
آج میں گندم کی کٹائی میں مصروف تھا تو میرے دل میں ظہار کا شک پیدا ہوگیا اس وقت میں نے منہ سے کچھ بھی نہیں کہا ،لیکن دل میں کہا، تو کیا دل میں کچھ بھی کہنے سے ظہار ہوتا ہے؟، اگر کوئی بندہ دل میں ظہار کےالفاظ کہے لیکن منہ سے نہیں کہے تو کیا ظہار ہوگا اور اب مجھے وہم سا ہوگیا کہ کہیں اس سے ظہارتو نہیں ہوگا اوراب مجھے گزرے وقت کا بھی شک ہوگیا ہے کہیں یہ الفاظ تو بولے نہیں ہوں گے، لیکن مجھے یاد بھی نہیں آرہا ہے، اب بہت کوشش کی یاد کرنے کا لیکن کچھ یاد نہیں آرہا ہے لیکن شک سا ہوگیا ہے ،کیا یہ میرا وہم ہے؟
اور دوسری بات بعض اوقات اپنی ماں کی کسی خاصیت یا خامی کے بارے میں بات ہورہی ہو اور بندہ کہےمثال کے طور پر تم میری دادی یا ماں کی طرح ہو وہ بھی کھانے کے وقت پانی نہیں رکھتی تھی اور تم بھی نہیں رکھتی ہو توکیا اس بھی ظہار ہوگا ؟اور جس طرح میں نے سوال میں ظہار کے بارے میں لکھا تو اس لکھنے کے وجہ سے بھی تو ظہار نہیں ہوگا ؟
صورت مسئولہ میں جب سائل کو الفاظ کی ادائیگی میں شک ہے کہ اس نے زبان سے ادا کیے ہیں یا سوچے ہیں نیز وسوسے کی بیماری بھی ہے تو محض شک اور وسوسوں سے طلاق یا ظہار کا وقوع نہیں ہوتا ؛ اس لیے وساوس سے پریشان نہیں ہونا چاہیے، وسوسے کا حل یہی ہے کہ اس کی طرف توجہ نہ دی جائے، وسوسہ آتے ہی اپنے آپ کو کسی کام میں مشغول کرلیا جائے۔
نیز سوال میں ذکر کی گئی دوسری صورت کہ کسی خوبی یا خامی میں کسی عورت کے بارے میں یہ کہنا کہ تم فلاں خاصیت یا خامی میں میری دادی یا ماں کی طرح ہو، اس سے بھی ظہار واقع نہیں ہوتا۔
فتاوی شامی میں ہے:
’’قال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل: موسوس؛ لأنه يحدث بما في ضميره. وعن الليث: لايجوز طلاق الموسوس‘‘.
(کتاب الجهاد،باب المرتد،ج:4، ص:224، ط:دار الفکر بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101635
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن