بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی رضامندی کی بنیاد پر جاری کی گئی عدالتی خلع کی ڈگری کی شرعی حیثیت


سوال

میری شادی کو تقریباً پندرہ سال ہو چکے ہیں۔ میرا شوہر پچھلے پانچ چھ سال سے بہت زیادہ نشہ کرنے لگا تھا۔ اس نشے کی عادت کی وجہ سے ہماری گھریلو زندگی بری طرح متاثر ہوئی، اور وہ مارپیٹ کرتا تھا، دو سال قبل مجھے گھر سے نکال دیا اور نان نفقہ بھی نہیں دیتا تھا۔ اسی بنا پر میں نے عدالت سے خلع کی ڈگری کے لیے رجوع کیا اور خلع کی ڈگری حاصل کر لی، اور لڑکے نے فیصلے کے بعد خلع پر زبانی رضامندی کا بھی اظہار کیا۔ خلع کی ڈگری منسلک ہے۔

درج بالا تفصیل کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ میرا نکاح ختم ہو گیا ہے یا اب بھی برقرار ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائلہ کی جانب سے مہیا کردہ  خلع کے کاغذات کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ سائلہ نے اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں خلع کا دعویٰ اس بنا پر دائر کیا کہ شوہر نشہ کرتا تھا، مارپیٹ کرتا تھا، اسے گھر سے نکال دیا تھا اور نان و نفقہ بھی ادا نہیں کرتا تھا۔

شوہر عدالت میں حاضر ہوا اور اس نے جواب داخل کیا، جس میں ایک شق یہ بھی ہے کہ:

"c. That in case of Khula, the plaintiff may be directed to return the paid dower amount of Rs.10,000/- to the defendant.

ج: یہ کہ خلع کی صورت میں مدعیہ کو ہدایت کی جائے کہ وہ مہر کی ادا شدہ رقم مبلغ 10,000/- روپے مدعا علیہ کو واپس کرے۔"

مذکورہ شق سے  کی رو سےسائلہ کے شوہر کی طرف سے  مہر کے بدلے خلع پر رضامندی پائی جاتی ہے ،چنانچہ جب عدالت نے بھی مہر کے عوض خلع کا فیصلہ جاری کیا، نیز سائلہ کے شوہر نے اس پر زبانی رضامندی کا بھی اظہار کیا،اس کے لیے یہ فیصلہ شرعی طور پر معتبر ہے اور خلع واقع ہو چکی ہے۔۔ سائلہ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو چکی ہے اور سائلہ اپنی عدت (تین حیض، یا اگر حیض نہ آئے تو تین ماہ، اور اگر حاملہ ہوں تو ولادت تک)مکمل کرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے  میں آزاد ہوگی ۔اور عدت گزار چکی ہوتو سائلہ دوسری جگہ نکاح میں آزاد ہے۔

نیز اگر سائلہ نے اپنے شوہر سے مہر وصول کیا تھا تو اس کی واپسی سائلہ پر لازم ہے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"(قال): ‌والخلع ‌جائز ‌عند ‌السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد."

( كتاب الطلاق، باب الخلع، ج : 6، ص : 173، ط : دار المعرفة)

الاختيار لتعليل المختار میں ہے:

"(وهو أن تفتدي المرأة نفسها بمال ليخلعها به، فإذا فعلا لزمها المال ووقعت تطليقة بائنة) والأصل في جوازه قوله تعالى: {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229] ، وإنما تقع تطليقة بائنة لقوله عليه الصلاة والسلام: «الخلع تطليقة بائنة» ولأنه كناية فيقع به بائنا لما مر ولا يحتاج إلى نية، إما لدلالة الحال، أو لأنها ما رضيت ببذل المال إلا لتملك نفسها وتخرج من نكاحه، وذلك بالبينونة وهو مذهب عمر وعثمان وعلي وابن مسعود رضي الله عنهم."

(‌‌كتاب الطلاق، ‌‌باب الخلع، ج : 3، ص : 156، ط : دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144708100642

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں