بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 صفر 1448ھ 09 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

شریعت کے حکم پر شریعت کو چھوڑو/سائیڈ میں رکھو کہنے کا شرعی حکم


سوال

 اگر کوئی شخص کسی کو شریعت کا حکم بتائے، اور وہ جواب میں کہے کہ "شریعت کو چھوڑو، سائیڈ میں رکھو، ہر وقت شریعت کی بات کرتے ہو"، تو کیا یہ کہنا کفر ہے؟ اور کیا اس سے اس کا اسلام ختم ہو جاتا ہے؟ اور نکاح باقی رہتا ہے یا ختم ہو جاتا ہے؟

 

جواب

صورتِ مسئولہ میں کسی شخص کا یہ کہنا  "شریعت کو چھوڑو، سائیڈ میں رکھو، ہر وقت شریعت کی بات کرتے ہو" مناسب نہیں، تاہم اس سے وہ کافر نہیں ہوا، کیوں کہ  اس جملے میں مختلف احتمالات ہیں، لہذا نکاح برقرار ہے۔

فتاوی خیریہ میں ہے :

" سئل: في طائفة من الفلاحين دعوا إلى الشرع الواضح المبين؛ في قضية تتعلق بالجنايات من قتل وجراحات فأبوا قائلين: لا نعمل بالشرع، وإنما نعمل بدعائم العرب والفلاحين، ماذا يترتب عليهم بذلك شرعًا؟

أجاب: إن قالوا ذلك لاعتقادهم عدم حقيقة الشرع، أو استخفافًا؛ فلا ريب في كفرهم بإجماع المسلمين، ويجب أن يجرى عليهم أحكام المرتدين، وإن لم يكن واحدًا منهما، فقد اختلف في كفرهم، قال في جامع الفصلين: قال لخصمه: حكم الشرع كذا، فقال خصمه: (من برسهم كار مي كنم بشرع ني)؛ كفر، وقيل: لا، ومعنى هذه الألفاظ: أنا أعمل بالعادة لَا بِالشَّرْعِ . "

(کتاب السیر ،باب المرتدین،مطلب من قال لا أعمل بالشرع، بل أعمل بدعائم العرب ،ج:1،ص:106،ط:دارسعادت)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر، ووجه واحد يمنع، فعلى المفتي أن يميل إلى ذلك الوجه كذا في الخلاصة في البزازية إلا إذا صرح بإرادة توجب الكفر، فلا ينفعه التأويل حينئذ كذا في البحر الرائق، ثم إن كانت نية القائل الوجه الذي يمنع التكفير، فهو مسلم، وإن كانت نيته الوجه الذي يوجب التكفير لا تنفعه فتوى المفتي، ويؤمر بالتوبة والرجوع عن ذلك وبتجديد النكاح بينه وبين امرأته كذا في المحيط."

(کتاب السیر،قبیل ،الباب العاشر في البغاة،ج:2،ص:283،ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100733

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں