بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شیعہ لڑکی سے نکاح کرنے کا حکم


سوال

میں اہلِ تشیع سیدہ لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں،میرا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے، کیا اس صورت میں نکاح ہو سکتا ہے؟

 

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شیعہ قرآنِ مجید میں تحریف کا عقیدہ رکھتا ہو، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو (نعوذباللہ) خدا مانتا ہو، یا حضرت جبرئیل امین علیہ السلام سے وحی پہنچانے میں غلطی کا قائل ہو، یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرتا ہو، یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتا ہو، یا ان کے علاوہ کسی بھی کفریہ عقیدے کا حامل ہو، تو ایسے عقائد اسلام کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں۔ اس بنا پر ایسا شخص دائرۂ اسلام سے خارج شمار ہوگا، اور اس کے ساتھ کسی مسلمان کا نکاح جائز نہیں ہوگا۔

لہٰذا اگر مذکورہ لڑکی ان بالا عقائد کی حامل ہو تو سنی لڑکے( سائل ) کے لیے اس سے نکاح  کرناجائز نہیں ہوگا۔ البتہ اگر وہ اپنے ان باطل عقائد سے سچے دل کے ساتھ توبہ کرے اور کسی قسم کا تقیہ نہ کرے،  اور ان عقائد سے صراحت کے ساتھ براءت کا اظہار کرے، تو ایسی صورت میں سائل کا  نکاح  مذکورہ لڑکی سے  جائز ہوگا ۔

اور اگر وہ لڑکی مذکورہ بالا عقائد یا دیگر کفریہ عقائد میں سے کوئی عقیدہ نہیں رکھتی تو اصولاً اس سے کسی سنی مسلمان کا نکاح جائز ہوگا۔البتہ اگر وہ اہلِ تشیع کی مذہبی مجالس میں باقاعدہ شرکت کرتی ہو، یا نکاح کے بعد یہ اندیشہ ہو کہ سنی شوہر بھی اس ماحول سے متاثر ہو سکتا ہے، تو ایسی صورت میں وہاں نکاح کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

فتاوی شامی میں ہے:

''وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي أو كان ينكر صحبة أبي بكر الصديق أو يقذف عائشة الصديقة فهو كافر ؛ لمخالفة القواطع المعلومة من الدين بالضرورة''.

(فصل في المحرمات، کتاب النکاح، جلد 3 ص: 46  ط:  سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے : 

"الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما والعياذ بالله، فهو كافر، وإن كان يفضل عليا كرم الله تعالى وجهه على أبي بكر - رضي الله تعالى عنه - لا يكون كافرا إلا أنه مبتدع والمعتزلي مبتدع إلا إذا قال باستحالة الرؤية، فحينئذ هو كافر كذا في الخلاصة."

‌ولو ‌قذف ‌عائشة - ‌رضي ‌الله ‌تعالى ‌عنها - بالزنا كفر بالله، ولو قذف سائر نسوة النبي صلى الله عليه وسلم لا يكفر ويستحق اللعنة، ولو قال عمر وعثمان وعلي رضي الله عنهم لم يكونوا أصحابا لا يكفر ويستحق اللعنة كذا في خزانة الفقه

من أنكر إمامة أبي بكر الصديق رضي الله عنه، فهو كافر، وعلى قول بعضهم هو مبتدع وليس بكافر والصحيح أنه كافر، وكذلك من أنكر خلافة عمر رضي الله عنه في أصح الأقوال كذا في الظهيرية.

ويجب إكفارهم بإكفار عثمان وعلي وطلحة وزبير وعائشة - رضي الله تعالى عنهم - ويجب إكفار الزيدية كلهم في قولهم انتظار نبي من العجم ينسخ دين نبينا وسيدنا محمد صلى الله عليه وسلم كذا في الوجيز للكردري.

ويجب إكفار الروافض في قولهم برجعة الأموات إلى الدنيا، وبتناسخ الأرواح وبانتقال روح الإله إلى الأئمة وبقولهم في خروج إمام باطن وبتعطيلهم الأمر والنهي إلى أن يخرج الإمام الباطن وبقولهم إن جبريل عليه السلام غلط في الوحي إلى محمد صلى الله عليه وسلم دون علي بن أبي طالب رضي الله عنه، وهؤلاء القوم خارجون عن ملة الإسلام وأحكامهم أحكام المرتدين كذا في الظهيرية."

 (كتاب السير،الباب التاسع في أحكام المرتدين،ج:2،ص: 264،ط:دار الفكر بيروت)

فتاوی بینات میں ہے:

"سوال: کیا سنی لڑکی کا نکاح غیر سنی مرد کے ساتھ ہو سکتا ہے، اگر نہیں تو کیوں؟

الجواب باسمه تعالی

جو شخص عقیدہ کفر رکھتا ہو   مثلاً  قرآن کریم میں کمی بیشی کا قائل ہو یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتا ہو یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو صفات الوہیت سے متصف مانتا ہو یا یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ حضرت جبریل علیہ السلام غلطی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پروحی لے آئے تھے یا کسی اور ضر ورت دینیہ کا منکر ہو ایسا شخص تو مسلمان ہی نہیں، اور اس سے کسی بھی عورت کا نکاح درست نہیں۔

جو شخص حضرات شیخین رضی  اللہ عنہما پر سب کرتا ہو اس کے کفر میں اہل علم کا اختلاف ہے،  مگر اس کے فسق و بدعات میں تو کوئی شک نہیں ، لہذا ایسا شخص  بھی سنی عورت کا کفو  نہیں  ۔

(کتاب النکاح ،ج:3،ص:153،ط:مجلس دعوت و تحقیق)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144708100296

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں