بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شراکت میں نفع سے شریک کا حق روکنے کا حکم


سوال

شرکت کی صورت میں ایک فریق کا کچھ عرصے تک سارا منافع لیتے رہنا اور دوسرے فریق کو منافع سے روکنا کیسا ہے ؟

جواب

جس کاروبار میں شراکت کی گئی ہے اگر وہ جائز اور حلال ہے تو مذکورہ شراکت درست ہے،اور شراکت نفع اور نقصان دونوں کی بنیاد پر ہوتی ہے، نفع کی تعیین و تقسیم فیصد/حصص کے اعتبار سے کرنا ضروری ہوتی ہے، اور طے شدہ معاہدہ  کی پاس داری فریقین پر لازم ہوتی ہے، خلاف ورزی کرنا شرعاً جائز نہیں، لہذا مذکورہ شراکت کے معاملے میں آپس میں طے شدہ شرائط کے مطابق نفع کی تقسیم ضروری ہے، ہر شریک دوسرے کے حصے میں اجنبی ہے، اس لیے کسی شریک کے لیے  جائز نہیں کہ وہ دوسرے شریک کا حق روکے، اگر کسی نے روکا اور ادا نہ کیا تو روزِ قیامت سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

قرآن کریم میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوْا لَا تَأۡكُلُوْا أَمْوَلَكُم بَيْنَكُم بِالْباطِلِ."[النساء: 29]

تفسیر بغوی میں ہے:

"قوله تعالی:( یا أیھا الذین آمنوا لاتأكلوا أموالکم بینکم بالباطل) بالحرام یعني بالربا والقمار والغصب والسرقة والخیانة ونحوها."

(ج: 3، ص: 199، النساء: 29، ط: دار طیبة)

 

بدائع الصنائع میں ہے:

"إذا عرف هذا فنقول: إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويًا أو متفاضلًا، فلا شكّ أنه يجوز و يكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما و الوضيعة على قدر المالين متساويًا و متفاضلًا؛ لأنّ الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال."

(كتاب الشركة، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، 6/62 ط:سعید)

"مبسوط سرخسی" میں ہے:

 

"والشريكان في العمل إذا غاب أحدهما أو مرض أو لم يعمل وعمل الآخر فالربح بينهما على ما اشترطا؛ لما روي أن رجلاً جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أنا أعمل في السوق ولي شريك يصلي في المسجد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لعلك بركتك منه"، والمعنى أن استحقاق الأجر بتقبل العمل دون مباشرته والتقبل كان منهما وإن باشر العمل أحدهما، ألا ترى أن المضارب إذا استعان برب المال في بعض العمل كان الربح بينهما على الشرط أو لا ترى أن الشريكين في العمل يستويان في الربح وهما لا يستطيعان أن يعملا على وجه يكونان فيه سواء، وربما يشترط لأحدهما زيادة ربح لحذاقته وإن كان الآخر أكثر عملاً منه، فكذلك يكون الربح بينهما على الشرط ما بقى العقد بينهما وإن كان المباشر للعمل أحدهما ويستوي إن امتنع الآخر من العمل بعذر أو بغير عذر لأن العقد لا يرتفع بمجرد امتناعه من العمل واستحقاق الربح بالشرط في العقد".

(کتاب الشرکة،11/287،ط: دارالفکر)

سنن ترمذی میں ہے:

"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «‌أتدرون ‌من ‌المفلس»؟ قالوا: المفلس فينا يا رسول الله من لا درهم له ولا متاع، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المفلس من أمتي من يأتي يوم القيامة بصلاته وصيامه وزكاته، ويأتي قد شتم هذا وقذف هذا، وأكل مال هذا، وسفك دم هذا، وضرب هذا فيقعد فيقتص هذا من حسناته، وهذا من حسناته، فإن فنيت حسناته قبل أن يقتص ما عليه من الخطايا أخذ من خطاياهم فطرح عليه ثم طرح في النار»."

(‌‌باب ما جاء في شأن الحساب والقصاص، ج:٤، ص:٦١٣، ط:مطبعة مصطفى)

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے؟ صحابہ نے جواب دیا: ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو،اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوۃ جیسے اعمال لے کر آئے گا،تاہم اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت دھری ہو گی، کسی کا مال (ناحق) کھایا ہو گا اور کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا،چنانچہ اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی، اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں ،اور اس پر واجب الاداء حقوق ابھی باقی رہے، تو ان لوگوں کے گناہ لے کر اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے، اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

صحیح بخاری میں ہے:

"‌عن ‌أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من كانت له مظلمة لأحد من عرضه أو شيء فليتحلله منه اليوم، قبل أن لايكون دينار ولا درهم، إن كان له عمل صالح أخذ منه بقدر مظلمته، و إن لم تكن له حسنات أخذ من سيئات صاحبه فحمل عليه»."

(باب من كانت له مظلمة عند الرجل،  ج:٣:ص:١٣٠، ط:دارطوق)

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :"جس نے کسی پر ظلم کیا ہو،تو وہ آج ہی معاف کرالے،قبل اس کے کہ وہ دن آئے ،جب کہ درہم اور دنانیر نہیں ہوں گے،پھر اعمال صالحہ سے صاحب حق کو اس کا حق دیا جائے گا، اور اگر اعمالِ صالحہ نہ ہوئے تو صاحبِ حق کی خطائیں ظلم کرنے والے کے نامہ اعمال میں ڈالی جائیں گی"۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101591

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں