بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

شریک کو ملنے والے ہدیہ میں دیگر شرکاء کے حصے کا حکم


سوال

تین بھائیوں کی آپس میں شراکت داری ہے،اور سب بھائی نفع ونقصان میں برابر کے شریک ہیں۔ ایک بھائی کو کسی نے کوئی چیز مثلاً گھر ہدیہ دیا ہے،اوریہ خاص ایک بھائی کو دیا ہے  مشترکہ طور پر نہیں ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا گھر میں باقی دو بھائی بھی شریک ہوں گے یا نہیں؟یعنی  ان کا اس گھر میں حصہ ہوگا یانہیں؟

وضاحت: تمام بھائی نفع ونقصان، گھر کے اخراجات اور کمائی میں برابر کے شریک ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ گھر کسی شخص نے خاص ایک بھائی کو بطور ہبہ (ہدیہ) دیا ہے ، تو وہ گھر صرف اسی بھائی کی ملکیت ہوگا جسے ہدیہ دیا گیا ہے۔ دیگر دو بھائیوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"ولا يشارك أحدهما صاحبه فيما يرث من ميراث، ولا جائزة يجيزها السلطان له أو هبة، أو هدية."

(كتاب الشركة ،باب خصومة المفاوضين فيما بينهما،ج:11ـ، ص:189،ط:دار المعرفة - بيروت)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801100447

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں