بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ کاروبار کا حکم اور سرمایہ کے بغیر شرکت و حصہ کا مطالبہ کرنا


سوال

ہماری سکھر میں ایک کمپنی ہے،ہم سات بھائی ہیں،اور  ہم سات بھائی  اس کمپنی میں دیگر دو پاٹنرز  کے ساتھ پچاس فیصد کے  شریک ہیں۔اسی طرح کراچی میں بھی ایک کمپنی ہے،جس میں ہم پانچ بھائی شریک ہیں،جبکہ سات بھائیوں میں سے ایک بھائی نے صرف کام کرنے کا معاہدہ کیا تھا،اور اس کا کوئی سرمایہ بھی نہیں لگا تھا کہ اس کمپنی میں مشینیں لگنے سے پہلے پہلے اس کا انتقال ہوگیا تھا،جبکہ بڑا بھائی اس کمپنی کے شروع کرنے سے پہلے الگ ہوگیا تھا ،اور اس کمپنی میں بڑے بھائی نے کوئی سرمایہ نہیں لگایا تھا۔

اب میرےبھتیجے   جس بھائی کا انتقال ہوا ہے اس کے اور بڑے بھائی کے بچے یہ دعوی کررہے ہیں  کہ ہمارا بھی کراچی والی  کمپنی میں حصہ ہے ،اور ہم اس میں تمہارے ساتھ شریک ہیں۔

تو کیا ان کا یہ دعوی درست ہے؟اور کراچی والی  کمپنی میں ان کا حصہ ہے؟

سکھر والی کمپنی میں تمام بھائی شریک ہیں یا نہیں؟اور ہر ایک کا کتنا حصہ ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ سکھر والی کمپنی میں سائل کے تمام بھائیوں کا سرمایہ شامل ہو،تو سکھر والی کمپنی میں ساتوں بھائی شریک ہوں گے،اور ہر بھائی اپنے اپنے سرمایہ کے تناسب سے حق دار ہوگا،اگر پچاس فیصد شیئرز میں ساتوں بھائیوں کا برابر کا سرمایہ شامل ہو،تو تمام بھائی برابر کے حق دار ہوں گے۔

جبکہ کراچی والی  کمپنی میں سوال میں ذکرکردہ تصریح کے مطابق بڑے بھائی نے کوئی سرمایہ شامل نہیں کیا تھا،نیز دوسرے بھائی نے بھی محض معاہدہ کیا تھا اور سرمایہ شامل کرنے سے قبل اس کا انتقال ہوچکا تھا،تو اس صورت میں  اگر ان دونوں بھائیوں کا ذاتی کوئی سرمایہ شامل نہ ہو ،اور نہ ہی  بھائیوں کا کوئی مشترکہ سرمایہ شامل کیا گیا ہو تو یہ دونوں بھائی اس  کراچی والی کمپنی میں شرعا شریک نہیں کہلائیں گے۔

لہذا اس  کراچی والی کمپنی میں جن پانچ بھائیوں نے  ذاتی سرمایہ شامل کیا ہو وہی اس کے حق دار ہیں،بقیہ دو بھائیوں کی اولاد کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہوگا۔

جیساکہ بدائع الصنائع میں ہے:

"(وأما) الشركة بالأعمال: فهو أن يشتركا على عمل من الخياطة، أو القصارة، أو غيرهما فيقولا: اشتركنا على أن نعمل فيه على أن ما رزق الله عز وجل من أجرة فهي بيننا، على شرط كذا."

(کتاب الشرکة،ج :6،ص :57،ط :دارالکتب العلمیة)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"شركة المفاوضة: المفاوضة في اللغة. وسمي هذا النوع من الشركة مفاوضة لا عتبار المساواة في رأس المال والربح وفي القدرة على التصرف وغيرها، قال في الهداية: لأنها شركة عامة في جميع التجارات، يفوض كل واحد من الشريكين أمر الشركة إلى صاحبه على الإطلاق. وقيل: هي من التفويض؛ لأن كل واحد منهما يفوض التصرف إلى صاحبه على كل حال في غيبته وحضوره.وهي في الاصطلاح: أن يتعاقد اثنان فأكثر على أن يشتركا في عمل بشرط أن يكونا متساويين في رأس مالهما وتصرفهما ودينهما أي (ملتهما)، ويكون كل واحد منهما كفيلا عن الآخر فيما يجب عليه من شراء وبيع، أي أن كل شريك ملزم بما ألزم شريكه الآخر من حقوق ما يتجران فيه، وما يجب لكل واحد منهما يجب للآخر، أي أنهما متضامنان في الحقوق والواجبات المتعلقة بما يتاجران فيه، ويكون كل واحد منهما فيما يجب لصاحبه بمنزلة الوكيل له، وفيما يجب عليه بمنزلة الكفيل عنه.فهما يتساويان في رأس المال وفي الربح."

(القسم الثالث:العقود،الفصل الخامس:الشرکات،ج :5،ص :3881،ط :دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101228

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں