
(1)میرا اپنا کاربار ہے ,جس میں انویسٹمنٹ کے لیے میرے دوست نے مجھے دس لاکھ روپے دیے اور کہا کہ ان پیسوں کو اپنے کاروبار میں لگاؤ تو میں نے اس رقم سےمال خریدا اور کچھ پرانا قرض ادا کیااور کچھ اپنے استعمال میں لے لیا۔انویسٹر کو میں ماہانہ پرافٹ ادا کرتا ہوں بغیر حساب کے(اندازے سے)اور یہ رقم میں نے تقریبا تین سال سے لی ہوئی ہے،اور ابھی تک پرافٹ دے رہاہوں،اب مجھے احساس ہورہاہے کہ میں غلط کررہاہوں،اس کا زالہ کیا ہوگا؟
2)میں تقریباً 35 سال سے اپنا کاروبار کررہاہوں،اور آج تک میں نے اپنی زکات ادا نہیں کی،مال ادھار آتا ہے،دکان کرائے کی ہے،فلیٹ اپنا ہے،جس میں رہائش پذیر ہوں۔اب زکات کس طرح ادا کروں؟اور آئندہ مال کی زکات کس طرح ادا کروں؟
3:میری دکان میں تقریبا ستر لاکھ کا مال ہے جس میں سے 20 لاکھ کا مال میرا ا پنا ہے اور 50 لاکھ کا مال جو میں نے مختلف دکانوں سے ادھار پے لیا ہوا ہے اور ان کو ہر ہفتے تھوڑا تھوڑا کرکے پیسے دیتا ہوں ۔
اب اس صورت میں زکات 70 لاکھ کے حساب سے دینا ہوگی یا 20 لاکھ کے حساب سے زکات ادا ہوگی؟
وضاحت:
انویسٹر سے رقم اس معاہدے کے تحت لی کہ انویسٹر نے مجھ سے کہا کہ ان پیسو ں کو اپنے کاروبار میں لگاؤ،اور اس دوران ہمارا نفع طے نہیں ہوا تھا کہ کتنا نفع دینا ہوگا،لیکن میں اس کو ہر ماہ غیر متعین نفع دیتا رہاہوں۔
(1)صورت ِ مسئولہ میں کسی سے رقم لے کر اپنے کاروبار کے مجموعی حساب کتاب کیے اور شرعی شرکت کی شرائط کی رعایت رکھے بغیر، اس رقم کو اپنے چلتے کاروبار میں شامل کرکے اس کو ہر مہینے نفع دینا شرعا جائز نہیں ہے، بلکہ یہ قرض لے کر سود ہی کی ایک قسم ہے جو کہ حرام ہے،لہذا اس صورت میں قرض خواہ صرف اپنی اصل رقم لینےکاحق دارہے،نیزسودی معاملہ کرنےپردونوں گناہ گارہوئےہیں،اس پر سچےدل سےتوبہ واستغفار بھی لازم ہے۔
البتہ اگرسائل کو اس کے ساتھ شرکت ہی کا معاملہ کرنا ہے تو معاملہ کے جائز ہونے کے لیے درج ذیل شرائط کی رعایت رکھنا ضروری ہوگا:
2)واضح رہے کہ جب کوئی شخص نصاب کے بقدر مال کا مالک بن جائے تو جب تک وہ صاحبِ نصاب رہے تب تک اس پر ہر سال ،تمام اموال زکوۃ میں سے چالیسواں حصہ (ڈھائی فیصد) زکوۃ ادا کرنا لازم ہوتا ہے۔لہذا اگر کسی نے صاحبِ نصاب بننے کے بعد کئی سال تک زکوۃ ادا نہ کی ہو ،تو اس پرگزشتہ تمام سالوں کی زکوۃ ادا کرنا لازم وضروری ہے۔
مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق جس وقت سے آپ صاحبِ نصاب بنے ہیں، اس وقت سے آپ پر اپنے دیگر قابلِ زکوۃ اموال کی طرح مالِ تجارت کی زکوۃ کی ادائیگی بھی واجب ہوگئی تھی، لہذا گزشتہ سالوں کے مال تجارت کی زکوۃ کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ صاحبِ نصاب بننے کے ٹھیک ایک قمری سال بعد سائل کے پاس جتنا مالِ تجارت موجود تھا، اس کا ڈھائی فیصد(چالیسوں حصہ) اس سال کےزکوۃ کے طور پر دینا ہوگا، دوسرے سال کی زکوٰۃکے لیے گزشتہ سال کے زکوۃکی (ڈھائی فیصد) رقم منہا کرکےباقی ماندہ رقم کا ڈھائی فیصد اداکریں ،پھر اسی طرح ہرسال کی زکوۃکی (ڈھائی فیصد) رقم منہا کر کے باقی ماندہ رقم کا ڈھائی ڈھائی فیصد ادا کر کے بقیہ تمام سالوں کی زکوٰۃ بھی اسی طریقے کے مطابق ادا کریں، البتہ اگر درمیان میں کسی سال آپ صاحبِ نصاب نہ رہے ہوں یا گزشتہ سالوں کی زکوۃ نکالتے ہوئے کسی سال آپ کا مجموعی مالِ تجارت نصاب سے کم رہ جائے تو اس سال (مالکِ نصاب نہ ہونے کی وجہ سے) زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔
لیکن اگر سائل کو ہر سال کے اختتام پر مال تجارت کی کل مالیت متعین طور پر معلوم نہ تو ایک اندازہ کے مطابق ہر سال مال تجارت کی مالیت معلوم کرنے کے بعد اس کا چالیسوں حصہ بطور زکات دے دے۔
3)اسی طرح ادھار پر لی ہوئی اشیاء کی رقم جس کی ادائیگی ذمہ میں واجب ہوتی ہے دیگر قابلِ زکاۃ اموال سے منہا ہوتی ہے، یعنی سائل کے پاس ٹوٹل ستر لاکھ روپے کا مال ہے جس میں سے 20 لاکھ روپے کا مال سائل کاذاتی ہے،اور 50 لاکھ کا مال ادھار پر لیا ہوا ہے،تو 70 لاکھ روپے سے 50 لاکھ (جو کہ قرض ہے)منہا کر کے باقی ماندہ 20 لاکھ کی زکات سائل پر لازم ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر."
(کتاب البیوع، فصل في القرض، ج:5، ص:166، ط:سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے:
"(ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح ... (منها) أن يكون رأس المال من الأثمان المطلقة وهي التي لا تتعين بالتعيين في المفاوضات على كل حال، وهي الدراهم والدنانير، عنانا كانت الشركة أو مفاوضة عند عامة العلماء، فلا تصح الشركة في العروض"
(کتاب الشركة،فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج:6، ص:59، ط:دار الكتب العلمية)
فتح القديرمیں ہے:
"(وكل شركة فاسدة فالربح فيهما على قدر المال، ويبطل شرط التفاضل) لأن الربح فيه تابع للمال فيتقدر بقدره، كما أن الريع تابع للبذر في الزراعة، والزيادة إنما تستحق بالتسمية، وقد فسدت فبقي الاستحقاق على قدر رأس المال.
(قوله وكل شركة فاسدة فالربح فيها على قدر رأس المال إلخ) كألف لأحدهما مع ألفين للآخر فالربح بينهما أثلاثا، وإن كانا شرطا الربح بينهما نصفين بطل ذلك الشرط، ولو كان لكل مثل ما للآخر وشرطا الربح أثلاثا بطل شرط التفاضل وانقسم نصفين بينهما (لأن الربح في) وجوده (تابع للمال) ، وإنما طاب على التفاضل بالتسمية في العقد، وقد بطلت ببطلان العقد فيبقى الاستحقاق على قدر رأس المال المولد له."
(کتاب الشركة،فصل في الشركة الفاسدة، ج:6، ص:194، ط:دار الفكر،بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) ... قوله: لحولانه عليه) أي لأن حولان الحول على النصاب شرط لكونه سببا، وهذا علة للنسبة".
(كتاب الزكوة، ج:2، ص؛295، ط:سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما وجوب الزكاة فمتعلق بالنصاب إذ الواجب جزء من النصاب، واستحقاق جزء من النصاب يوجب النصاب إذ المستحق كالمصروف … وبيان ذلك أنه إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة، وعند زفر يؤدي زكاة سنتين، وكذا هذا في مال التجارة"
(کتاب الزکاۃ،ج:2، ص:7، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101567
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن