہیں ہے۔
(3) تیسری صورت: درج بالا دونوں صورتوں میں اگر محنت کرنے والے فریق کے لئے اصل سرمایہ یا نفع میں سے ماہانہ تنخواہ مقرر کی جائے، تو اس صورت میں مضاربت ہی فاسد ہو جائے گی، البتہ اگر ماہانہ تنخواہ کو اصل سرمایہ یا نفع سے منسلک نہ کیا جائے، تو مضاربت تو درست رہے گی، مگر یہ شرط فاسد ہوگی، اور محنتی فریق کو صرف فیصدی نفع ہی ملے گا، اس تنخواہ کا شرعاً مستحق نہیں ہوگا۔
درج بالا تینوں صورتوں سے متعلق تین مسئلے:
(الف)سرمایہ کار نے ہوٹل چلانے کے لئے جو سامان محنت کرنے والے فریق کو فراہم کیا ہے، وہ محنتی فریق کے پاس امانت ہے ،لہذا اگر زیادتی یا کوتاہی کے بغیر سامان ٹوٹا یا گم ہوا، تو محنتی فریق ضامن نہیں ہوگا، اور اگر اس کی زیادتی یا کوتاہی کی وجہ سے ٹوٹا یا گم ہوا، تو وہ ضامن ہوگا۔مزید یہ کہ اگر کوئی سامان ٹوٹ جائے یا گم ہو جائے، تو اس کی تلافی ہوٹل کے منافع سے کرنا درست نہیں، البتہ اگر فریقین باہمی رضامندی سے منافع میں سے وہ سامان دوبارہ خرید لیں، تو ایسی صورت میں وہ سامان دونوں کی مشترکہ ملکیت شمار ہوگا، صرف سرمایہ کار کی نہیں۔
(ب)درج بالا تینوں صورتوں میں ہوٹل اور رہائش گاہ کا کرایہ، نیز بجلی، پانی، گیس وغیرہ کے دیگر اخراجات ہوٹل کے منافع سے ادا کیے جائیں گے۔اور اگر نفع حاصل نہ ہو، تو ان اخراجات کی ذمہ داری سرمایہ کار پر ہوگی، جبکہ محنتی فریق کی صرف محنت رائیگاں شمار ہوگی۔ لہٰذا نفع نہ ہونے کی صورت میں محنت کرنے والے فریق پر ان اخراجات کی ذمہ داری ڈالنا شرعاً درست نہیں ہوگا، لہذا مذکورہ شرط لگانے سے اجتناب کیا جائے۔
(ج)سرمایہ لگانے والے فریق کا محنت کرنے والے فریق سے بطورِ رہن (گروی) کچھ رقم لینا، اس نیت سے کہ اگر وہ نقصان کا باعث بنے تو اس رقم سے منہا کیا جائے، شرعاً جائز نہیں ہے۔ اگر رقم لی گئی ہو تو اسے واپس کرنا لازم ہوگا۔
(4) سوال میں مذکور چوتھی صورت ( یعنی وہ صورت جس میں تمام فریقوں کی جانب سے سرمایہ شامل ہوتا ہے ) شرعاً شرکت کہلاتی ہے، اس صورت میں اگر محنت کرنے والے شریک کے لئے نفع میں سے ماہانہ تنخواہ مقرر کی جائے، تو شرکت کی فاسد ہوجائے گی، البتہ اگر یہ ماہانہ تنخواہ نفع سے منسلک نہ ہو، تو شرکت اپنی جگہ درست رہے گی، لیکن یہ شرط فاسد ہوگی، اور محنتی شریک اس تنخواہ کا شرعاً حق دار نہیں ہوگا۔
(5) مذکورہ تمام صورتوں میں اگر ہوٹل سرمایہ کار کی ذاتی ملکیت ہو، تو وہ اس کا الگ سے کرایہ طے کر کے وصول کر سکتا ہے۔ اور اگر ہوٹل کسی تیسرے شخص سے کرایہ پر لیا گیا ہو، تو اس کا کرایہ ہوٹل کے منافع میں سے ادا کیا جائے گا۔
(6) ہوٹل کے لئے صرف جگہ کا انتخاب کر کے آگے کسی اور کو فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:
"المادة (1337) يشترط أن تكون حصة الربح الذي بين الشركاء جزءا شائعا كالنصف والثلث والربع فإذا اتفق على أن يكون لأحد الشركاء كذا درهما مقطوعا من الربح تكون الشركة باطلة...المادة (1338) يشترط أن يكون رأس المال من قبيل النقود...المادة (1341) يشترط أن يكون رأس مال الشركة عينا ولا يكون دينا...المادة (1368) يقسم الربح والفائدة في الشركة الفاسدة بنسبة مقدار رأس المال ، فإذا شرط ربح زائد لأحد الشريكين فلا يعتبر.المادة (1369) الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال بنسبة مقدار رءوس الأموال ، وإذا شرط خلاف ذلك فلا يعتبر."
(الكتاب العاشر: الشركات، الباب السادس: في بيان شركة العقد، ص:256، 263، ط:نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي)
وفیہ ایضاً:
"المادة (1409) يشترط أن يكون رأس المال مالا صالحا لأن يكون رأس مال شركة. انظر الفصل الثالث من باب شركة العقد فلذلك لا يجوز أن تكون العروض والعقار والديون التي في ذمم الناس رأس مال في المضاربة...المادة (1411) يشترط في المضاربة ...تعيين حصة العاقدين من الربح جزءا شائعا كالنصف والثلث...المادة (1412) إذا فقد شرط من الشروط المذكورة آنفا بأن لم تعين مثلا حصة العاقدين جزءا شائعا بل قطعت وعينت على أن يعطي أحدهما كذا درهما من الربح تفسد المضاربة...المادة (1421) إذا خرج المضارب عن مأذونيته وخالف الشرط يكون غاصبا وفي هذا الحال يعود الربح والخسارة في بيع وشراء المضارب عليه ، وإذا تلف مال المضاربة يكون ضامنا...المادة (1426) استحقاق رب المال للربح هو بماله فلذلك يكون جميع الربح له في المضاربة الفاسدة ويكون المضارب بمنزلة أجير المثل لكن لا يتجاوز المقدار المشروط حين العقد...المادة (1427) إذا تلف مقدار من مال المضاربة فيحسب في بادئ الأمر من الربح ولا يسري إلى رأس المال ، وإذا تجاوز مقدار الربح وسرى إلى رأس المال فلا يضمنه المضارب سواء كانت المضاربة صحيحة أو فاسدة.(المادة 1428) يعود الضرر والخسار في كل حال على رب المال وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما فلا يعتبر ذلك الشرط."
(الكتاب العاشر: الشركات، الباب السابع: في حق المضاربة، ص:272، 276، ط:نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي)
رد المحتار میں ہے:
"رجل دفع لآخر أمتعة، وقال: بعها واشترها وما ربحت فبيننا نصفين فخسر فلا خسران على العامل، وإذا طالبه صاحب الأمتعة بذلك فتصالحا على أن يعطيه العامل إياه لا يلزمه ولو كفله إنسان ببدل الصلح لا يصح، ولو عمل هذا العامل في هذا المال، فهو بينهما على الشرط؛ لأن ابتداء هذا ليس بمضاربة بل هو توكيل ببيع الأمتعة ثم إذا صار الثمن من النقود، فهو دفع مضاربة بعد ذلك فلم يضمن أولا؛ لأنه أمين بحق الوكالة ثم صار مضاربا فاستحق المشروط جواهر الفتاوى."
(كتاب المضاربة، ج:5، ص:647، ط:سعيد)
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"(وشرطها) أمور سبعة (كون رأس المال من الأثمان) كما مر في الشركة. (قوله: من الأثمان) أي الدراهم والدنانير فلو من العروض فباعها فصارت نقودا انقلبت مضاربة، واستحق المشروط كما في الجواهر."
(كتاب المضاربة، ج:5، ص:647، ط:سعيد)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"(ومنها) أن يكون المشروط للمضارب مشروطا من الربح لا من رأس المال حتى لو شرط شيئا من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت المضاربة كذا في محيط السرخسي.(وأما الشروط) الفاسدة فمنها ما تبطل المضاربة ومنها ما لا تبطلها بنفسها إذا قال رب المال للمضارب لك ثلث الربح وعشرة دراهم في كل شهر عملت فيه للمضاربة فالمضاربة جائزة والشرط باطل كذا في النهاية. فإن عمل على هذا الشرط فربح فالربح على ما اشترطا ولا أجر للمضارب في ذلك. "
(كتاب المضاربة، الباب الأول في تفسيرها وركنها وشرائطها وحكمها، ج:4، ص:285، 287، ط:دار الفكر بيروت)
وفیہ ایضاً:
"في العيون...قال محمد - رحمه الله تعالى - كل شيء استأجره أحدهما من صاحبه مما يكون منه عمل فإنه لا يجوز وإن عمل فلا أجر له مثل الدابة وكل شيء ليس يكون منه العمل استأجره أحدهما من صاحبه فهو جائز مثل الجوالق وغيره... وذكر القدوري أن كل شيء لا يستحق به الأجرة إلا بإيقاع العمل في العين المشتركة فإذا استأجر أحد الشريكين الآخر لم يجز مثل أن يستأجر لينقل الطعام بنفسه أو بغلامه أو بدابته أو لقصارة الثوب وكل ما لا يستحق الأجرة بغير إيقاع العمل في المال المشترك فالإجارة جائزة مثل أن يستأجر منه دارا ليحرز فيها الطعام أو سفينة أو جوالق أو رحى قال فخر الدين قاضي خان الفتوى على ما ذكر في العيون والقدوري. كذا في الكبرى."
(كتاب الإجارة، الباب الثامن عشر الإجارة التي تجري بين الشريكين، ج:4، ص:457، ط:دار الفكر، بيروت)
بدائع الصنائع میں ے:
"وأما العين فنقول: لا خلاف في أنه لا يجوز الرهن بالعين التي هي أمانة في يد الراهن، كالوديعة والعارية ومال المضاربة والبضاعة والشركة والمستأجر ونحوها، فإنها ليست بمضمونة أصلا."
(كتاب الرهن، فصل في شرائط ركن الرهن، ج:6، ص:142، ط:دار الكتب العلمية)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه."
(كتاب البيوع، ج:4، ص:505، ط:سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144703101430
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن