بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شرمگاہ کے ظاہری حصے میں آلہ تناسل داخل ہونے سے غسل کا حکم


سوال

 میں نے پڑھا ہے کہ غسل تب فرض ہوتا ہے جب حشفہ (عضو تناسل کا سرا) مکمل طور پر ویجائنا کے اندر داخل ہو جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہاں ویجائنا سے مراد سوراخ ہے یعنی ویجائنا کی اوپننگ (opening) یا وہ باہر والا حصہ ہے جسے انگریزی میں وُلوا (vulva) یا وُلور ویسٹیبیول (vulvar vestibule) بھی کہتے ہیں؟ یعنی فرجِ داخل میں حشفہ کا غائب ہونا غسل کے لیے ضروری ہے یا پھر لبیا منورا (labia minora) کے بیچ میں جو جگہ ہوتی ہے وہاں غائب ہو جائے، مگر سوراخ میں نہ جا سکے کیونکہ لڑکی ورجن ہے اور تھوڑی مشکل بھی ہو رہی ہے سوراخ میں داخل کرنے میں، تو اس میں کیا حکم ہوگا اگر انزال نہ ہو؟ ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں غسل فرض ہونے کے لیے مرد کےآلہ تناسل کا خاتون کی شرم گاہ کےاندرونی حصے میں داخل ہونا ضروری ہے، اگر مرد کا آلہ تناسل خاتون کی  شرمگاہ کے ظاہری چھتری نما حصے میں داخل ہوا تو محض ظاہری حصے میں غائب ہونے سے غسل فرض نہیں ہوگا۔

بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے:

"والثاني: إيلاج الفرج في الفرج في السبيل المعتاد سواء أنزل، أو لم ينزل؛ لما روي أن الصحابة -رضي الله عنهم - لما اختلفوا في وجوب الغسل بالتقاء الختانين بعد النبي صلى الله عليه وسلم وكان المهاجرون يوجبون الغسل، والأنصار لا، بعثوا أبا موسى الأشعري إلى عائشة -رضي الله عنها- فقالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا التقى الختانان، وغابت الحشفة وجب الغسل أنزل، أو لم ينزل»، فعلت أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم واغتسلنا، فقد روت قولًا، وفعلًا".

(كتاب الطهارة، فصل : الغسل،  ج:1، ص:36،  الناشر: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144610101351

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں