بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

شوال کے چھ روزوں میں قضا کی نیت کرنا


سوال

کیا شوال کے چھ روزوں کو ہی حیض کے روزوں کی قضاسمجھا جا سکتا ہے یا اس کے لیے الگ روزے رکھے جائیں؟

جواب

واضح رہے کہ نفل روزہ الگ ہے اور فرض کی قضا کا روزہ  الگ اور مستقل حیثیت رکھتا ہے،  روزہ میں  نفل کی نیت کرنے سے وہ نفلی روزہ ہوگا  اور قضا کی نیت کرنے سے وہ قضا کا روزہ ہوگا، بیک وقت ایک روزہ میں، نفل اورفرض کی نیت نہیں کرسکتے ہیں؛ لہٰذا شوال میں روزے رکھتے ہوئے اگر شوال کے روزوں کی فضیلت کے حصول کے لیے نفل روزے کی نیت کی تو قضا روزوں کی ادائیگی کی نیت کرناصحیح نہیں ہے، اور شوال میں قضا کی نیت سے روزے رکھے تو شوال کے روزوں کی فضیلت حاصل نہیں ہوگی۔ قضا روزے ذمے میں ہونے کے باوجود اگر کوئی ان دنوں میں نفلی روزے کی نیت کرتا ہے تو نفل ہی ادا ہوگا   اور اس کا ثواب ملے گا، البتہ اس سے قضا روزہ ادا نہیں ہوگا۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 299) :

ولو نوى قضاء رمضان والتطوع كان عن القضاء في قول أبي يوسف، خلافاً لمحمد فإن عنده يصير شارعاً في التطوع، بخلاف الصلاة فإنه إذا نوى التطوع والفرض لا يصير شارعاً في الصلاة أصلاً عنده، ولو نوى قضاء رمضان وكفارة الظهار كان عن القضاء استحساناً، وفي القياس يكون تطوعاً، وهو قول محمد، كذا في الفتاوى الظهيرية.

الفتاوى الهندية (1/ 196):

ومتى نوى شيئين مختلفين متساويين في الوكادة والفريضة، ولا رجحان لأحدهما على الآخر بطلا، ومتى ترجح أحدهما على الآخر ثبت الراجح، كذا في محيط السرخسي. فإذا نوى عن قضاء رمضان والنذر كان عن قضاء رمضان استحساناً، وإن نوى النذر المعين والتطوع ليلاً أو نهاراً أو نوى النذر المعين، وكفارة من الليل يقع عن النذر المعين بالإجماع، كذا في السراج الوهاج. ولو نوى قضاء رمضان، وكفارة الظهار كان عن القضاء استحساناً، كذا في فتاوى قاضي خان. وإذا نوى قضاء بعض رمضان، والتطوع يقع عن رمضان في قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى -، وهو رواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في الذخيرة.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (3/ 13):

ولو نوى صوم القضاء والنفل أو الزكاة والتطوع أو الحج المنذور والتطوع يكون تطوعاً عند محمد؛ لأنهما بطلتا بالتعارض فبقي مطلق النية فصار نفلاً، وعند أبي يوسف يقع عن الأقوى ترجيحاً له عند التعارض، وهو الفرض أو الواجب.

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110200498

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں