بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شراکتی کاروبار میں منافع کی تقسیم اور اصل سرمایہ کی واپسی کا حکم


سوال

2010ء میں ہم تین بندوں نے ايك ايك  لاکھ روپے ایڈوانس جمع کر کے دکان کرایہ پر لی۔ پھرایک سال کے بعد تيسرا پارٹنراپنے ایک لاکھ روپے لے کر پارٹنرشپ سے دستبردار ہوا۔ اب ہم دو پارٹنرز ہیں،  دوسرے   پارٹنر  نے تقریبا 2016 ء میں اپنے ایک لاکھ روپے واپس لیے،  ابتداء  میں کام پہلے دو پارٹنرز ہی کر رہے تھے۔ پھر میرا شریک پارٹنر  اکیلے کام کرنے لگا۔ جبکہ  میں کام نہیں کر رہا تھا ۔ پہلے پارٹنرکے دستبردار  ہونے کے بعد میں نے مزید پچاس ہزار روپے ایڈوانس کی مد میں جمع  کئے تھے،   جبکہ  ابھی  تک  ٹوٹل  ایڈوانس ایک لاکھ پچاس ہزار روپے میں نے واپس نہیں لیا۔

 واضح رہے کہ منافع میں شرکت متعین نہیں تھی۔ بس یہ معاہدہ ہوا تھا کہ جتنا منافع ہوگا اس میں دونوں  شریک ہوں گے۔ سامان ہم  مارکیٹ سے ادھار لے کر فروخت  کرتے تھے۔اسے فروخت  کرکے ادھار رقم ادا کرتے تھے۔

  2023 کے آخر میں میرا پارٹنر  6 ماہ  تبلیغ کے لیے گیا،  تو میں نے  دکان سنبھالی، میرے  دکان سنبھالنے تک اس نے  مجھے کوئی منافع نہیں دیا۔ کہتا رہا کہ  منافع نہیں ہو رہا ،  پھر اس کا بچہ نے  دکان کھول کر دکان سے چھپائے  ہوئے ۵ لاکھ  روپے اٹھائے ، پارٹنر کو کال  کرنے پر بتایا کہ یہ میرے اپنے ہیں۔  پھر  معلوم ہوا کہ  دوسرے بندے کے پاس گھر خریدنے  کے لیے تین لاکھ روپے دئے تھے۔    پھر اس نے 3لاکھ روپے واپس میرے پارٹنر   کو دئے  تھے۔

میں نے 31  ماہ دکان میں کام کیا۔ اب جب حساب کتاب کیا تو26  لاکھ روپے کا سامان دکان میں  موجود ہے، پارٹنر نے مجھے تبلیغ سے واپس آنے کے بعد  بتایا کہ اس دکان  میں 40 ہزار کا سامان تھا، اب کہہ رہا ہے کہ 15  لاکھ کا مال تھا 26 لاکھ میں ۔ اس نے کہا   کہ میرا حصہ بھی ہے، تو 13 لاکھ کا سامان اس کو دیا ہے، جوکہ فی الحال دکان میں پڑا ہے۔

اب  میرا یہ سوال ہے کہ2023  کے آخر تک  کوئی منافع بھی نہیں دیا ہے، اور میں نے گزشتہ 31 ماہ میں کاروبار سنبھالا تو دکان میں موجود سامان کی مالیت 26 لاکھ تک پہنچ گئی۔ تو جیسا میں نے13لاکھ کا سامان ان کو دیا ہے، تو کیا14  سال میں میرا کوئی حق اور منافع نہیں بنتا؟

 جب اس نے کمایا ہے، اس کا پورا ریکارڈ موجود ہے، ایک کروڑ70  لاکھ روپے کا منافع ہوا تھا،  میرا کہنا ہے کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ خرچہ ہوا ہے  تو71  لاکھ ہوا ہوگا، پھر کہا کہ چلو ایک کروڑ ہوا ہوگا، باقی35لاکھ میرے اور 35  تیرے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ سارا خرچ ہوا ہے۔ بس یہ جو سامان موجود تھا وہی ہے۔

واضح رہے کہ یہ جو کہہ رہا ہے کہ خرچہ ہوا ہے، یہ زبانی کہہ رہا ہے، ان کے پاس لکھا ہوا نہیں ہے۔ اب کیا حکم ہے؟ مجھے ابھی تک نہ ایڈوانس ایک لاکھ پچاس ہزار ملے ہیں اور نہ منافع ملا ہے۔

 (وضاحت: سائل کا کہنا یہ ہے کہ  اس منافع میں مجھے حصہ ملے گا یا نہیں، اگر ملے گا تو کتنا ملے گا، اور میں نے جو ایڈوانس دیا تھا ایک لاکھ پچاس ہزار روپے، وہ  مجھے واپس ملے گا یہ نہیں ؟  جبکہ میرے پارٹنر   نے  اپنے ایک لاکھ روپے  (جو کہ ایڈوانس کی طور پر کاروبار دیا تھا )واپس لے لیا ۔ )

جواب

صورتِ مسئولہ میں   14  سالوں  میں کاروباری جو نفع حاصل ہوا ہے، اسے دو شرکاء میں تقسیم کرنا ضروری ہے، کسی ایک فریق کے لیے تمام منافع پر قبضہ کر لینا جائز نہیں ہوگا، پس سائل کے شریک نے اب تک جو نفع اٹھایا ہو، اس کا مکمل حساب کرکے آدھا نفع سائل کو سپرد کرنا ضروری ہوگا، حق سے زائد نفع سائل کی اجازت کے بغیر جو شریک نے وصول کر رکھا ہے، وہ اس کے لیے حلال نہیں۔ نیز دکان کے حصول کے وقت مالکِ دکان کو ایڈوانس کے طور پر جس شریک جتنی رقم دی تھی، اتنی رقم لینے کا اسے حق ہوگا۔

البتہ اگر سائل کا شریک یہ دعویٰ کرے کہ چودہ سالوں میں کاروبار میں نفع نہیں ہوا، تو ثبوت کے بغیر اس کا یہ دعویٰ معتبر نہیں ہوگا۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لو يعطى الناس بدعواهم لادعى ناس دماء رجال وأموالهم ولكن اليمين على المدعى عليه» . رواه مسلم وفي «شرحه للنووي» أنه قال: وجاء في رواية «البيهقي» بإسناد حسن أو صحيح زيادة عن ابن عباس مرفوعا: «‌لكن ‌البينة ‌على ‌المدعي واليمين على من أنكر»".

(‌‌باب الأقضية والشهادات، الفصل الأول، ج: 2، ص: 1110، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

ترجمہ: " حضرت ابن عباس نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر لوگوں کو محض ان کے دعوی پر ( ان کا مدعا) دیا جائے (یعنی اگر مدعی سے نہ تو گواہ طلب کئے جائیں اور نہ مدعاعلیہ سے تصدیق کی جائے بلکہ محض اس کے دعوی پر اس کا از قسم مال و جان مدعا کو دے دیا جائے) تو لوگ اپنے آدمیوں کے خون اور اپنے مال کا جھوٹا دعوی کرنے لگیں (لہذا صرف مدعی کا بلا گواہی کے بیان معتبر نہیں ہے، لیکن قسم کھانا مدعا علیہ پر ضروری ہے (مسلم) اور نوں اپنی کتاب شرح مسلم میں لکھا ہے کہ بیہقی کی روایت میں جو حسن یا صحیح اسناد سے منقول ہے حضرت ابن عباس سے (مذکورہ بالا حدیث میں بطریق مرفوع ان الفاظ کا اضافہ بھی منقول ہے کہ گواہ پیش کرنا نا مدعی کے ذمہ ہے اور قسم کھانا اس شخص کا حق ہے جو انکار کرے یعنی مد عاعلیہ "۔

(مظاہرِ حق، مدعی کا دعوی گواہوں کے بغیر معتبر نہیں ، ج: 3، ص: 676، ط: دار الاشاعت کراچی پاکستان)

درر الحكام شرح غرر الأحكام میں ہے:

"(وأما العنان في الشركة بالأموال).....(‌وتصح ‌ببعض ‌المال) ‌لأن ‌الحاجة ‌ماسة ‌إليه ‌والمساواة ‌ليست ‌شرطا فيه فوجب القول بصحته (ومع فضل مال أحدهما) لعدم اشتراط التساوي فيه (وتساوي ماليهما لا الربح وبالعكس) أي تساوي الربح لا المالين لقوله صلى الله عليه وسلم «الربح على ما شرطا» والوضعية على قدر المالين مطلقا بلا فضل بخلاف شرط كل الربح لأحدهما لخروج العقد به عن الشركة".

(أركان الشركة وشروطها، ج:2، ص:321، ط: دار إحياء الكتب العربية)

 فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101915

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں