بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شرکتِ وجوہ میں کسی ایک شریک کا اپنے لیے نفع بڑھانے کا حکم


سوال

ہم تین دوست ہیں، ہم میں سے ہر ایک علیحدہ طور پر مختلف کمپنیوں کے آئل (Oil) کی ہول سیل خرید وفروخت کا کام کر رہا تھا، چوں کہ ہم میں سے ہر ایک کے پاس تمام کمپنیوں کے آئل (Oil) دستیاب نہیں ہوتے تھے، جب کہ ہمارے پاس آنے والے کسٹمرز مختلف کمپنیوں کے آئل کا مطالبہ کرتے تھے تو ان کسٹمرز کی ڈیمانڈ پر ہم ایک دوسرے سے ادھار مال لے لیتے تھے، جب یہ معاملہ مستقل بنیادوں پر ہونے لگا تو ہم تینوں دوستوں نے مل کر تمام کمپنیوں کے آئل (Oil) کی ہول سیل خرید وفروخت کا کاروبار بطور شرکت شروع کرنے کا فیصلہ کیا، اس طور پر کہ ہم میں سے ہر ایک نفع و نقصان میں برابر کا شریک ہو گا، اس کاروبار کی ابتدا میں ہم میں سے کسی نے بھی اپنا کوئی ذاتی سرمایہ شامل نہیں کیا، بلکہ ہم میں سے ہر ایک نے اپنی گذشتہ ساکھ کے اعتبار سے مارکیٹ سے اس کو جس کمپنی کا آئل (Oil) ادھار ملتا تھا اس کو ہم نے بطور شرکت اٹھا نا شروع کیا پھر اس کا سلسلہ یوں چلا کہ ہم تینوں مشترکہ کاروباری ساکھ کی بنیاد پر مارکیٹ سے مال ادھار خریدتے رہے ، اور پھر اس مال کو فروخت کر کے جو رقم حاصل ہوتی رہی، اس کی رولنگ سے کاروبار کو آگے بڑھاتے گئے، یہاں تک کہ آہستہ آہستہ پورا کاروبار اسی طریقے سے قائم ہو گیا، مزید یہ کہ اب کاروبار میں مستقل اثاثے (Assets) مثلاً گاڑیاں وغیر ہ بھی بن چکی ہیں، اس کے علاوہ دوران کاروبار یہ صورت بھی پیش آتی رہی  اگر چہ ابتدا میں کوئی سرمایہ شامل نہیں کیا تھا، لیکن بعض اوقات کاروباری ضرورت کے تحت ہم میں سے کوئی شریک اپنی ذاتی رقم کاروبار میں بطور قرض لے آتا تھا، تاہم اس رقم کو با قاعدہ شرکت یا سرمایہ کے طور پر شامل نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ اسے قرض سمجھا جاتا اور بعد میں وہ رقم واپس لے لی جاتی تھی، یہ عمل کبھی واقعی کاروباری ضرورت کی وجہ سے ہوتا اور کبھی یوں بھی کہ کسی شریک کے پاس ذاتی رقم زائد ہوتی اور فی الحال اسے اپنی ضرورت نہ ہوتی ، تو وہ کاروبار میں شامل کر دیتا اور پھر بعد میں نکال لیتا۔

اب سوال یہ ہے کہ :

1۔ اس طرح بغیر کسی ابتدائی سرمایہ کے، محض مارکیٹ میں کاروباری ساکھ کی بنیاد پر ادھار مال خرید کر مارکیٹ میں فروخت کے ذریعے کاروبار کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ اور یہ کاروبار / شرکت کی کونسی قسم کہلائے گی ؟

2۔ جب سے کاروبار شروع ہو اتھا اب تک ہم زبانی طور پر معاملات طے کر کے باہمی اتحاد واتفاق سے چلتے رہے ، اب چوں کہ کاروبار کافی پھیل گیا ہے اور کاروبار کے کافی اثاثے (گاڑیاں ، آفس، فرنیچر اور دیگر ساز و سامان ) بھی بن گئے ہیں ، اب ہم چاہ ر ہے ہیں کہ با قاعدہ تحریری معاہدہ کر کے آگے بڑھا جائے، اس حوالے سے رہ نمائی فرمائیں اگر ہم اب معاہدہ کرتے ہیں تو کار و بار / شرکت کی کونسی قسم ہو گی ؟ اور معاملات کیسے طے کرنے چاہئیں؟

3۔ اگر کوئی شریک اس کاروبار سے اپنا نفع نہ لے بلکہ اس نفع کو کاروبار میں ہی باقی رکھے تو آیا اس کا شراکت داری کے اس معاملے میں حصہ (Share) نفع نہ لینے سے بڑھے گا اور دوسرے شرکاء کا حصہ نفع لینے کیوجہ سے کم ہو گا ؟

4۔ اگر کسی وقت کاروباری ضرورت کے تحت کوئی شریک اپنی طرف سے بڑی رقم کاروبار میں فراہم کرے اور وہ اس رقم پر کچھ نفع بھی لینا چاہے ، تو اس کی شرعاً جائز صورت کیا ہو سکتی ہے ؟ یعنی وہ رقم مضاربت یا شرکت کی کسی شکل میں شامل کی جائے تا کہ نفع لینا جائز ہو اور کوئی شرعی قباحت نہ رہے؟ براہ کرم تفصیل سے ان تمام امور کی وضاحت فرمادیں۔

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ کاروبار محض مارکیٹ میں کاروباری ساکھ کی بنیاد پر تینوں شرکاء نے شروع کیا تھا، اور ابتداءً شرکاء نے کوئی ذاتی سرمایہ نہیں لگایا تھا، تو ایسی صورت میں یہ کاروبار شرعاً درست ہے،فقہی اصطلاح میں اسے ”شرکتِ وجوہ“ کہا جاتا ہے،  لہٰذا جتنا نفع حاصل ہوا ہو، وہ حسبِ معاہدہ تمام شرکاء کے درمیان برابر تقسیم ہوگا۔

2۔ معاملات کو تحریری شکل میں محفوظ کرنا اور باقاعدہ کسی تحریری معاہدے کے تحت چلنا ایک مستحسن امر ہے، تاکہ بعد میں کوئی غلط فہمی اور بدگمانی باقی نہ رہے، اور شرکاء کے درمیان  دائرہ کار متعین ہوجائے، تاہم جب تک نیا تحریری معاہدہ سامنے نہ ہو، اس کی تفصیلات ومشمولات کی وضاحت نہ ہو تب تک مذکورہ نئے معاہدے کے مطابق  کاروبار کی شرعی تعیین نہیں ہوسکتی۔ 

3۔4۔ محض نفع وصول نہ کرنے اور اسے کاروبار میں باقی رکھنے سے کسی شریک کا حصہ (Share) خود بخود نہیں بڑھتا، اور نہ ہی دوسرے شرکاء کا حصہ کم ہوتا ہے،البتہ اگر تمام شرکاء کی باہمی رضامندی سے اس نفع کو باقاعدہ طور پر سرمایہ (Capital) میں شامل کر لیا جائے اور شراکت داری کی نسبتیں تبدیل کر دی جائیں، تو اس صورت میں حصہ بڑھ سکتا ہے، ورنہ نہیں۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(أما شركة الوجوه) فهو أن يشتركا، وليس لهما مال لكن لهما وجاهة عند الناس فيقولان: اشتركنا على أن نشتري بالنسيئة ونبيع بالنقد على أن ما رزق الله سبحانه وتعالى من ربح فهو بيننا على شرط كذا، كذا في البدائع. وهكذا في المضمرات، وتكون مفاوضة بأن يكونا من أهل الكفالة والمشترى بينهما نصفين وعلى كل واحد منهما نصف ثمنه ويتساويا في الربح ويتلفظا بلفظ المفاوضة أو يذكرا مقتضياتها فتتحقق الوكالة والكفالة في الأثمان والمبيعات، وإن فات شيء منها كانت عنانا، كذا في فتح القدير، وإن أطلقت كانت عنانا، كذا في الظهيرية. والعنان منهما تجوز مع اشتراط التفاضل في ملك المشترى وينبغي أن يشترطا الربح في هذه الشركة على قدر اشتراط الملك في المشترى حتى لو تفاضلا في ملك المشترى واشترطا التساوي في الربح بينهما أو كان على العكس لا يجوز هذا الشرط ويكون الربح بينهما على قدر ما اشترطا الملك بينهما، كذا في المحيط."

(كتاب الشركة، الباب الرابع في شركة الوجوه وشركة الأعمال، 2/ 327، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707102368

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں