بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شرعی ضرورت کے تحت کسی گناہ کے بیان کاحکم


سوال

میرا سوال گناہوں کے ذکر کے حوالے سے ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا: میری ساری امت کو معاف کیا جائے گا، سوائے گناہوں کو اعلانیہ اور کھلم کھلا کرنے والوں کے، اور یہ بھی اعلانیہ گناہ ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی (گناہ کا) کام کرے، حالانکہ اللہ تعالی نے اس کے گناہ کو چھپا دیا ہے، مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا۔ رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپائے رکھا، لیکن جب صبح ہوئی، تو وہ خود اللہ کے پردے کو کھولنے لگا۔۔ میری الجھن یہ ہے کہ: اگر کوئی مسلمان کسی پیچیدہ یا حساس معاملے میں شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہے، تو دارالافتاء یا مستند فتویٰ ویب سائٹس سے سوال کیسے کرے؟ بعض اوقات صحیح حکم سمجھنے کے لیے معاملے کی نوعیت یا گناہ کا ذکر کسی حد تک ضروری ہو جاتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے: کیا اسلام میں کسی گناہ کا ذکر صرف شرعی رہنمائی، توبہ، یا اصلاح کی نیت سے کرنا جائز ہے؟ یا پھر یہ بھی ان گناہوں میں شامل ہوتا ہے جن کا اظہار ممنوع ہے؟ براہِ کرم قرآن، حدیث کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔

جواب

کسی گناہ کا تذکرہ اگر شرعی رہنمائی حاصل کرنے کی غرض سے مفتیانِ کرام، علماءِ دین یا پیر و مرشد کے سامنے کیا جائے تو وہ اس حدیث کا مصداق نہیں بنتا،اس کا بیان کرناشرعا جائز ہے ۔ تاہم بہتر یہ ہے کہ حتی الامکان فرضی انداز اختیار کیا جائے۔ البتہ اس حدیث کا اصل مصداق وہ افراد ہیں جو گناہ کا ارتکاب کرنے کے بعد اسے لوگوں میں فخریہ اور علانیہ بیان کرتے ہیں اور اس معصیت کو، جس پر اللہ تعالیٰ نے پردہ ڈال رکھا تھا، بلا ضرورت ظاہر کرتے ہیں۔

 صحیح مسلم میں ہے :

" حدثني زهير بن حرب ومحمد بن حاتم وعبد بن حميد (قال عبد: حدثني. وقال الآخران: حدثنا) يعقوب بن إبراهيم. حدثنا ابن أخي ابن شهاب عن عمه. قال: قال سالم: سمعت أبا هريرة يقول:

سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول "كل أمتي معافاة إلا المجاهرين. وإن من الإجهار أن يعمل العبد بالليل عملا، ثم يصبح قد ستره ربه، فيقول: يا فلان! قد عملت البارحة كذا وكذا. وقد بات يستره ربه. فيبيت يستره ربه، ويصبح يكشف ستر الله عنه".

قال زهير "وإن من الهجار".

( باب النهي عن هتك الإنسان ستر نفسه،ص:1293،ط:دارالسلام)

ترجمہ:

"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا: میری ساری امت کو معاف کیا جائے گا، سوائے گناہوں کو اعلانیہ اور کھلم کھلا کرنے والوں کے، اور یہ بھی اعلانیہ گناہ ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی (گناہ کا) کام کرے، حالانکہ اللہ تعالی نے اس کے گناہ کو چھپا دیا ہے، مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا۔ رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپائے رکھا، لیکن جب صبح ہوئی، تو وہ خود اللہ کے پردے کو کھولنے لگا۔"

شرح النووي على مسلم میں ہے :

 " قوله (كل أمتي معافاة إلا المجاهرين وإن من الإجهار أن يعمل العبد عملا إلى آخره) هكذا هو في معظم النسخ والأصول المعتمدة معافاة بالهاء فى آخره يعود إلى الامة وقوله الاالمجاهرين هم الذين جاهروا بمعاصيهم وأظهروها وكشفوا ما ستر الله تعالى عليهم فيتحدثون بها لغير ضرورة ولا حاجة "

( باب النهي عن هتك الإنسان ستر نفسه،  ج:18،ص: 119،ط:دارالاحیاء )

مرقاة المفاتيح میں ہے :

"بل المعنى: كل أمتي لا يؤاخذون أو لا يعاقبون عقابا شديدا إلا المجاهرون،"

(کتاب الآداب، باب حفظ اللسان و الغيبة و الشتم، 7/3034ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101827

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں