بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شکوہ لفظ کو بطورِ تخلص اپنے نام کے ساتھ استعمال کرنا


سوال

میرا نام محمد شاہد ہے، میں اپنے نام کے ساتھ تخلص کے طور پر”شکوہ“ لکھتا ہوں۔

کیا نام کے ساتھ بطورِ تخلص شکوہ لکھنا مناسب اور جائز ہے؟اور اللہ کے فضل سے مجھے اللہ سے کوئی شکوہ نہیں ہے۔

جواب

بصورتِ مسئولہ آپ کے لیے اپنے نام کے ساتھ ”شکوہ“ کو بطورِ تخلص استعمال کرنامناسب نہیں ہے، کیوں کہ شریعت میں اچھے اور مثبت مفہوم والے نام رکھنے کی تاکید کی گئی ہے، اور ”تخلص“ بھی نام کا جز یا بسااوقات نام کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتا ہے، لہذا اِس کے لیے  کسی  اچھے معنیٰ و مفہوم والا لفظ استعمال کیا جائے۔نیزآپ کی نیت اگر چہ شکوہ شکایت کی نہیں ہے لیکن"شکوہ" ظاہری اعتبار سے گلہ، شکایت اور رنج و ملال پر دلالت کرتا ہے،اور سننے والا اِسے اِسی معنی میں ہی  لے گا۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(وعن عائشة - رضي الله عنها - قالت: «إن النبي - صلى الله عليه وسلم - كان يغير الاسم القبيح» ) أي: غير اللائق بضده."

(كتاب الآداب، باب الأسامي، ج:7، ص:3006، ط:دارالفكر)

المحیط البرہانی میں ہے:

"وفي «الفتاوى» : التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في كتابه ولا ذكره رسول الله عليه السلام، ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لا تفعل."

(كتاب الإحسان والكراهية،‌‌الفصل الرابع والعشرون، ج:5، ص:382، ط:دارالكتب العلمية)

تحفۃ المولود باحکام المولود میں ہے:

"ومنها الأسماء التي لها معان تكرهها النفوس ولا تلائمها كحرب ومرة وكلب وحية وأشبهاهها وقد تقدم الأثر الذي ذكره مالك في موطئه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال للقحة من يحلب هذه فقام رجل فقال أنا فقال ما اسمك قال الرجل مرة فقال له اجلس ثم قال من يحلب هذه فقام رجل آخر فقال له ما اسمك قال حرب فقال له اجلس ثم قال من يحلب هذه فقام رجل فقال أنا قال ما اسمك قال يعيش فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم احلب فكره مباشرة المسمى بالاسم المكروه لحلب الشاة."

(‌‌‌‌الباب الثامن، الفصل الثاني فيما يستحب من الأسماء وما يكره منها،ص:120، ط: مكتبة دارالبيان)

اردو لغت (تاریخی اصول پر) میں ہے:

"تَخَلُص (فت ت ، خ ، شد ل بضم) امذ:شاعر کا مختصر نام جسے وہ اپنے اشعار میں اصل نام کی جگہ استعمال کرتا ہے۔"

(اردو لغت 5/ 43، ط: اردو لغت بورڈ)

وفیہ ایضاً:

"شِکوا - شکوہ(کس ش ، سک ک  ) امذ  :شکَایت ، گلہ۔"

(اردو لغت، 12/ 665، ط: اردولغت بورڈ)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100154

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں