
میں نے اپنے ایک بیٹے کا نام شہویر رکھا ہے اور ایک کا نام شہمیر، تو مجھے بتائیں یہ دونوں نام بہتر ہیں ؟ اوراگر اسلامک ویو دیکھا جائے تو دونوں ناموں کےکہیں برے معنی تونہیں ہیں ؟
”شہویر“اور”شہمیر“ دونوں فارسی زبان کےا لفاظ ہیں ،”شہویر “شاہ ویر سے اور”شہمیر “شاہ میر سے مرکب ہے،فارسی میں” شاہ“ سردار ،امیر ،اورحاکم کے معنی میں آتاہے،اور”ویر“ کا معنی ہےبہادر،شجاع ،دلیر ،تو اس طرح ”شاہ ویر“کا معنی ہوگا،بہادروں کا سردار۔اور”میر“ امیر کا مخفف ہے،اورامیر آقا،سردار،اورحاکم کے معنی میں استعمال ہوتاہے،اس طر ح ”شاہ میر“کا معنی ہوگا،امیر،یا سردار کا بادشاہ۔
معنوی لحاظ سے دونوں معنی درست ہیں ،البتہ” شہمیر“میں مبالغہ پایاجاتاہے،آپﷺ نے ایسے نام کو پسند نہیں فرمایا کہ جس میں مبالغہ ہو،لہٰذا شرعی لحاظ سے ”شہویر “نام رکھنابلاکراہت درست ہے،اور”شہمیر “نام رکھنا مبالغہ پائے جانے کی وجہ سےپسندیدہ نہیں ہے،اس لیے بہتر ہے کہ اس نام کو تبدیل کرکے کوئی دوسرا نام رکھاجائے۔
مشکاۃ شریف میں ہے :
"عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتفاءل ولا يتطير وكان يحب الاسم الحسن. رواه في شرح السنة"
(باب الفال والطیرۃ،ج:2،ص: 1290،ط:المکتب الاسلامي بیروت)
وفیه ایضاََ:
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أخنى الأسماء يوم القيامة عند الله رجل يسمى ملك الأملاك". رواه البخاري. وفي رواية لمسلم، قال: " أغيظ رجل على الله يوم القيامة وأخبثه رجل كان يسمى ملك الأملاك لا ملك إلا الله".
(کتاب الآداب:باب الأسامي:ج:3،ص:1345،ط:المکتب الاسلامي بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100659
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن