
کیا میں اپنے بیٹے کا نام شاہ محمد رکھ سکتا ہوں؟
”شاہ“ فارسی زبان کا لفظ ہے، اس کا معنیٰ ہے،”باد شاہ، آقا، مالک،عظیم“ اور محمد کا معنیٰ ہے”تعریف کرنے والا یا جس کی تعریف کی جائے“۔
معنیٰ کے اعتبار سے یہ نام رکھنا جائز ہے، البتہ اگر صرف محمد نام رکھا جائے تو یہ زیادہ باعثِ برکت و فضیلت ہے۔
فیروز اللغات میں ہے:
”شاہ:آقا، مالک،باد شاہ،بڑا، عظیم.“
(مادہ ش،ا،ہ،ص:482،فیروز سنز)
جلاء الأفهام میں ہے:
"الفصل الثالث: في معنى اسم النبي صلى الله عليه وسلم، واشتقاقه. حيث بين فيه معنى اسم محمد وأنه منقول من الحمد، وبين أنه مشتق إما من اسم الفاعل، أو المفعول."
(الكتاب موضوعه ومحتواه، الفصل الثالث: في معنى اسم النبي صلى الله عليه وسلم، ص:27، ط:دار ابن حزم (بيروت)
مسلم شریف میں ہے:
"سمّوا بإسمي، ولا تكنوا بكنيتي".
ترجمہ:”یعنی میرے نام پر نام رکھو، البتہ میری کنیت اختیار نہ کرو۔ “
(کتاب الآداب،رقم الحديث: 2131، ج:3، ص:1682،ط: دار احیاء التراث العربی)
العرف الشذی میں ہے:
"وفي رواية في المعجم للطبراني: «من سمى ولده محمداً، أنا شفيعه». وصحّحها أحد من المحدثين وضعّفه آخر."
(باب ما جاء یستحب من الأسماء، ج:4، ص:181 کتاب الآداب، ط: دارإحیاء التراث العربي، بیروت)
”سیرتِ حلبیہ میں ایک اور معضل روایت نقل کی گئی ہے کہ : قیامت کے دن ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اےمحمد! اٹھیے اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوجائیے ، تو ہر وہ آدمی جس کا نام ”محمد“ ہوگا یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ اسے کہا جارہا ہے وہ (جنت میں جانے کے لیے) کھڑا ہوجائے گا تو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اِکرام میں انہیں جنت میں جانے سے نہیں روکا جائےگا“۔
"وفي حديث معضل: «إذا كان يوم القيامة نادى منادٍ: يا محمد! قم فادخل الجنة بغير حساب! فيقوم كل من اسمه محمد، يتوهم أن النداء له؛ فلكرامة محمد صلى الله عليه وسلم لا يمنعون»".
( باب تسمیته ﷺ محمداً واحمد، ج:1، ص:121، ط: دارالکتب العلمیة)
” امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”میں نے اہلِ مکہ سے سنا ہے کہ جس گھر میں ”محمد“ نام والا ہو تو اس کی وجہ سے ان کو اور ان کے پڑوسیوں کو رزق دیا جاتا ہے“۔
"سمعت أهل مكة يقولون: ما من بيت فيه اسم محمد إلا نمي و رزقوا و رزق جيرانهم".
(كتاب الشفاء، الباب الثالث، الفصل الأول،ج:1،ص:176، ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101788
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن