بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حج کرنے والے کے شریکِ مکان کا اپنے حصے کو نہ بیچنے کی وجہ سے حج کے وبال کا حکم


سوال

آج سے کچھ سال قبل ہم تمام بہن بھائیوں پر حج فرض ہوا تھا اور حج فرض ہونے کے بعد میرے علاوہ باقی تمام بہن بھائیوں نے حج کی ساری مالیت کسی کاروبار میں لگا دی تھی کہ حج کا وقت آنے سے پہلے پہلے ساری رقم نکال لیں گے اور حج ادا کر لیں گے، لیکن وقت کے گزرنے کیساتھ مذکورہ کاروبار نقصان میں چلا گیااور رقم پھنس گئی ، اب مستقل دو تین سالوں سے رقم نکالنے کی کوشش میں ہیں ، لیکن اب تک کوئی صورت نہیں بن رہی، البتہ میں حج ادا کرچکا ہوں۔

کچھ دنوں قبل ایک صاحب نے ایک مکان ہم بھائیوں کے نام کیا ہے ، جس میں صرف ہم بھائی شریک ہیں، اورچونکہ فی الحال ہم کرائے کے مکان میں رہتے ہیں، تو ارادہ یہ تھا کہ مذکورہ مکان کو کرائے پر دے دیں گے، اور اس سے وصول ہونے والی رقم سے حالی رہائش گاہ کا کرایہ اور دیگر اخراجات پورے کریں گے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اب میرے جن بھائیوں پر حج فرض ہے، ان پر کیا یہ لازم ہے کہ مشترک مکان میں سے اپنا اپنا حصہ فروخت کر کے حج کا فریضہ ادا کریں جبکہ میں بھی اس مکان میں شریک ہوں؟

اور کیا اگر میں مکان بیچنے اور اپنے حصے کی رقم وصول کرنے سے انکار کردوں، تو کیا میرے اوپر اس کا وبال ہوگا؟

نیز اس بات کی وضاحت بھی ضرور کیجیے گا کہ مذکورہ مکان اگر ہم بھائیوں کی ضرورت سے زائد ہو، تو کیا میرے بھائیوں پر اس مکان کو فروخت کرنا اور مجھےاس پر راضی ہونا لازم ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ جب ایک مرتبہ حج فرض ہوجائے تو بعد میں اگر انسان غریب بھی ہوجائے، تب بھی اس پر حج ادا کرنا لازم رہتا ہے۔ غریب ہونے کی وجہ سے حج کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل کے بھائی پر حج فرض ہوا اور بعد میں وہ غریب ہوگئے، تو اب بھی ان پر حج ادا کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے انہیں کسی نہ کسی طریقے سے پیسے کا انتظام کر کے حج کا فریضہ ادا کرنا ہوگا۔ اگر ان کے پاس ایک مملوکہ  مکان ہو جس میں ہر ایک کا الگ الگ حصہ موجود ہو، جسے فروخت کر کے وہ حج کرسکتے ہوں، تو بہتر یہی ہے کہ وہ مکان میں سے اپنے حصے کو بیچ کر اپنا حج ادا کریں۔

جہاں تک سائل کا اپنے بھائیوں کے ساتھ اس مکان میں تعلق ہے، تو شرعاً وہ اپنے حصے کے اعتبار سے بھائیوں کے ساتھ اجنبی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سائل کے حصے پر ان کا کوئی حق یا تعلق نہیں ہے۔

لہٰذا اگر سائل اپنے بھائی کے ساتھ مذکورہ مکان میں شریک ہے اور وہ اپنا حصہ فروخت نہیں کرنا چاہتا، تو اسے یہ اختیار حاصل ہے۔ باقی بھائی اپنے حصے کے ذمہ دار ہیں وہ اپنے حصے کو سائل یا کسی اجنبی شخص کو فروخت کر کے حج ادا کرلیں ۔

سائل اپنی ملکیت میں خود مختار ہے ،اور اپنی ملکیت نہ بیچنے کی صورت میں اس پر کوئی وبال نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

''بخلاف ما لو ملكه مسلماً فلم يحج حتى افتقر حيث يتقرر وجوبه ديناً في ذمته، فتح، وهو ظاهر على القول بالفورية لا التراخي، نهر. قلت: وفيه نظر ؛ لأن على القول بالتراخي يتحقق الوجوب من أول سني الإمكان، ولكنه يتخير في أدائه فيه أو بعده، كما في الصلاة تجب بأول الوقت موسعاً، وإلا لزم أن لا يتحقق الوجوب إلا قبيل الموت، وأن لا يجب الإحجاج على من كان صحيحاً ثم مرض أو عمي، وأن لا يأثم المفرط بالتأخير إذا مات قبل الأداء، وكل ذلك خلاف الإجماع، فتدبر''

(کتاب الحج، ج:2، ص:458، ط:سعید)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"(لأحد الشريكين إن شاء بيع حصته إلى شريكه إن شاء باعها لآخر بدون إذن شريكه. انظر المادة (5 1 2) أما في صورة خلط الأموال واختلاطها التي بينت في الفصل الأول فلا يسوغ لأحد الشريكين أن يبيع حصته فيالأموال المشتركة المخلوطة أو المختلطة بدون إذن شريكه) لأحد الشريكين إن شاء بيع حصته إلى شريكه في جميع صور الاشتراك إذا لم يكن ذلك مضرا بأي شخص كان وإن شاء باعها لآخر بدون إذن شريكه فيما عدا خلط واختلاط الأموال. كذلك لو كان اثنان متصرفين بعقار وقف بطريق الإجارتين فلأحدهما إن شاء إفراغ حصته لشريكه وإن شاء أفرغها لآخر بدون إذن شريكه لأن لكل إنسان ولاية على مال ولكل أن يتصرف في ماله كيفما شاء.انظر المادة (2 19 1) . (الزيلعي) فلذلك ليس لأحد الشريكين أن يجبر شريكه على شراء حصته أو على بيعها له انظر المادة (72 1) سواء كان المال المشترك عقارا أو كان مملوكا. مثلا لو كان ملك عقار مشتركا بين اثنين فلأحدهما بيع حصته في ذلك العقار إن شاء لشريكه وإن شاء لأجنبي.كذلك لو كانت شاة أو فرس أو أموال أخرى مشتركة بين اثنين وباع أحدهما حصته لأجنبي فالبيع صحيحوليس للشريك إبطال هذا البيع. انظر المادة (5 1 2) سواء كانت هذه الأموال قابلة للقسمة أو لم تكن وتعبير "

(الکتاب العاشر، الباب الاول، الفصل الثانی، ج:3، ص:49، ط:دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707101310

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں