
شیخ فانی کے زیر ناف بال کا شرعا کیا حکم ہے ؟
شیخ فانی اگر خود سے زیر ناف بال صاف کرنے پر قادر نہ ہو تو وہ اپنی بیوی سے زیر ناف بال صاف کرواسکتا ہے، اور اگر بیوی بھی موجود نہ ہواور بالوں کے بڑے ہونے کی وجہ سے اذیت ہو تو پھر وہ بامر مجبوری کسی اورسے زیر ناف بال صاف کراسکتا ہے، لیکن اس دوسرے شخص پر لازم ہوگا کہ ہاتھوں پر دستانے (میڈیکل گلوز وغیرہ ) چڑھاکر شرم گاہ پر نظر ڈالے بغیر کسی کریم وغیرہ سے ان کے زیر ناف بال صاف کرے۔
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
"وذكر الفقيه أبو الليث رحمه الله ، في فتاواه : في باب
الطهارات : قال محمد بن مقاتل الرازي : لا بأس بأن يتولى صاحب الحمام عورة إنسان بيده عند التنوير ، إذا كان يغض بصره ، كما أنه لا بأس به ، إذا كان يداوى جرحاً [ أو قرحاً ] قال الفقيه : وهذا في حالة الضرورة لا في غيرها ، وينبغي لكل أحد أن يتولى عانته بيده ، إذا تنور ."
(کتاب الکراہیۃ،ج:18،ص:99،ط:مکتبہ زکریا دیوبند )
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"في جامع الجوامع حلق عانته بيده وحلق الحجام جائز إن غض بصره كذا في التتارخانية. "
(کتاب الکراہیۃ،الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها،5 / 358،رشیدیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101910
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن