بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شلیمہ کے نام سے موسوم دعوت کا حکم/لڑکے اور لڑکی والوں کا مل کر ولیمہ کی دعوت کرنا


سوال

میری اہلیہ کی بہن کے بیٹے اور میری بیٹی کے درمیان شادی ہو رہی ہے، چوں کہ رشتہ دار دونوں طرف سے تقریبا ایک ہی ہیں، تو اگر ہم ایک ہی تقریب میں رخصتی اور ولیمہ ایک ہی دن کرلیں اور جو خرچہ آئے گا وہ آدھا آدھا کرلیں، ہال، کھانا وغیرہ اور دونوں راضی ہیں.

سوال یہ ہے کہ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور ایک کرنے میں کوئی شرعی قباحت ہے؟ آج کے دور میں اسے شلیمہ کہا جارہا ہے، اگر جائز نہیں تو جائز صورت کیا ہے؟  نیز یہ بھی بتا دیں کہ ولیمہ مسنونہ کسے کہاجاتا ہے؟ کیا شلیمہ کی صورت میں بھی ولیمہ ادا ہوجائے گا؟

نوٹ: نکاح رخصتی سے چند دن پہلے ہوجائے گا۔

جواب

ولیمہ اس کھانے کو کہا جاتا ہے جو شبِ زفاف کے بعد کھلایا جائے اور اصولی طور پر ولیمہ لڑکے والوں کو کرنا چاہیے ، البتہ  اگر لڑکی والے اپنی خوشی سے بغیر کسی دباؤ کےلڑکے والوں کے ساتھ مل کر مشترکہ دعوت کرنا چاہتے ہیں، تو یہ بھی جائز ہے، اس سے بھی ولیمہ کی سنت ادا ہوجائے گی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ووليمة العرس سنة، ‌وفيها ‌مثوبة ‌عظيمة وهي إذا بنى الرجل بامرأته ينبغي أن يدعو الجيران والأقرباء والأصدقاء ويذبح لهم ويصنع لهم طعاما، وإذا اتخذ ينبغي لهم أن يجيبوا، فإن لم يفعلوا أثموا قال - عليه السلام -: «من لم يجب الدعوة، فقد عصى الله ورسوله، فإن كان صائما أجاب ودعا، وإن لم يكن صائما أكل ودعا، وإن لم يأكل أثم وجفا» ، كذا في خزانة المفتين.

 ولا بأس بأن يدعو يومئذ من الغد وبعد الغد، ثم ينقطع العرس والوليمة، كذا في الظهيرية."

(كتاب الكراهية، ج:5، ص:343، ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707102026

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں