
میری اہلیہ کو وسوسے کی بیماری ہے، جس کی وجہ سے 2015 سے لے کر 2025 تک وہ 156 روزے نہیں رکھ سکی، جب روزہ رکھتی تھی تو وسوسہ یہ آتا تھا کہ وضو میں کلی کرتے ہوئے میرے حلق میں پانی چلا گیا ہوگا، جس کی وجہ سے ہر وقت بہت تکلیف میں تھی ،اور اب حال یہ ہے کہ اسی وسوسے کی بیماری کی وجہ سے وہ روزے رکھنے کے قابل نہیں ہے، اگرچہ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ٹھیک ہو جاؤ گی، یہ بات ڈاکٹر پہلے دن سے کہہ رہے ہیں، لیکن 20 سال ہوگئے ہیں اور اب تک طبیعت ٹھیک نہیں ہوئی ہے،البتہ ڈاکٹروں کی طرف سے روزہ رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے،وہ کہتے ہیں اگر رکھ سکتی ہے تو رکھ لے۔
کیا یہ عورت فدیہ دے گی یا قضا کرے گی ؟
فدیہ کس کو دینا بہتر ہے:علماء طلبہ یا مساکین پڑوسی ، رشتہ داروں کو ؟
کتنا فدیہ دے گی جب کہ عورت مالدار خاندان سے ہے آئندہ کے لیے روزے کا کیا حکم ہے؟
ابھی آنے والے رمضان میں روزہ رکھنے کی بھرپور کوشش کرے گی اگر مشکلات ہوں تو پھر کیا حکم ہوگا؟
واضح رہے کہ اگر بیماری ایسی ہو جس میں روزہ رکھنا ممکن نہ ہو، یا مرض بڑھ جانے اور تاخیر سے شفا یاب ہونے کا غالب گمان یا تجربہ ہو یا مسلمان دین دار ڈاکٹر منع کرے تو ایسی بیماری کی وجہ سے رمضان المبارک کا روزہ چھوڑنے کی شریعت نے اجازت دی ہے، جب صحت یاب ہوجائے تو جتنے روزے چھوٹے ہوں ہر ایک روزے کے بدلے ایک روزے کی قضا کرنا ہوگی ،لہذاصورتِ مسئولہ میں سائلہ پر صرف اس وسوسہ کی بنیاد پر کہ وضو کرتے ہوئے کلی کی تھی تو میرے حلق میں پانی نہ چلاگیا ہو روزہ چھوڑنا درست نہیں ،کیوں کہ یہ ایسی بیماری نہیں کہ روزہ رکھنے سے اس کے بڑھ جانے کا گمان ہے،نہ ہی ڈاکٹر روزہ رکھنے سے منع کررہے ہیں،البتہ سائل کی بیوی کو چاہیے کہ روزے کے دوران وضو کرے تو کلی نہ کرے تاکہ یہ وسوسہ روزے میں رکاوٹ نہ بنے،اور ہر روزے کے بدلے ایک روزے کی قضاء لازم ہوگی،فدیہ ادا کرنا درست نہ ہوگا۔
صحیح البخاری میں ہے:
"من أفطر يوما في رمضان، من غير عذر ولا مرض لم يقضه صيام الدهر، وإن صامه".
(کتاب الصوم،باب اذا جامع فی رمضان، ج:4، ص: 327، ط:بیروت)
ترجمہ :جس نے رمضان میں کسی عذر اور بیماری کے بغیر روزہ چھوڑ دیا، اگر وہ ساری زندگی روزے رکھتا رہے، پھر بھی وہ اس کی فضیلت کو نہیں پاسکتا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"أو مريض خاف الزيادة) لمرضه وصحيح خاف المرض، وخادمة خافت الضعف بغلبة الظن بأمارة أو تجربة أو بأخبار طبيب حاذق مسلم مستور."
(قوله خاف الزيادة) أو إبطاء البرء أو فساد عضو بحر أو وجع العين أو جراحة أو صداعا أو غيره، ومثله ما إذا كان يمرض المرضى قهستاني۔۔۔قوله بغلبة الظن) تنازعه خاف الذي في المتن وخاف وخافت اللتان في الشرح ط (قوله بأمارة) أي علامة (قوله أو تجربة) ولو كانت من غير المريض عند اتحاد المرض ط عن أبي السعود (قوله حاذق) أي له معرفة تامة في الطب، فلا يجوز تقليد من له أدنى معرفة فيه ط (قوله مسلم) أما الكافر فلا يعتمد على قوله لاحتمال أن غرضه إفساد العبادة كمسلم شرع في الصلاة بالتيمم فوعده بإعطاء الماء فإنه لا يقطع الصلاة لما قلنا بحر (قوله مستور) وقيل عدالته شرط وجزم به الزيلعي وظاهر ما في البحر والنهر ضعفه ."
(کتاب الصوم، فصل فی العوارض المبیحة للصوم، ج:2، ص: 422، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100922
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن