
تقریباً ایک مہینہ پہلےکی بات ہے میرااور میری بیوی کے درمیان کسی مسئلہ پرجھگڑا ہوا، جس پر میں نے اسے یہ کہا کہ: اگر آئندہ میری والدہ سے بدتمیزی کی (یعنی دوسروں کے سامنے میری والدہ کو شرمندہ کیا)تواس وقت تمہیں تین طلاق دے دوں گا،اس کے کچھ عرصہ بعد ہمارے درمیان پھر لڑائی ہوئی،کے دوران میں نے بیوی کو مارا اور وہ کمرے سے نکل گئی، دوسرے کمرے میں غصے کی حالت میں والدہ سے کہا کہ میں اپنے بچوں کو لے کر جاؤں گی، اگر طلاق دےدے تو بھی چلی جاؤں گی، مجھے کوئی مسئلہ نہیں، اس پر میری والدہ نےڈانٹے ہوئے کہا کہ بیٹی یہ آپ کیا کہہ رہی ہے، بیوی کہہ رہی ہے کہ مجھ سےیہ (مذکورہ بات کو وہ بدتمیزی سمجھ رہی ہے)بدتمیزی ہوگئی،جب کہ میری والدہ کہہ رہی کہ مجھ سے کوئی بدتمیزی نہیں کی، اور یہ بات مجھے بدتمیزی نہیں لگی۔
پھر میری ساس آگئی، میری بیوی اس کے ساتھ جانے لگی، تو میں نے بیوی کو ڈرانے کی نیت سے کہاتھا طلاق کی نیت نہیں تھی کہ" اگر تم ابھی اپنی والدہ کےساتھ اس گھر سے گئی توتمہیں طلاق ہےاور تیرا میرا رشتہ ختم"، اس کے بعد وہ اپنی والدہ کے ساتھ چلی گئی۔
اس کے بارے میں پہلے دارالافتاء جامعہ بنوری ٹاؤن سے ایک فتویٰ لیا تھا، اس فتویٰ کے سوال میں یہ تھاکہ: میرے اور بیوی کے درمیان کسی مسئلہ پر تکرار ہوئی، جس پر میں نے اسے کہا کہ "اگرآئندہ میری والدہ سے بد تمیزی کی تو تمہیں تین طلاق ہیں"، اس کے کچھ عرصہ بعد ہمارے درمیان پھر لڑائی ہوئی، جس پر میری بیوی نے میری والدہ سے بدتمیزی کی، اس سوال کے مطابق جامعہ سے تین طلاق کا فتویٰ جاری ہوا۔
جامعہ کے فتویٰ کے لیے سوال میرے بہنوئی نے لکھوایاتھا،میں نے ہاں میں ہاں ملائی اور اس سوال کو پڑھ کرسوال کے آخر میں، میں نے خود سائن بھی کرلیا۔
پھر ایک اور دار الافتاء سے فتویٰ لیا،جس کے سوال میں یہ بات وضاحت سے لکھی کہ :ہمارے درمیان لڑئی ہوئی تو میری بیوی نے میری والدہ سے بدتمیزی کی، یعنی میری بیوی نے میری والدہ سے کہا کہ "میں اپنے بچوں کو لے کر جاؤں گی، اگر طلاق دےدے تو بھی چلی جاؤں گی، مجھے کوئی مسئلہ نہیں"،اس دار الافتاء سے فتویٰ آیا کہ یہ بدتمیزی نہیں ہے، اسے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
شوہر کا بیان: میں نے وہ الفاظ کہے ہی نہیں جو مذکورہ دونوں فتوؤں میں مذکور ہے، بلکہ میں نے کہا تھا کہ "اگر آئندہ میری والدہ سے بدتمیزی کی تواس وقت تمہیں تین طلاق دے دوں گا"، اس پر میں حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ جامعہ سے جو پہلے فتویٰ لیا ہے، اس میں جو سوال لکھوایا ہے، وہ میرے بہنوئی نے لکھوایا ہے، میں نے ہاں میں ہاں ملائی ہے، اورسوال کے آخر میں نے سائن بھی کیا تھا، میں نےبیوی سے یہ الفاظ نہیں کہے تھے کہ "اگر تم نے میری والدہ سے بدتمیزی کی تو تمہیں تین طلاق ہیں، بلکہ یہ کہا تھا کہ "تمہیں تین طلاقیں دے دوں گا"اسی طرح دوسرے دار الافتاء کے سوال میں جو بیان ہے وہ میرا اور میری اہلیہ کا مشترکہ بیان ہے، میں حلفیہ کہتا ہوں کہ میں نے یہ کہا تھا کہ"اگر تم نے میری والدہ سے بدتمیزی کی تو تمہیں تین طلاقیں دوں گا، یہ نہیں کہا تھا کہ"تین طلاقیں ہیں "۔
بیوی نے بھی اسی طرح کہا کہ" میں حلفیہ بیان دیتی ہوں کہ میرے شوہر نے کہا تھا کہ "اگرآئندہ تم نے میری والدہ سے بدتمیزی کی تو میں تمہیں تین طلاقیں دے دوں گا" یہ نہیں کہا تھا کہ" تین طلاقیں ہیں"۔
سائل کی والدہ نے یہ کہا کہ "میں حلفیہ بیان دیتی ہوں میری بہومیرے پاس صرف غصےکی حالت میں آئی تھی، اس نے مجھ سے کوئی بدتمیزی نہیں کی۔
(1)اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے کتنی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے پہلے دواستفتاء میں یہ اقرار کیا تھاکہ میں نے اپنی بیوی سے یہ کہا تھاکہ"اگر آئندہ تم نے میری والدہ سے بدتمیزی کی تو تمہیں تین طلاق ہیں"، تو اس سے تین طلاقیں والدہ کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر معلق ہوگئی تھیں، اورجب سائل کی بیوی نے سائل کی والدہ کے سامنے غصے کی حالت میں یہ کہا کہ"میں اپنے بچوں کو لے کر جاؤں گی، اگر طلاق دےدے تو بھی چلی جاؤں گی، مجھے کوئی مسئلہ نہیں" اور سائل کی والدہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اس نے بدتمیزی کے لہجے میں یہ جملہ نہیں کہا تھا تو یہ بدتمیزی شمار نہیں ہوگی، لہٰذا اس سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، نیز تعلیق کہ (اگر آئندہ تم نے میری والدہ سے بدتمیزی کی تو تمہیں تین طلاق ہیں) اب تک برقرار ہے، لہٰذا جب بھی سائل کی بیوی سائل کی والدہ سے بدتمیزی کرےگی تو سائل کی بیوی پر اسی وقت تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
البتہ سائل نے جب بیوی سے یہ کہا کہ"اگر تم ابھی اپنی والدہ کےساتھ اس گھر سے گئی تو تمہیں طلاق ہےاور تیرا میرا رشتہ ختم"، توجیسے ہی سائل کی بیوی اپنی والدہ کے ساتھ گھر چلی گئی تھی تواس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی تھی، اورپھر مزید اس جملہ کہ"تیرا میرا رشتہ ختم" سےاگر واقعۃً سائل کی نیت طلاق کی نہیں تھی تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، اب تک چوں کہ عدت باقی ہے؛اس لیے سائل اپنی بیوی سے رجوع کرکے ساتھ رہ سکتا ہے،اس صورت میں آئندہ سائل کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"قالت لزوجها: من باتو نميباشم، فقال الزوج: مباش، فقالت: طلاق بدست تو است مرا طلاق كن، فقال الزوج: طلاق ميكنم طلاق ميكنم و كرر ثلاثًا طلقت ثلاثًا، بخلاف قوله: كنم؛ لأنه استقبال فلم يكن تحقيقًا بالتشكيك....."في المحيط: لو قال بالعربية: أطلق لايكون طلاقًا."
(كتاب الطلاق، الباب الثانى ، الفصل الثانى فى الطلاق بالفاظ الفارسية، ج:1، ص:384، ط:مكتبه رشيدية)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"( وتنحل ) اليمين ( بعد ) وجود ( الشرط مطلقاً ) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدةً، ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها."
(کتاب الطلاق،باب التعلیق، ج:3، ص:355، ط:سعید)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے :
"وزوال الملك بعد اليمين بأن طلقها واحدةً أو ثنتين لا يبطلها، فإن وجد الشرط في الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فدخلت وهي امرأته وقع الطلاق ولم تبق اليمين، وإن وجد في غير الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فطلقها قبل وجود الشرط ومضت العدة ثم دخلت الدار تنحل اليمين ولم يقع شيء، كذا في الكافي."
(کتاب الطلاق،الباب الرابع،الفصل الثاني في تعليق الطلاق بكلمة كل وكلما،ج:1،ص:416،ط:رشیدیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. اهـ. ويأتي تمامه۔۔۔(أو هازلا) لا يقصد حقيقة كلامه۔۔۔ (قوله أو هازلا) أي فيقع قضاء وديانة كما يذكره الشارح، وبه صرح في الخلاصة معللا بأنه مكابر باللفظ فيستحق التغليظ، وكذا في البزازية۔"
(کتاب الطلاق، ج:3،ص: 236/237/238، ط:سعید)
مبسوط للسرخسی میں ہے:
"إذا قال لا نكاح بيني وبينك ولا سبيل لي عليك فهو نفي في الحال، وفي المستقبل لا في الماضي فتسع فيه نية الطلاق بالاتفاق."
(کتاب الطلاق،باب ما تقع به الفرقة مما يشبه الطلاق، ج:6، ص:82، ط:دار المعرفة - بيروت)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ولو قال لها: لا نكاح بيني وبينك، أو قال: لم يبق بيني وبينك نكاح، يقع الطلاق إذا نوى.....ولو قال: لم يبق بيني وبينك شيء ونوى به الطلاق لا يقع، وفي الفتاوى: لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع، كذا في العتابية."
(کتاب الطلاق،الباب الثاني، الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، ج: 1، صفحہ: 375-376، ط: رشیدیة)
وفیه ایضاً:
"وإن اختلفا في وجود الشرط فالقول له إلا إذا برهنت وما لا يعلم إلا منها فالقول لها في حقها كأن حضت فأنت طالق وفلانة أو إن كنت تحبيني فأنت طالق وفلانة فقالت: حضت أو أحبك طلقت هي فقط وإنما يقبل قولها إذا أخبرت والحيض قائم فإذا انقطع لا يقبل قولها ولو قال لها: إن حضت حيضة يقبل في الطهر الذي يلي الحيضة لأنه الشرط فلا يقبل قبله ولا بعده هذا إذا كذبها الزوج وأما إذا صدقها فتطلق ضرتها أيضا كذا في التبيين وهذا أيضا إذا لم يعلم وجود الحيض منها أما إذا علم طلقت فلانة أيضا كذا في الجوهرة النيرة."
(كتاب الطلاق، الباب الرابع،الفصل الثالث في تعليق الطلاق، ج:1، ص:422، رشيديه)
البحرالرائق میں ہے:
"(قوله وإن اختلفا في وجود الشرط فالقول له) أي للزوج لأنه منكر وقوع الطلاق، وهي تدعيه، وهذا أولى من التعليل بأنه متمسك بالأصل لأن الأصل عدم الشرط، والقول لمن يتمسك بالأصل لأن الظاهر شاهد له. اهـ.
لأنه لا يشمل ما إذا كان الظاهر شاهدا لها، والحكم قبول قوله مطلقا فلذا لو قال لهما إن لم تدخلي هذه الدار اليوم فأنت طالق فقالت لم أدخلها، وقال الزوج بل دخلتيها فالقول له، وإن كان الظاهر شاهدا لها، وهو أن الأصل عدم الدخول لكونه منكرا، وأقوى منه لو قال لها إن لم أجامعك في حيضتك فالقول له أنه جامعها مع أن الظاهر شاهد لها من وجهين كون الأصل عدم العارض، وكون الحرمة مانعة له من الجماع قيد بالشرط لأن الاختلاف لو كان في وقت المضاف كان القول لها كما إذا قال لها أنت طالق للسنة ثم قال جامعتك، وهي طاهرة لا يقبل قوله بخلاف ما إذا كانت حائضا لأنه يمكنه إنشاء الجماع فيه."
(کتاب الطلاق،باب التعليق في الطلاق، ج:4، ص:24، ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفیه ایضاً:
"و إذا طلق الرجل امرأته تطليقةً رجعيةً أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض."
(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة و فيما تحل به المطلقة و ما يتصل به، ج:1، ص:470، رشيديه)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"وإن وجد في غير الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فطلقها قبل وجود الشرط ومضت العدة ثم دخلت الدار تنحل اليمين ولم يقع شيء كذا في الكافي."
(کتاب الطلاق،الباب الرابع،الفصل الأول في ألفاظ الشرط، ج:1، ص:416، ط: رشیدیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101044
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن