
میں نے پڑھا ہے کہ غسل تب فرض ہوتا ہے جب حشفہ (عضو تناسل کا سرا) مکمل طور پر ویجائنا کے اندر داخل ہو جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہاں ویجائنا سے مراد سوراخ ہے یعنی ویجائنا کی اوپننگ (opening) یا وہ باہر والا حصہ ہے جسے انگریزی میں وُلوا (vulva) یا وُلور ویسٹیبیول (vulvar vestibule) بھی کہتے ہیں؟ یعنی فرجِ داخل میں حشفہ کا غائب ہونا غسل کے لیے ضروری ہے یا پھر لبیا منورا (labia minora) کے بیچ میں جو جگہ ہوتی ہے وہاں غائب ہو جائے، مگر سوراخ میں نہ جا سکے کیونکہ لڑکی ورجن ہے اور تھوڑی مشکل بھی ہو رہی ہے سوراخ میں داخل کرنے میں، تو اس میں کیا حکم ہوگا اگر انزال نہ ہو؟ ۔
صورتِ مسئولہ میں غسل فرض ہونے کے لیے مرد کےآلہ تناسل کا خاتون کی شرم گاہ کےاندرونی حصے میں داخل ہونا ضروری ہے، اگر مرد کا آلہ تناسل خاتون کی شرمگاہ کے ظاہری چھتری نما حصے میں داخل ہوا تو محض ظاہری حصے میں غائب ہونے سے غسل فرض نہیں ہوگا۔
بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے:
"والثاني: إيلاج الفرج في الفرج في السبيل المعتاد سواء أنزل، أو لم ينزل؛ لما روي أن الصحابة -رضي الله عنهم - لما اختلفوا في وجوب الغسل بالتقاء الختانين بعد النبي صلى الله عليه وسلم وكان المهاجرون يوجبون الغسل، والأنصار لا، بعثوا أبا موسى الأشعري إلى عائشة -رضي الله عنها- فقالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا التقى الختانان، وغابت الحشفة وجب الغسل أنزل، أو لم ينزل»، فعلت أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم واغتسلنا، فقد روت قولًا، وفعلًا".
(كتاب الطهارة، فصل : الغسل، ج:1، ص:36، الناشر: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144610101351
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن