بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ذو الحجة 1447ھ 13 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شیئرز (حصص) کا ہبہ کرنا اور بیٹے کو ہبہ کرنے کے بعد اس میں رجوع کاحکم


سوال

میرے والد کی کمپنی ہے، 1990 میں والد نے کمپنی سے شیئر زجاری کیے ،شیئرز میں ہم بھائیوں، بہن اور والدہ کو برابر حصہ دیا  گفٹ کے طور پر،اس وقت کے حساب سے ہر ایک کا ایک لاکھ 8 ہزار500 روپے حصہ بنا، پھر 2016 میں والد نے بہن کےحصہ میں جو شیئرزتھےوہ چھوٹے بھائی کے نام منتقل کر دیے،والدہ کے جو شیئرزتھے وہ اپنے نام منتقل کر دیے، پھر انہی کو میرے نام منتقل کر دیا،2021 میں جب والدہ کا انتقال ہوا تو ان کا ترکہ شریعت کے مطابق تقسیم کیا گیا ،اب والد صاحب کہہ رہے ہیں کہ ہماری والدہ کا حصہ جو اپنے نام کیا پھر میرے نام کیا اس کو میں نے جو گفٹ کیا ہے اس پر میں پشیمان ہوں ،یہ میں آپ کی والدہ کے ترکے میں شامل کر کے تمام ورثاء کو شریعت کے مطابق تقسیم کروں گا۔

نوٹ: والد نے ہر ایک کے نام شیئرز جاری کیے ،ان کو رجسٹر بھی کیا، اس وقت کے بعد سے ہم کمپنی میں بطور مالک  کام کرتے ہیں ۔

نوٹ: کمپنی کی بلڈنگ ہے، مشینری ہے ،خام مال ہے، مختلف بینکوں میں پیسے بھی ہیں ۔

نوٹ: یہ کاروبار والد صاحب نے اپنے سرمائے سے شروع کیا تھا اور 1990 میں بلاعوض ہمیں شیئرز دیے۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ1: کیا والد کے لیے اس طرح رجوع کرنا جائز ہے یا نہیں؟(یعنی مجھ کو والدہ کے جو شیئرز دیےتھے اور اب اس پرپشیمان ہیں)

2: اگر جائز ہو تو کیا چھوٹے بھائی کو جوڈبل دیا ہے اس سے بھی واپس کرلینا چاہیے؟

3:جو  حصہ مجھے ملا ہے یعنی والد نے 2016 میں والدہ سے خود لیا پھر مجھے دے دیا ،مجھ سے لے کر واپس والدہ کےترکہ میں شامل کرنا درست ہے یا نہیں؟

وضاحت:کمپنی تیزاب کی ہے، والد نے تمام بیٹوں، ایک بیٹی اوربیوی کو14.29حصے دیے، بہن اور والدہ کاحصہ ان دونوں کی اجازت سے دوسروں کےنام منتقل کیاتھا،بہن اور والدہ نے کاغذات پردستخط بھی کردیےتھے۔

جواب

 جواب سے پہلے  بطورتمہید ہبہ سے متعلق چند اصولوں کی وضاحت ضروری ہے:

(الف) شیئرز (حصص)میں شرعاًہبہ اس وقت تام ہوتاہے جب کمپنی کی کلُ مالیت یعنی کُل شیئرز معلوم ہوں،پھر جتنے شیئرز ہبہ کرنے ہوں وہ متعین کردیئے جائیں،اس کے بعد جتنے شیئرز    ہبہ کرنے ہوں وہ  موہوب لہ(جس کو ہبہ کیے جارہے ہوں)کے مکمل قبضہ اور تصرف میں دے دیئے جائیں یعنی ان شیئرز کی خریدوفروخت کا اختیار موہوب لہ کے پاس ہو،مذکورہ طریقہ پر ہبہ کئے گئے شیئرز میں ہبہ تام ہوجاتاہے اور موہوب لہ کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے۔

(ب) شیئرز کا ہبہ اصطلاحی طور پر "ہبۃ المشاع "ہے اور ہبۃ المشاع کا شرعی حکم یہ ہے کہ قابل تقسیم اشیاء میں درست نہیں جبکہ ناقابل تقسیم اشیاء میں درست ہے،لہذاناقابل تقسیم شے اگر کئی افراد کو ہبہ کی جارہی ہوتواس کو ان تمام افراد کے درمیان تقسیم کرکےدیناضروری نہیں ہوتا،جبکہ قابل تقسیم شے اگر کئی افراد کو ہبہ کی جارہی ہو،تو اس کو ان تمام افراد کے درمیان تقسیم کرکے دینا ضروری ہوتاہے،نیز ہبہ تام ہونے کے لیے قابل تقسیم شے میں قبضہ حقیقی دیناضروری ہوتاہےجبکہ ناقابل تقسیم شے میں قبضہ حکمی دیناکافی ہوتاہے۔

(ج) قابل تقسیم شے وہ کہلاتی ہےکہ تقسیم کرنے کےبعد اس کی مقصود ی منفعت  ختم نہ ہو ،اگر کسی شے کو تقسیم کرنے کے بعد اس کی مقصودی منفعت ختم ہوجاتی ہو تو وہ قابل تقسیم نہیں کہلائے گی، لہذا مذکورہ تفصیل سے  واضح ہوا کہ کمپنی بھی ناقابل تقسیم اشیاء میں داخل ہے؛کیونکہ کمپنی کو تقسیم کرنے کے بعد اس کی مقصودی منفعت ختم ہوجاتی ہے اور تقسیم کرنے کے بعد کمپنی،کمپنی نہیں رہتی۔

(د) ذی رحم محرم یعنی بیوی اور اولاد کو ہبہ کرنے کے بعد ان کی رضامندی کے بغیر ہبہ کی ہوئی چیز میں رجوع کرنا یعنی ان سے واپس لینا جائز نہیں ہے۔

ا س تمہید کے بعد پوچھے گئے سولات کاجواب یہ ہے کہ:

صورت مسئولہ میں جب آپ کے والد نے 1990 میں اپنی کمپنی کے شیئرز  جاری کرکے ان میں سے چند متعینہ شیئرز اپنی بیوی،بیٹوں اور بیٹی کے نام کیےاور ہر ایک کو باقاعدہ منتقل بھی کردیے تو ہر ایک اپنے نام منتقل کیے گیے شیئرز کا مالک  بن چکا تھا اور ہر ایک کے حق میں ہبہ تام ہوچکاتھا، جب ہر ایک کے حق میں ہبہ تام ہوچکا تھا تو اس کے بعد والد کے لیے جائز نہیں تھا کہ جن کو شیئرز دیے ہیں ان کی رضامندی کے بغیر ان سے لےکر کسی اور کے نام کردیں، لہذا 2016 میں اگر آپ کے والد نے آپ کی بہن کے شیئرز  آپ کے بھائی کے نام کیے اور آپ کی والدہ کے شیئرز اپنے نام منتقل کیے اور اس کے بعد آپ کے نام منتقل کیے، اگر بہن اور والدہ کی رضامندی سے ایسا کیاتب تو یہ شیئرز دوسرے بیٹے اور آپ کے والد کے ہوگئے اور پھر والد کے آپ کے نام کرنے سے یہ شیئرز آپ کے ہوگئے جوکہ اب آپ کی رضامندی  کے بغیر والد واپس نہیں لےسکتے۔

لیکن اگر بہن اور والدہ  کی رضامندی کے بغیر ایسا کیا تو یہ شیئرز بہن اور والدہ کی ملکیت سے نہیں نکلے بلکہ بدستور انہیں کی ملکیت رہے، اس صورت میں بہن کے شیئرز بھائی کے نہیں ہوئے اور والدہ کے شیئرز نہ آپ کے والد کے ہوۓ اور نہ ہی آپ کے ہوۓ بلکہ وہ والدہ ہی ملکیت رہے جوکہ انتقال کے بعد والدہ کے ترکہ میں تقسیم ہوں گے۔

المحیط البرہانی میں ہے:

"وقد ذكرنا أن الهبة لا تتم إلا بالقبض، والقبض نوعان: حقيقي وأنه ظاهر، وحكمي وذلك بالتخلية؛ لأنها إذا كانت بحضرتهما فقد تمكنت من قبضها حقيقة، وهو تفسير التخلية."

(کتاب الهبة والصدقة،‌‌ الفصل الثاني: فيما يجوز في الهبة وما لا يجوز، ج:6، ص: 238،ط:دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وهكذا نقول في المشاع الذي لا يقسم أن معنى القبض هناك لم يوجد لما قلنا إلا أن هناك ضرورة لأنه يحتاج إلى هبة بعضه ولا حكم للهبة بدون القبض والشياع مانع من القبض الممكن للتصرف ولا سبيل إلى إزالة المانع بالقسمة لعدم احتمال القسمة فمست الضرورة إلى الجواز وإقامة صورة التخلية مقام القبض الممكن من التصرف."

(کتاب الهبة، ركن الهبة، ج:6، ص: 120، ط:دارالكتب العلمية)

دررالحكام میں ہے:

"(تعريف القسمة) قد بين في المادة الآتية. ركنها هو الفعل الذي يحصل به إفراز وتمييز بين الأنصباء كالكيل في الكيلي والوزن في الوزني والعد في العددي والذرع في الذرعي (الزيلعي). انظر المادتين (1047 و 1048) .شرطها عدم فوت منفعة المال المقسوم بالقسمة وعدم تبدله، فإذا فاتت منفعته أو تبدل المال فهو غير ‌قابل ‌القسمةكالبئر والرحى والحمام (الزيلعي والكفاية والطوري في أول القسمة) انظر المادة (1130) حيث إن القسمة هي عبارة عن إفراز للملك والمنفعة الثابتة للشريكين قبل القسمة."

(الكتاب العاشر الشركات،باب في بيان القسمة، الفصل الأول في تعريف القسمة وتقسيمها،ج:3،ص: 97،ط:دارالجيل)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وشرطها عدم فوت المنفعة بالقسمة) (قوله المنفعة) أي المعهودة، وهي ما كانت قبل القسمة، إذ الحمام بعدها ينتفع به لنحو ربط الدواب."

(کتاب القسمة، ج:6، ص: 254، ط:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ليس له حق الرجوع بعد التسليم في ذي الرحم المحرم۔۔۔۔ولا يرجع في الهبة من المحارم بالقرابة كالآباء والأمهات، وإن علوا والأولاد، وإن سفلوا وأولاد البنين والبنات في ذلك سواء وكذلك الإخوة والأخوات والأعمام والعمات."

(کتاب الھبة،الباب الخامس في الرجوع في الهبة،ج:4،ص: 385۔387،ط:دارالفکربیروت)

امدادالفتاوی میں ہے:

"منجملہ شرائط تقسیم کے ایک شرط یہ بھی ہے کہ بعدتقسیم کے اُس شے مشترک کی منفعت مقصودہ فوت نہ ہو، پس اس صورت میں صحن کی تقسیم تو جائز ہے کیونکہ بعد تقسیم بھی منفعت صحن کی باقی رہتی ہے، اور پائخانہ اور زینہ اور دروازہ کی تقسیم جائز نہیں کیونکہ بعدتقسیم ان کی منفعت باقی نہیں رہ سکتی ۔"

(کتاب القسمۃ،ج:3،ص:519،ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101244

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں