بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شراب خانہ کے گاہکوں کو لے جانے پر ملنے والی رقم کا حکم


سوال

میں ایک کمپنی کا ڈرائیور ہوں اور کمپنی کی گاڑی میں ہندوؤں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جاتا ہوں۔ جس جگہ پر میں انہیں لے کر جاتا ہوں، وہاں  ایک  شراب خانہ واقع ہے۔ میں ان ہندوؤں کو اس شراب خانہ کی طرف بھی لے کر جاتا ہوں، جہاں سے وہ شراب خریدتے ہیں۔ شراب خانہ والے اس بنا پر کہ میں ان کے پاس سواریاں لے کر آتا ہوں، مجھے پانچ ہزار روپے دیتے ہیں۔

کیا میرے لئے یہ پانچ ہزار روپے لینا شرعاً جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے لئے کمپنی کی ملازمت کرتے ہوئے ہندوؤں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا شرعاً جائز ہے، اور اس عمل کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہے۔

البتہ وہاں سے انہیں  شراب خانہ کی طرف لےجانے کا مقصد اگر  صرف کمپنی کی طرف سے ملنے والی تنخواہ یا اجرت کا حصول ہو، کوئی اور مقصد شامل نہ ہو، تو ایسی صورت میں اگرچہ انہیں وہاں لے جانا جائز ہے، لیکن چونکہ یہ عمل ایک درجہ میں گناہ یعنی شراب نوشی جیسے حرام کام تک پہنچانے کا سبب بن رہا ہے، اس لئے اس عمل(شراب خانہ کی طرف لے جانا) کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی کراہت سے خالی نہیں۔

باقی، شراب خانہ والوں کی طرف سے اس بنیاد پر ملنے والی رقم کہ سائل ان کے پاس گاہک (سواریاں) لاتا ہے،ناجائز  ہے۔اس کی دو وجوہات ہیں: وہ رقم  شراب کی آمدنی سے دی جا رہی ہے، جو بذاتِ خود حرام کمائی ہے۔ دوسری یہ کہ یہ رقم گناہ کے کام پر  تعاون کے طور پر دی جا رہی ہے، اور کسی گناہ کے عمل پر رقم لینا شرعاً ناجائز ہے۔ اور اگر سواریاں شراب خانہ کی طرف لے جانے پر ملنے والی رقم وصول کر لی گئی ہو، تو اسے بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کر دیا جائے۔

 سائل کو چاہیے کہ وہ اولاً مکمل حلال متبادل روزگار کی تلاش کی کوشش کرے۔ یا کم از کم، جس ادارے سے اس کا تعلق ہے، اس کی انتظامیہ سے یہ درخواست کرے کہ چونکہ وہ مسلمان ہے،  اس لئے اسے اس نوعیت کے کام (شراب خانہ لے کر جانا )کی ذمہ داری نہ دی جائے۔

 فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط."

(كتاب الإجارة،الباب السادس عشر في مسائل الشيوع في الإجارة، ج:4، ص:450، ط:دار الفكر بيروت)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(و) جاز تعمير كنيسة و (حمل خمر ذمي) بنفسه أو دابته (بأجر) .لا عصرها لقيام المعصية بعينه.

(قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل (قوله وحمل خمر ذمي) قال الزيلعي: وهذا عنده وقالا هو مكروه " لأنه عليه الصلاة والسلام «لعن في الخمر عشرة وعد منها حاملها» وله أن الإجارة على الحمل وهو ليس بمعصية، ولا سبب لها وإنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار، وليس الشرب من ضرورات الحمل، لأن حملها قد يكون للإراقة أو للتخليل، فصار كما إذا استأجره لعصر العنب أو قطعه والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية اهـ زاد في النهاية وهذا قياس وقولهما استحسان، ثم قال الزيلعي: وعلى هذا الخلاف لو آجره دابة لينقل عليها الخمر أو آجره نفسه ليرعى له الخنازير يطيب له الأجر عنده وعندهما يكره......(قوله لا عصرها لقيام المعصية بعينه) فيه منافاة ظاهرة لقوله سابقا لأن المعصية لا تقوم بعينه ط وهو مناف أيضا لما قدمناه عن الزيلعي من جواز استئجاره لعصر العنب أو قطعه، ولعل المراد هنا عصر العنب على قصد الخمرية فإن عين هذا الفعل معصية بهذا القصد، ولذا أعاد الضمير على الخمر مع أن العصر للعنب حقيقة فلا ينافي ما مر من جواز بيع العصير واستئجاره على عصر العنب هذا ما ظهر لي فتأمل."

(كتاب الحظر و الإباحة ، فصل فى البيع، ج:6، ص: 391، ط:سعيد)

الاشباہ و النظائر میں ہے:

"إن ‌بيع ‌العصير ‌ممن ‌يتخذه ‌خمرا ‌إن ‌قصد ‌به ‌التجارة فلا يحرم وإن قصد به لأجل التخمير حرم وكذا غرس الكرم على هذا (انتهى) .وعلى هذا عصير العنب بقصد الخلية أو الخمرية."

(الفن الأول، القاعدة الثانية، ص:23، ط:دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

زاد المعاد فی ہدی خیر العباد میں ہے:

"وإن ‌كان ‌المقبوض ‌برضى ‌الدافع وقد استوفى عوضه المحرم، كمن عاوض على خمر أو خنزير، أو على زنى أو فاحشة، فهذا لا يجب رد العوض على الدافع؛ لأنه أخرجه باختياره، واستوفى عوضه المحرم، فلا يجوز أن يجمع له بين العوض والمعوض، فإن في ذلك إعانة له على الإثم والعدوان...... ولكن لا يطيب للقابض أكله، بل هو خبيث كما حكم عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولكن خبثه لخبث مكسبه، لا لظلم من أخذ منه، فطريق التخلص منه، وتمام التوبة بالصدقة به."

(ذكر أحكامه صلى الله عليه وسلم في البيوع،فصل ما تفعل الزانية بكسبها إذا قبضته ثم تابت، ج:5، ص:691، ط:مؤسسة الرسالة، بيروت)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع......لا يجيب دعوة الفاسق المعلن ليعلم أنه غير راض بفسقه، وكذا دعوة من كان غالب ماله من حرام ما لم يخبر أنه حلال وبالعكس يجيب ما لم يتبين عنده أنه حرام، كذا في التمرتاشي."

 ( كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج: 5 ، ص: 342،343 ، ط: دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144701101153

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں