
میری والدہ کا حال ہی میں انتقال ہو چکا ہے، انتقال کی وجہ یہ تھی کہ میری بھابھی میری والدہ سے بہت زیادہ لڑتی تھی، اور ان کو بالوں سے بھی پکڑتی تھی، 9 رمضان المبارک کو اس نے میری والدہ سے بدتمیزی کی ، وہ نماز پڑھ رہی تھیں، تو پنکھا بند کر دیا کہ یہ میرے شوہر کا لگایا ہوا ہے، جب میرے بھائی آگئے، تو والدہ نے اس کو شکایت کی کہ میرے ساتھ بدتمیزی کی ہے،پنکھا بند کیا ہے، تو میرے بھائی نے اس سے پوچھا، تو اس نے کچھ نہیں کہا، تو بھائی نے اس کے منہ پر برتن مارا ،جس سے غصہ ہوکر اس نے میری والدہ کی نماز کی کرسی توڑ دی، اور جا کر میری والدہ کو بالوں سے اس طرح پکڑا کہ گھر کے دوسرے افراد اور خود اس کے شوہر نے چھڑانے کی کوشش کی، مگر نہ چھڑا سکے، پھر میرے دوسرے بھائی نے اس کی پیٹ پر لات ماری ،جس سے اس نے میری والدہ کو چھوڑا ،جب تک کہ میری والدہ کی زبان نکل چکی تھی، اور ان کا انتقال ہو گیا ،اب سوال یہ ہے کہ اس نے میری والدہ کو بالوں سے پکڑا جس سے وہ وفات پا گئی،اب یہ جان بوجھ کر قتل کیا ہے یا انجانے میں ؟ اور اس قتل کی کیا سزاہے ؟
صورت مسئولہ میں سائل کی بھابھی نے سائل کی والدہ کو بالوں سے کھینچا، جس کے نتیجے میں سائل کی والدہ کا انتقال ہو گیا، شریعت کی رو سے یہ قتل ”قتل خطا“کے زمرے میں آتا ہے،جس کا حکم یہ ہے کہ قاتل (یعنی سائل کی بھابھی) پر کفارہ بھی لازم ہوگا، اور اس کے عاقلہ پر دیت بھی واجب ہوگی ،کفارہ یہ ہے کہ قاتل دو مہینے لگاتار روزے رکھے، دیت اگر سونے کے اعتبار سے وصول کی جائے، تو اس کی مقدار ایک ہزار (1000) دینار یعنی 375 تولہ سونا یعنی جدید پیمانے کے اعتبار سے 4 کلو 374 گرام سونا یا اس کی قیمت بنتی ہے، اور اگر چاندی کے اعتبار سے وصول کی جائے تو اس کی مقدار دس ہزار (10000) درہم یعنی 2625 تولہ چاندی یعنی جدید پیمانے کے اعتبار سے 30 کلو 618 گرام چاندی یا اس کی قیمت بنتی ہے۔ اگر یہ ایک ساتھ ادا کردے بہتر، ورنہ تین سال کی مدت میں وصول کی جائے گی۔
ملحوظ رہے کہ عاقلہ سے مراد وہ جماعت، تنظیم یا کمیونٹی ہے جس کے ساتھ اس قاتل کا تناصر ( باہمی تعاون) کا تعلق ہو،اور اگر عاقلہ نہیں ہے تو خود سائل کی بھابھی پر یہ رقم ادا کرنا لازم ہو گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) الثالث (خطأ وهو) نوعان: لأنه إما خطأ في ظن الفاعل ك (أن يرمي شخصا ظنه صيداً أو حربياً) أو مرتداً (فإذا هو مسلم أو) خطأ في نفس الفعل كأن يرمي (غرضاً) أو صيدا (فأصاب آدمياً) أو رمى غرضاً فأصابه ثم رجع عنه أو تجاوز عنه إلى ما وراءه فأصاب رجلاً أو قصد رجلاً فأصاب غيره أو أراد يد رجل فأصاب عنق غيره، ولو عنقه فعمد قطعاً أو أراد رجلاً فأصاب حائطاً ثم رجع السهم فأصاب الرجل فهو خطأ؛ لأنه أخطأ في إصابة الحائط ورجوعه سبب آخر والحكم يضاف لآخر أسبابه، ابن كمال عن المحيط. قال: وكذا لو سقط من يده خشبة أو لبنة فقتل رجلاً يتحقق الخطأ في الفعل ولا قصد فيه، فكلام صدر الشريعة فيه ما فيه. وفي الوهبانية: وقاصد شخص إن أصاب خلافه ... فذا خطأ والقتل فيه معذر وقاصد شخص حالة النوم إن يمن ... فيقتص إن أبقى دما منه ينهر".
(كتاب الجنايات،ج: 6،ص :530، ط: سعید)
وفیه ایضاً:
"وفي الوهبانية:وقاصد شخص إن أصاب خلافه … فذا خطأ والقتل فيه معذر.
وقاصد شخص حالة النوم إن يمن … فيقتص إن أبقى دما منه ينهر"
(كتاب الجنايات،ج:6،ص: 531،ط:سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولو رمى قلنسوة على رأس رجل، فأصاب الرجل فهذا خطأ قال هشام قلت: رجل رمى إنسانا بسهم فأخطأ فأصاب السهم حائطا ثم عاد السهم فأصاب ذلك الإنسان، وقتله قال: هذا خطأ، ولو لوى ثوبا فضرب به رأس رجل فشجه موضحة فهو عمد، ولو مات من ذلك صار خطأ ذكره في العيون كذا في المحيط".
(كتاب الجنايات، الباب الثاني فيمن يقتل قصاصا ومن لا يقتل، ج:6، ص:3، ط: دارالفکر،بیروت)
وفیه ایضاً:
"والخطأ على نوعين .... وموجب ذلك الكفارة والدية على العاقلة."
(كتاب الجنايات، الباب الثاني فيمن يقتل قصاصا ومن لا يقتل، ج:6، ص:3، ط:رشيدية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144610100478
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن