بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کپڑون کے اوپر سے شھوت کے ساتھ چھونے سے حرمت مصاہرت کا حکم


سوال

میں ایک دفعہ سو رہی تھی، اور پندرہ، سولہ سالہ بیٹا مجھ سے کچھ دور سو رہا تھا، سوتے میں بیٹے کے قریب ہوگئی، اور میرے پاؤں کی ایڑی بیٹے کے شرمگاہ پر رکھی گئی، اور میں شوہر سمجھ کر سوتے میں ہی تھوڑے دیر مجھے تلذذ ہوا، لیکن جیسے ہی میرے آنکھ کھلی تو وہ بیٹا تھا، اور میں جلدی سے اٹھی، بیٹے کو اچھی طرح سے چیک کیا، وہ بے خبر سورہا تھا، اللہ سے خوب استغفار کی۔اب کیا میرا اپنے شوہر کے ساتھ نکاح پر کوئی اثر تو نہیں ہوگا؟ کوئی حرمت کا مسئلہ تو نہیں ہوگا؟

وضاحت: بیٹا کپڑوں میں ملبوس تھا، یعنی  عام جو قمیص اور شلوار ہوتے ہیں بیٹا اسی میں ملبوس تھا۔

جواب

شہوت کے ساتھ چھونے سے حرمت مصاہرت ثابت ہونے کے لیے دیگر شرائط کے ہوتے ہوئے مندرجہ ذیل دو شرائط  کا پایا جانابھی ضروری ہے، اگر  یہ شرائط پائی جاتی ہیں تو حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجائے گی،  ورنہ نہیں ہوگی:

1) مس بغیر حائل کے ہو یعنی درمیان میں کوئی کپڑا وغیرہ نہ ہو، یا  درمیان میں حائل اس قدر باریک ہو   کہ اس سے جسم کی حرارت پہنچتی ہو۔

2) اگر چھونے والی عورت ہے اور وہ شہوت کا دعوی کرے تو اس کے شوہر کو  اس خبر کے سچے ہونے کا غالب گمان ہو، کیوں کہ ایسے دعوی سے شوہر کا حق باطل  ہوتاہے ،اس لیے  صرف دعوی کافی نہیں،  بلکہ شوہر کو ظنِ غالب  حاصل ہونا  یا  شرعی گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر بیٹے کے جسم پر موٹے کپڑے تھے کہ اس سے اس کی بدن کی حرارت محسوس نہ ہو تو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة."

(کتاب النکاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، ج:1، ص:275، ط:دار الفکر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة

(قوله: بحائل لا يمنع الحرارة) أي ولو بحائل إلخ، فلو كان مانعا لا تثبت الحرمة، كذا في أكثر الكتب، وكذا لو جامعها بخرقة على ذكره."

(کتاب النکاح، ‌‌فصل في المحرمات، ج:3، ص:32، ط:سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144701100765

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں