
دو بھائیوں کا ایک مشترکہ باغ ہے۔ ان میں سے ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح معاملہ کرتا ہے کہ آپ یہ باغ مساقات پر لے لو، مثلاً پانچواں حصے کے بدلے میں، یعنی آپ جو عمل کرتے ہو تو پیداوار کا پانچواں حصہ آپ کو بدلے میں ملے گا، بقیہ پیداوار میرے اور آپ کے درمیان آدھی آدھی ہوگی، کیا اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مساقات کا مذکورہ معاملہ شرعاً درست نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں شرکت و اجارہ کو جمع کیا جارہا ہے جوکہ شرعاً ممنوع ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"ولو استأجره ليحمل له نصف هذا الطعام بنصفه الآخر لا أجر له أصلا لصيرورته شريكا... (ولو) استأجره (لحمل طعام) مشترك (بينهما فلا أجر له)؛ لأنه لا يعمل شيئا لشريكه إلا ويقع بعضه لنفسه فلا يستحق الأجر (كراهن استأجر الرهن من المرتهن) فإنه لا أجر له لنفعه بملكه... (قوله: فلا أجر له) أي لا المسمى ولا أجر المثل زيلعي؛ لأن الأجر يجب في الفاسدة إذا كان له نظير من الإجارة الجائزة وهذه لا نظير لها إتقاني، وظاهر كلام قاضي خان في الجامع أن العقد باطل؛ لأنه قال: لا ينعقد العقد."
(کتاب الإجارۃ، باب الإجارۃ الفاسدۃ، ج: 6 ص: 57-60، ط: دار الفكر بيروت)
امداد الاحکام میں ہے:
” کیا شریک اجیر بن سکتا ہے؟ اور اس کے جواز کی کوئی صورت ہے یا نہیں؟ الخ
جواب:۱۔درست نہیں۔
جواب:۲۔ان کے واسطے نفع میں زیادہ حصّہ مقرر کردیا جائے، مثلا ان کی رقم ۴؍۱ کی نسبت رکھتی ہے، اور ان کو نفع میں سے ۳؍۱ دیا جائے تو یہ جائز ہے۔“
(کتاب الاجارۃ، ج:۳ ؍۶۱۴، ۶۱۵، دارالعلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101276
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن