بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1448ھ 01 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

حلال اشیاء فروخت کرنے والا دکاندار گاہک کے گناہ کا ذمہ دار نہیں


سوال

اگر کوئی مسلمان اپنی دکان میں پانی، کولڈ ڈرنک، بسکٹ، نمکین جیسی عام اور مباح چیزیں رکھ کر بیچنا چاہتا ہو، لیکن اس کی دکان کے پاس ایک شراب کی دکان ہے (اور دونوں دکانوں کے بیچ میں ایک بڑا راستہ حائل ہے) جہاں سے غیر مسلم شرابی شراب خریدتے ہیں، اور بعد میں وہی شرابی اس مسلمان کی دکان سے پانی یا کولڈ ڈرنک وغیرہ خریدتے ہوں، تو کیا اس صورت میں اس مسلمان کے لیے یہ کاروبار کرنا جائز ہے؟ کیا یہ شراب پینے والوں کی مدد (معاونتِ معصیت) میں شمار ہوگا؟ یعنی جو چیز فی نفسہ عارضی طور پر مباح ہو اور خریدار بھی کافر ہو؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں  شراب پینے والوں کا سائل کی دکان سے پانی ، کولڈڈرنک وغیرہ خریدنا جائز ہے ، اور سائل چوں کہ ان افراد کے ساتھ گناہ کے کام (شراب پینے یا مہیاکرنے )میں شریک نہیں ، لہذا سائل گناہ گار نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: تحريما) بحث لصاحب البحر حيث قال: وظاهر كلامهم أن الكراهة تحريمية لتعليلهم بالإعانة على المعصية ط (قوله: من أهل الفتنة) شمل البغاة وقطاع الطريق واللصوص بحر (قوله: إن علم) أي إن علم البائع أن المشتري منهم (قوله: لأنه إعانة على المعصية) ؛ لأنه يقاتل بعينه، بخلاف ما لا يقتل به إلا بصنعة تحدث فيه كالحديد، ونظيره كراهة بيع المعازف؛ لأن المعصية تقام بها عينها، ولا يكره بيع الخشب المتخذة هي منه، وعلى هذا بيع الخمر لا يصح ويصح بيع العنب. والفرق في ذلك كله ما ذكرنا فتح ومثله في البحر عن البدائع، وكذا في الزيلعي لكنه قال بعده وكذا لا يكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة؛ لأنه ليس عينها منكرا وإنما المنكر في استعمالها المحظور. اهـ."

(کتاب الجهاد، باب البغاة، ج: 4 ص: 268 ط: ایچ ایم سیعد) 

احیاء علوم الدین میں ہے : 

"وأما الكافر فتجوز معاملته لكن لا يباع منه المصحف ولا العبد المسلم ولا يباع منه السلاح إن كان من أهل الحرب فإن فعل فهي معاملات مردودة وهو عاص بها ربه."

(ربع العادات، کتاب اداب الکسب و المعاش، ج: 2 ص:65 ط: دار المعرفة) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101451

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں