بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1447ھ 07 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شرک کسے کہتے ہیں؟ شرکِ اصغر اور شرکِ اکبر کیا ہے؟


سوال

 1: شرک کسے کہتے ہیں؟ اور کون سے الفاظ بولنے سے انسان مشرک ہو کر دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے؟

2: شرکِ اصغر اور شرکِ اکبر کیا ہے؟

3: بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ میری بکری دو بچے دیتی ہے یا اچھا دودھ دیتی ہے، تو کیا یہ شرک ہے؟ یعنی سب کچھ کرنے والا تو اللہ ہی ہے، لیکن انہوں نے نسبت بکری کی طرف کی، تو کیا اس سے شرک لازم آتا ہے؟

جواب

خداتعالیٰ کی ذات یا صفات میں کسی دوسرے کو شریک کرنےکو شرک  کہتے ہیں ، ذات میں شرک کرنے کے معنی یہ ہیں کہ خدا ماننے لگے، اور جیسے آتش پرست کہ دو خدا ماننے کی وجہ سے مشرک ہوئے، اور جیسے بت پرست کہ بہت سے خدا مان کر مشرک ہوتے ہیں ۔

صفات میں شرک کرنے کا معنی یہ ہے کہ خدا کی صفات کی طرح کسی دوسرے کے لیے کوئی صفت ثابت کرنا، کیوں کہ کسی مخلوق میں خواہ وہ فرشتہ ہو یا نبی ، ولی ہو یا شہید ، پیر ہو یا امام، خداتعالیٰ کی صفتوں کی طرح کوئی صفت نہیں ہوسکتی ،ان سب کوشرک اکبراور شرک جلي کہاجاتاہے،ان کے مرتکب دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے۔

کوئی عمل لوگوں کودکھانے کی خاطرکرنا تاکہ لوگ  نیک متقی پرہیزگارسمجھیں ،یا اس کے علاوہ کسی اور جذبے سے عمل کرنا، مقصداللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی رضامندی ہوتواس کو حدیث میں شرک خفی اور شرک اصغرکہا گیا ہے، اس کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج تونہیں ہوتاتاہم  ریاکاری گناہ کبیرہ ہے ، اعمال کا ثواب ضائع ہوجاتا ہے ۔  

کسی کایہ کہناکہ میری بکری زیادہ دودھ دیتی ہے،یامیری بکری دوبچے  دیتی ہے،ان الفاظ سے آدمی مشرک نہیں ہوتاکیونکہ اس سے مقصد یہ نہیں ہوتاکہ بکری خود یہ سب کچھ کرسکتی ہے ،بلکہ بکری توسبب کے درجے میں ہے ، کام سارے اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے ہوتےہیں،اس لیے اگراللہ تعالیٰ کاحکم نہ ہوتوبکری نہ بچہ دی سکتی ہے اور نہ دودھ ، اس لیے مسلمان جب بھی یہ الفاظ استعمال کرتےہیں تو ان کا مقصود ان اشیاء کو مختارکل سمجھنا نہیں ہوتا۔  اللہ تباروتعالیٰ کے ذات مبارک کوہی مختارکل اور قادرمطلق سمجھتےہیں ،اس لیے ان الفاظ سے کوئی مشرک نہیں ہوتا۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن أبي سعيد الخدري قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نتذاكر المسيح الدجال فقال: «ألا أخبركم بما هو أخوف عليكم عندي من المسيح الدجال؟» فقلنا: بلى يا رسول الله قال: «الشرك الخفي أن يقوم الرجل فيصلي فيزيد صلاته لما يرى من نظر رجل» . رواه ابن ماجه "

(كتاب الرقاق، باب السمعة والرياء، الفصل الثالث، رقم الحديث:533،  ج:3، ص:1466، ط:المكتب الإسلامي)

تفسیرابن کثیرمیں ہے:

وقال الإمام أحمد: حدثنا محمد بن عبد الله بن الزبير، حدثنا كثير بن زيد، عن [ربيح] بن عبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري عن أبيه، عن جده قال: كنا نتناوب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فنبيت عنده تكون له حاجة أو يطرقه أمر من الليل فيبعثنا، فكثر المحتسبون وأهل النوب، فكنا نتحدث فخرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "ما هذه النجوى؟ " ألم أنهكم عن النجوى؟ قال: فقلنا: تبنا إلى الله؛ أي نبي الله، إنما كنا في ذكر المسيح وفرقنا منه، فقال: "ألا أخبركم بما هو أخوف عليكم من المسيح عندي؟ " قال: قلنا: بلى، فقال: "الشرك الخفي أن يقوم الرجل يصلي لمكان الرجل.

(سورة الكهف، آية:110، ج:5، ص:202، ط:دار ابن الجوزي)

معارف القرآن کاندھلوی میں ہے:

"شرک کی دوقسمیں ہیں : ایک شرک جلی اور ایک شرک خفی،شرک جلی یہ ہے کہ آدمی خداتعالیٰ کی ذات اور صفات اورعبادات میں کسی کوشریک کرے اور شرک خفی یہ ہے کہ نموداور شہرت کےلیےکام کرے،اور بعض مرتبہ وہ شرک اس قدر خفی ہوتاہے،کہ اندھیری رات میں کوہ صفاپر چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ خفی ہوتاہے اور جوکام خالص اللہ کےلیے ہواور غیراللہ کااس  میں شائبہ بھی نہ ہووہ اخلاص ہے۔"

(سورۃ کہف، آیت:110، ج:5، ص:37، ط:مکتبۃ المعارف شہدادپورسندھ)

معار ف القرآن   (مفتی محمد شفیع صاحب ؒ )میں ہے:

"سورۃ کہف کی آخری آیت میں"ولايشرك بعبادة ربه احدا" كاشان نزول جوروایات حدیث میں مذکورہے اس سےمعلوم ہوتاہےکہ اس میں شرک سے مرادشرک خفی یعنی ریاءہے.  .  .  .  .  .  .  .  . حضرت محمودبن لبیدرضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میں تمہارے بارے میں جس چیزپرسب سے زیادہ خوف رکھتاہوں وہ شرک اصغرہے،صحابہ نےعرض کیایارسول اللہ شرک اصغرکیاچیزہے؟ آپ نے فرمایاکہ ریاء(رواہ احمدفی مسندہ) ۔"

(سورۃ الکہف، آیت:110، ج:5، ص:662/661، ط:دارالعلوم کراچی)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیہ میں ہے:

 الإشراك: مصدر ‌أشرك، وهو اتخاذ الشريك، يقال ‌أشرك بالله: جعل له شريكا في ملكه، والاسم ‌الشرك (1) . قال الله تعالى حكاية عن لقمان: {يا بني لا ‌تشرك بالله إن ‌الشرك لظلم عظيم} (2) هذا هو المعنى المراد عند الإطلاق.

كما يطلق أيضا على الكفر الشامل لجميع الملل غير الإسلام. ‌فالشرك أخص من الكفر على الإطلاق العام، فكل ‌شرك كفر ولا عكس.

كما يطلق الإشراك على مخالطة الشريكين. يقال: ‌أشرك غيره في الأمر أو البيع: جعله له شريكا. كما يقال: تشارك الرجلان، واشتركا، وشارك أحدهما الآخر (3) . وتفصيله في مصطلحي (تولية، ‌وشركة) .

‌‌الإشراك بالله تعالى:

2 - الإشراك بالله تعالى جنس تحته أنواع، وكله مذموم، وإن كان بعضه أكبر من بعض.

‌والشرك له مراتب، فمنه‌‌ ‌الشرك الأكبر، ومنه الأصغر، وهو ‌الشرك الخفي.

أ - ‌الشرك الأكبر: وهو اتخاذ الشريك لله تعالى في ألوهيته أو عبادته، وهو المراد بقوله تعالى: {إن الشرك لظلم عظيم} (1) وعن ابن مسعود في الصحيحين قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم أي الذنب أعظم عند الله؟ قال: أن تجعل لله ندا، وهو خلقك (2)

ب -‌‌ الشرك الأصغر وهو الشرك الخفي: وهو مراعاة غير الله في العبادة. مثل الرياء والنفاق، لقوله تعالى: {ولا يشرك بعبادة ربه أحدا} (3) قال ابن حجر: نزلت فيمن يطلب الحمد والأجر بعباداته وأعماله. وقول رسول الله: إن أدنى الرياء شرك، وأحب العبيد إلى الله الأتقياء الأسخياء الأخفياء ۔

(حرف الألف، إشراك،الإشراك بالله،الشرك الأكبر، ج:55، ص:6،ط:كويتيه)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"اعلم أن إخلاص العبادة لله تعالى واجب والرياء فيها، وهو أن يريد بها غير وجه الله تعالى حرام بالإجماع للنصوص القطعية، وقد سمي عليه الصلاة والسلام الرياء: الشرك الأصغر."

(كتاب الحظروالإباحة، فصل في البيع، فرع يكره اعطاء سائل المسجد، ج:6، ص:425، ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707101828

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں