
ایک مقام پر مسجد کی تعمیر نو کا عمل جاری ہے ، پرانی مسجد کی جگہ کم پڑ گئی ہے اور پیچھے کی سمت میں توسیع ممکن نہیں ہے پہاڑی کی وجہ سے اور آگے کی سمت میں ایک شخص اپنی زمین دے رہا ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ زمین کا نچلا حصہ میں وقف نہیں کرتا، وہ میرے استعمال میں ہوگا اور اوپر کا حصہ مسجد کے لیے دیتا ہوں ، اب اوپر والے حصے کو مسجد میں شامل کرنے کے لیے لینٹر ڈال کر فرش بنایا گیا ہے، لیکن وہاں کے علماء کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں وہ جگہ مسجد شرعی نہیں کہلائے گی؛ کیوں کہ مسجد کے لیے نیچے سے اوپر تک وقف ضروری ہوتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا وہ حصہ جو شامل کیا جا رہا ہے مسجد شرعی کہلائے گا یا نہیں ؟وہاں اعتکاف کرنے کا کیا حکم ہوگا؟ وہاں نماز پڑھنے کا ثواب مسجد والا ہے یا کم ہے؟ اگر مسجد شرعی نہیں ہے تو کیا جگہ کو شامل کیا جائے یا نہیں؟
واضح رہے کہ مسجدِ شرعی کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ تحت الثری ٰ (زمین کی نیچے تہہ) سےلےکر آسمان تک مسجد ہو ، اس کے اوپر اور نیچے مسجد کے علاوہ کوئی تعمیر نہ ہو، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ مسجد کی جو توسیع مذکورہ شخص کی مملوکہ زمین کی چھت پر ہوگی تو ایسی صورت میں اس کے اوپر والی جگہ شرعی مسجد نہیں بنے گی، بلکہ یہ عرفی مسجد ہوگی،اس جگہ میں نماز باجماعت ادا کرنا جائز ہے، اس سے جماعت کی نماز کا ثواب بھی ملے گا، لیکن مسجد شرعی میں نماز پڑھنے کا جو ثواب ہے وہ اس میں نہیں ملے گا، نیزاس میں اعتکاف بھی درست نہیں ہوگا۔
باقی اگر مسجد میں نمازیوں کے لیے بالکل جگہ نہ ہو اور تنگی ہو اس جگہ کو شامل کرکے نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں، البتہ اعتکاف وغیرہ اس حدود میں نہ کرایا جائے۔
"البحر الرائق " میں ہے:
"حاصله: أن شرط كونه مسجداً أن يكون سفله وعلوه مسجداً؛ لينقطع حق العبد عنه؛ لقوله وتعالى: ﴿وَاَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰهِ﴾ [الجن: 18] بخلاف ما إذا كان السرداب أو العلو موقوفاً لمصالح المسجد، فإنه يجوز؛ إذ لا ملك فيه لأحد، بل هو من تتميم مصالح المسجد، فهو كسرداب مسجد بيت المقدس، هذا هو ظاهر المذهب، وهناك روايات ضعيفة مذكورة في الهداية، وبما ذكرناه علم أنه لو بنى بيتاً على سطح المسجد لسكنى الإمام، فإنه لا يضر في كونه مسجداً؛ لأنه من المصالح، فإن قلت: لو جعل مسجداً ثم أراد أن يبني فوقه بيتاً للإمام أو غيره، هل له ذلك؟ قلت: قال في التتارخانية: إذا بنى مسجداً، وبنى غرفةً وهو في يده، فله ذلك، وإن كان حين بناه خلى بينه وبين الناس، ثم جاء بعد ذلك يبني، لا يتركه. وفي جامع الفتوى: إذا قال: عنيت ذلك، فإنه لا يصدق اهـ."
(5/ 271، کتاب الوقف، فصل فی احکام المسجد، ط: دارالکتاب الاسلامی، بیروت)
"فتاوی شامی" میں ہے:
"(وإذا جعل تحته سرداباً لمصالحه) أي المسجد (جاز) كمسجد القدس، (ولو جعل لغيرها أو) جعل (فوقه بيتاً وجعل باب المسجد إلى طريق وعزله عن ملكه لا) يكون مسجداً.
(قوله: وإذا جعل تحته سرداباً) جمعه سراديب، بيت يتخذ تحت الأرض؛ لغرض تبريد الماء وغيره، كذا في الفتح، وشرط في المصباح: أن يكون ضيقاً، نهر، (قوله: أو جعل فوقه بيتاً إلخ) ظاهره أنه لا فرق بين أن يكون البيت للمسجد أو لا، إلا أنه يؤخذ من التعليل أن محل عدم كونه مسجداً فيما إذا لم يكن وقفاً على مصالح المسجد، وبه صرح في الإسعاف فقال: وإذا كان السرداب أو العلو لمصالح المسجد أو كانا وقفا عليه صار مسجداً. اهـ. شرنبلالية".
(کتاب الوقف، 4/ 357، ط: سعید)
حاشية الشلبي علی تبيين الحقائق میں ہے:
"قوله في المتن ومن جعل مسجدا تحته سرداب) قال في الهداية : ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل باب المسجد إلى الطريق وعزله فله بيعه وإن مات يورث عنه قال الأتقاني وهذا ظاهر الرواية وهو من خواص الجامع الصغير. اهـ. (قوله والمسجد لا يكون إلا خالصا لله تعالى إلخ) ولأن اتخاذ المسجد عرف بالشريعة وفي الشريعة لم يكن المسجد إلا وما فوقه وتحته لله ألا ترى إلى مسجد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - الذي بناه بالمدينة وإلى المسجد الحرام الذي بناه إبراهيم - صلوات الله وسلامه عليه - بمكة وإلى مسجد بيت المقدس الذي بناه داود النبي - صلوات الله وسلامه عليه - بالرخام والمرمر وجعل عليه قبة من ياقوت أحمر وجعل فوق ذلك جوهرا يضيء فراسخ تغزل بضوئها النساء في ظلمة الليالي فكل مسجد لم يكن كذلك بأن لا يكون خالصا لله لم يجز، أورد أبو الليث هنا سؤالا وجوابا فقال: فإن قيل أليس مسجد بيت المقدس تحته مجتمع الماء والناس ينتفعون به قيل إذا كان تحته شيء ينتفع به عامة المسلمين يجوز لأنه إذا انتفع به عامة المسلمين صار ذلك لله تعالى أيضا، وأما الذي اتخذ بيتا لنفسه لم يكن خالصا لله تعالى فإن قيل لو جعل تحته حانوتا وجعله وقفا على المسجد قيل لا يستحب ذلك ولكنه لو جعل في الابتداء هكذا صار مسجدا وما تحته صار وقفا عليه ويجوز المسجد والوقف الذي تحته ولو أنه بنى المسجد أولا ثم أراد أن يجعل تحته حانوتا للمسجد فهو مردود باطل، وينبغي أن يرد إلى حاله إلى هنا لفظ الفقيه، والسرداب بكسر السين كذا في ديوان الأدب وهو بيت تحت الأرض للتبريد. اهـ. مغرب. اهـ. أتقاني."
(كتاب الوقف، 3 / 330، ط: المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة )
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144701101505
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن