بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پردے کے اہتمام کے ساتھ اجنبی عورت کو تعلیم دینا


سوال

ایک عورت گھر میں عربی کتابیں پڑھنا چاہتی ہے، مگر دین دار لائق استادنہیں ملتا، اور وہ عورت بھی بے دین فاسق فاجر شخص  سے پڑھنا نہیں چاہتی، اس لیے وہ پریشان تھی،اب ایک دیندار عالم ان شرائط پر پڑھانے کے لیے راضی ہوا کہ عورت کے ساتھ بوقتِ درس اس کے بھائی یا والدہ موجود ہوں، اور عورت برقعہ پوش ہوکر پڑھنے بیٹھتی ہو، عورت ان شرائط کے ساتھ پڑھنے پر راضی ہوئی،اب قابلِ  دریافت امر یہ ہے کہ ان شرائط کے ساتھ شخصِ مذکور کا پڑھانا جائز ہے یا مزید کسی قسم کی شرط ضروری ہے؟  ایک شخص کہتا ہے کہ اس صورت میں معلم کو دین دار نہیں کہاجائے گا ،بلکہ دونوں فاسق اور فاسقہ ہیں؛ کیوں کہ حدیث میں آیا ہے کہ دو شخص اجنبی مرد اور اجنبیہ عورت خلوت گزیں ہو تو تیسرا شیطان ہوتا ہے۔  کیا یہ حدیث اس شخص پر صادق آتی ہےیا نہیں ؟دونوں سوالوں کا جواب ہاں یا نہ کےساتھ  دیجیے، اگر اس میں تفصیل نہیں ہے۔  نیز یہ بھی ضرور بتائیں کہ جو تیسرا شخص اس دین دار عالم پر بدگمان کرے ان شرائط کے باوجود تو وہ بدگمانی کرنے والا گناہ گار ہوگا یا نہیں؟واجرکم عنداللہ۔

جواب

صورتِ مذکورہ میں معلم کے لیے ان شرئط کے ساتھ ایک عورت کو تعلیم دینا جائز ہے، نیز ان مذکورہ شرائط کے پابند معلم کو ہرگز فاسق نہیں کہاجائے گا۔  مزید ایک چیز ہوتو اچھی ہے کہ درمیان میں پردہ لٹکا دیا جائے ، حدیث شریف کا مصداق معلم مذکورنہیں ہے،بلکہ وہ اجنبی اور اجنبیہ ہیں جو خلوت میں ہوں  اور یہاں یہ صورت مفقود ہے ، لہذا وہ اس کا مصداق نہیں ہے۔

کسی بھی مسلمان پر بدگمانی کرنا جائز نہیں ہے،یہ بجائے خود ایک گناہ ہے؛  اس لیے اس سے پرہیز کرنا چاہیے،خصوصًا صورتِ مذکورہ میں جب کہ معلم ان شرائط کا پابند ہوتو اس پر بدگمانی کرنے والا گناہ گار ہوگا۔واللہ اعلم

کتبہ ولی حسن (1385ھ)


فتویٰ نمبر : 138511300020

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں