
شکاری کتوں کے ذریعے گیدڑوں کا شکار کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟
واضح رہے کہ شریعت میں جانوروں کو آپس میں لڑوانا یا محض لہو و لعب اور تفریح کے لیے شکار کرنا ممنوع ہے، کیونکہ اس میں جانوروں کو بلا وجہ تکلیف دینا اور ایذا رسانی شامل ہے، جو کہ شرعاً ناجائز ہے۔ تاہم، سدھائے ہوئے کتوں کے ذریعے شکار کرنا اس وقت جائز ہے جب اس کا مقصد جائز منفعت ہو، مثلاً کھانے کے لیے شکار کرنا یا کسی ضرر رساں جانور کو تلف کرنا ہو۔ شریعت نے شکار یا حفاظت جیسے واقعی مقاصد کے لیے کتا پالنے اور استعمال کرنے کی اجازت دی ہے، لیکن محض کھیل یا تفریح کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں۔
صورتِ مسئولہ میں، اگر گیدڑ انسانوں، مویشیوں یا فصلوں کے لیے ضرر رساں ہو اور اس کے تلف کرنے کی ضرورت ہو تو سدھائے ہوئے کتوں کے ذریعے اس کا شکار کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس عمل میں جانوروں کو بلا ضرورت تکلیف نہ دی جائے اور شکار کا مقصد محض کھیل یا تماشہ نہ ہو۔ لیکن اگر شکار کا مقصد صرف تفریح یا لہو و لعب ہو، تو یہ عمل شرعاً ممنوع ہے۔
سنن الترمذی میں ہے:
"عن ابن عباس قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التحريش بين البهائم."
(أبواب الجهاد،باب ما جاء في كراهية التحريش،ج4،ص210،رقم 1708،ط مطبعة مصطفى البابي الحلبي)
وفي نيل الأوطار میں ہے:
"قوله: (عن التحريش بين البهائم) قال في القاموس: التحريش: الإغراء بين القوم أو الكلاب اهـ. فجعله مختصا ببعض الحيوانات. وظاهر الحديث أن الإغراء بين ما عدا الكلاب من البهائم يقال له تحريش. ووجه النهي أنه إيلام للحيوانات وإتعاب لها بدون فائدة بل مجرد عبث."
(كتاب الجهاد والسير،أبواب السبق والرمي،باب النهي عن صبر البهائم وإخصائها،ج 8،ص 99،ط دار الحديث، مصر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100386
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن