
بندہ کی ملکیتی زمین کے ساتھ ایک شاملاتی رقبہ اور نا قابل استعمال پہاڑی دامن میں واقع ہے، بندہ نے کافی خرچ کر کے اس میں سے کچھ حصہ قابل کاشت بنایا ہے ، جبکہ کچھ رقبہ بندہ کو اپنے چچازاد بھائی سے تقسیم میں ملا تھا۔ اب اس شاملاتی رقبے کے متعلق چند شرعی مسائل درپیش ہیں، جن میں راہنمائی مطلوب ہے۔
1۔ اگر میں اس زمین اور دامن پہاڑ کو چھوڑ دوں تو کوئی اور آکر اس پر قبضہ کر سکتا ہے، جس سے مجھے مختلف اعتبار سے نا قابل برداشت نقصان ہے، مستقل جھگڑے کا سبب بھی ہے، اور پہلے بھی کئی بار تنازعہ ہو چکا ہے۔
2۔ مذکورہ شاملاتی زمین کا غذات مال میں "شاملات دیہہ " کے طور پر درج ہے۔
3۔ میں اور میرا خاندان مالکان شاملات میں شامل ہیں۔
4۔ کاغذات مال اور بعض عدالتی فیصلوں کے مطابق، یہ زمین میرے زیر قبضہ ہے۔
موجودہ عدالتی فیصلوں، افسران مال اور وکلاء کی رائے کے مطابق، جب تک شاملات کی تقسیم عمل میں نہیں آتی ، اس وقت تک میرے قبضہ میں موجود شاملاتی اراضی میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتا، البتہ تقسیم کے بعد اگر میرے قبضے میں میرے حصے سے زائد زمین پائی گئی، تو وہ واپس لی جائے گی، اور اگر کم پائی گئی تو پوری کر دی جائے گی۔ تاہم تقسیم کب ہو گی ، یا ہو گی بھی یا نہیں، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا،اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اس شاملاتی پہاڑ اور اس کے دامن میں جو زمین واقع ہے ، وہاں سے پانی کا بہاؤ میری ملکیتی زمین کی طرف ہے، جس سے مجھے بھی کبھار نقصان بھی ہوتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ :کیا شرعی طور پر میں اس زیر قبضہ شاملاتی زمین سے مالی فائدہ حاصل کر سکتا ہوں یا نہیں ؟ اور آیا یہ زمین ارض موات کے حکم میں داخل ہیں یا نہیں؟ براہ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں مفصل رہنمائی فرمائیں۔
"شاملات"دراصل ان غیر آباد زمینوں کو کہا جاتا ہےجو کسی گاؤں یا بستی کے قریب واقع ہوتی ہیں،عام طور پر ہمارے بلاد میں عرف اور رواج یہ چلا آرہا ہے کہ جب کوئی خاندان کوئی گاؤں وغیرہ آباد کرتا ہے تووہ گاؤں کے قریب واقع غیر آباد زمینوں کے ایک حصے کو گاؤں کی مشترکہ ضروریات و حاجات کے پیشِ نظر گاؤں سے منسلک کردیتا ہے،اور اس تمام ملحَقہ حصے کو گاؤں کی مشترک ملکیت سمجھا جاتا ہے،اسی مشترکہ ملکیت کو "شاملات "کہا جاتا ہے،عموماً جو زمین شاملات کا حصہ قرار دی جاتی ہے وہ گاؤں کی آباد شدہ زمینوں کا دوگنایا تین گنا ہوتی ہے۔
شاملات زمین کسی کی ذاتی اور انفرادی ملکیت نہیں ہوسکتی، نہ کسی کے لیے اس کا انفرادی مالک بننا یا ملکیت کا دعوی کرناجائز ہے،بلکہ وہ گاؤں کے تمام باشندوں کی اجتماعی اور مشترکہ ملکیت ہوتی ہے، اور وہ زمین ان کے اجتماعی کاموں ،مصالح اور گاؤں والوں کی مشترک ضرورتوں مثلاً چراگاہ اور ایندھن وغیرہ کے حاصل کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں یہ زمین ارض موات کے حکم میں داخل نہیں ہے،اور صرف سائل کا شاملاتی زمین کو آباد کر کے اس سے نفع حاصل کرنا درست نہیں ہے۔
رہی بات یہ کہ اگر سائل اس جگہ کو چھوڑ دے تو لڑائی جھگڑے ہوں گے تو اس معاملے کو اس علاقے کے بااثر لوگوں یا پھر سرکار سے حل کروایا جائے۔
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"(المادة 1271) الأراضي القریبة من العمران تترک للأھالی مرعی ومحتصدا ومحتطبا ویقال لھا الأراضی المتروکة.
الأراضي القريبة من العمران أي الخارجة عن العمران أو القريبة منه تترك للأهالي على أن تتخذ مرعى أو بيدرا أو محتطبا ولا يعد انتفاع الأهالي منقطعا عن تلك الأراضي (الطوري). والمحلات التي يصل إليها صوت جهير الصوت عند صياحه من أقصى العمران تعد قريبة من العمران وحريما للعمران فلا تعد مواتا ولو لم يكن لها صاحب... كما أن الأراضي الواقعة داخل العمران أي في داخل القصبة والقرية لا تعد مواتا وتدعى هذه الأراضي الأراضي المتروكة فلا يجوز إحياء هذه الأراضي ولا تمليكها لآخر لأنه إذا كان الناس يستعملونها في الحال فهم محتاجون إليها تحقيقا وإذا كانوا لا يستعملونها فهم محتاجون إليها تقديرا وهذه الأراضي هي كالطريق والنهر."
(الكتاب العاشر: الشركات،الباب الرابع في بيان شركة الإباحة،الفصل الخامس في إحياء الموات،المادة :279/3،1271،ط:دار الجیل)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144703100889
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن